ارضِ خیبراصلاً یہودیوں کا علاقہ نہیں ، وہ جزیرۂ عرب میں مہمان بن کرداخل ہوئے تھے

Updated: January 20, 2023, 1:04 PM IST | maulana nadeem al wajidi | MUMBAI

سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز کی گزشتہ اقساط میں سلاطین عالم کے نام لکھے گئے مکتوبات گرامی کا تذکرہ کیا گیا۔ زیر نظر قسط میں ملاحظہ کیجئے غزوۂ خیبر کا پس منظر اور سورہ فتح کا نزول ۔ یہودیوں کی عرب آمد کی مختصر تاریخ بھی پڑھئے

The Lord of the worlds promised the Muslims that you will enter Makkah very soon as conquerors; Photo: INN
رب العالمین نے مسلمانوں سے وعدہ فرمایا تھا کہ مکہ مکرمہ میں بھی تم لوگ بہت جلد فاتح بن کر داخل ہوگے; تصویر:آئی این این

خیبر ایک شہر کا نام ہے، مدینہ منورہ سے اس کا فاصلہ تقریباً ۱۶۵؍ کلو میٹر ہے، سطح سمندر سے اس کی بلندی ۸۵۴؍میٹر ہے۔ شمال کی جانب شام کی طرف جانے والی شاہراہ تبوک پر واقع ہے۔ یہ علاقہ شروع ہی سے بڑا سر سبزوشاداب اور زرخیز رہا ہے، یہاںپانی کی فراوانی ہے، کھجوروں کے باغات کثرت سے ہیں، دوسرے پھل بھی وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ زمین قابل کاشت ہے اس لئے سبزیاں اور غلّہ جات بھی اگائے جاتے ہیں۔ خیبر بڑی بڑی وادیوں پر مشتمل ہے اور آبادی بھی اچھی خاصی ہے۔
ارضِ خیبر شروع ہی سے بڑی زرخیز رہی ہے، اگرچہ یہاں بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں سیاہ پتھریلی چٹانیں زمین میں ابھری ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں یہاں آتش فشاں پہاڑوں میں دھماکہ ہوا تھا جس سے کئی پتھریلی وادیاں بن گئی ہیں اس کے باوجود یہاں کی زمین کا بڑا حصہ قابل کاشت ہے، جس میں یہودیوں نے کھجوروں کے بڑے بڑے باغ لگارکھے تھے۔ صرف خیبر کے باغوں میں درختوں کے ۴۸؍ہزار جھنڈ تھے، باغات میں غلّے کی کاشت بھی ہوتی تھی۔ فی الحال اس علاقے میں قبیلۂ عنزہ کی نسل کے لوگ رہتے ہیں جو غرس سے نورشیر تک جانے والی پوری وادی میں سکونت پزیر ہیں۔ سرکار دو عالم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہاں ملی جلی آبادی تھی، عرب بھی تھے، اور یہود بھی ، آخر الذکر قوم کی اکثریت تھی  اور وہ اس علاقے میں مرکزی حیثیت اختیار کئے ہوئے تھے۔
ارضِ خیبر اصلاً یہودیوں کا علاقہ نہیں ہے بلکہ جزیرۂ عرب میں یہ لوگ مہمان بن کر داخل ہوئے تھے۔ قوقاز اور شام کے علاقوں میں جب یہودی اپنے کرتوت کی وجہ سے مقابل قوموں کی جارحیت کا نشانہ بنے تو انہوں نے اسی میں عافیت سمجھی کہ وہ ان علاقوں کو چھوڑ کر کسی اور جگہ کا رخ کریں۔ یہودی اس جگہ جہاں آج خیبر ہے پہنچے تو انہوں نے وہاں کے عرب باشندوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں یہاں قیام کی اجازت دے دیں، عرب شروع ہی سے فیاض اور دریا دل واقع ہوئے ہیں، ان کی مہمان نوازی اور مظلوموں کے تئیں ان کی نرم مزاجی بھی مشہور ہے، اس لئے یہودیوں کو سہولت کے ساتھ اس علاقے میں بسنے کی اجازت مل گئی۔ یہ محنتی اور جفاکش قوم ہے، اگرچہ سازشی ذہن بھی رکھتی ہے، اور احسان فراموشی میں تو اس کا کوئی ثانی ہی نہیں،چنانچہ یہ لوگ  جلد ہی خیبر میں چھا گئے، وہاں کی زمینوں کو قابل کاشت بناکر انہوں نے کھجور کے باغات لگائے اور مزے سے زندگی بسر کرنے لگے۔  یثرب یہاں سے قریب تھا، کچھ یہودی قبیلے وہاں بھی منتقل ہوگئے۔ تبّع بادشاہ کے زمانے میں بھی کافی یہودی یہاں بس گئے تھے۔
جس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے اس وقت یہودیوں کے کئی بڑے قبیلے جیسے بنو قینقاع، بنو نظیر اور بنو قریظہ یہاں آباد تھے۔ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے یہودیوں سے یہ امید تھی کہ وہ اس آسمانی دعوت کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر تشریف لائے تھے قبول کرنے میں پس وپیش نہیں کریں گے، مگر انہوں نے اس دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے اس کے خلاف معاندانہ رویّہ اختیار کیا، مشرکینِ عرب بالخصوص مشرکینِ مکہ کے ساتھ مل کر انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ یہودیوں کا ایک مشہور قبیلہ تھا بنوقریظہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دینی مصلحتوں کی بنا پر اس قبیلے سے اتحاد باہمی کا معاہدہ کرلیا تھا۔ اس معاہدے میں یہ دفعہ بھی شامل تھی کہ وہ مسلمانوں پر ہونے والے کسی بھی حملے میں دشمن کا ساتھ نہیں دیں گے بلکہ مسلمانوں کی حمایت کریں گے اور ان کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ لیکن جب قریشِ مکہ دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے ارادے سے آئے تو بنو قریظہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد توڑ کر قریش کی مدد کی۔ سابقہ قسطوں میں، غزوۂ خندق کے بیان میں اس کی تفصیل آچکی ہے۔اس غزوہ  سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ابھی ہتھیار نہ رکھیں بلکہ بنو قریظہ کو ان کی بدعہدی اور غداری کی سزا دیں، چنانچہ مسلمانوں نے ۲۵؍ روز تک بنو قریظہ کا محاصرہ کیا، بالآخر وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے اور اپنے انجام کو پہنچے۔
اس سے پہلے بنو نضیر کو مدینے سے جلا وطن کیا گیا تھا۔ اس قبیلے کے زیادہ تر افراد  یہاں سے نکل کر خیبر میں آباد ہوگئے تھے جن میں ان کے زعماء بھی تھے۔ اس واقعے سے بہت پہلے معرکہ ٔ  بدر کے بعد بنو قینقاع نے بھی اسی طرح کی حرکتیں کی تھیں۔ ان سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ لوگ مدینہ اور مضافاتِ مدینہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ ان قبیلوں کے زیادہ تر لوگ مدینے سے تو نکل گئے مگر خیبر میں جاکر آباد ہوگئے، اس طرح ان کی آبادی بڑھ گئی، ان کی طاقت میں بھی اضافہ ہوگیا، اور چونکہ یہ قبائل تجارت پیشہ تھے اس لئے خیبر پہنچ کر بھی انہوں نے اپنا پیشہ برقرار رکھا جس سے ان کی اقتصادی حالت بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی۔ غرض یہ کہ مدینے سے جلاوطن ہونے والے بنو نضیر اور بنو قینقاع کے بہت سے فسادی لوگ خیبر میں جمع ہوگئے اور اپنے مذہبی بھائیوں کی سازش میں شریک ہوگئے۔ اس طرح یہ علاقہ جزیرۃ العرب میں یہودیوں کی طاقت کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ، ان کے قلعوں میں بیس ہزار مسلح افواج ہمہ وقت موجود رہتی تھیں۔
خیبر کے یہود بھی اسلام دشمنی میں بنو قریظہ سے کم نہ تھے، انہوں نے بھی غزوۂ احزاب کے موقع پر قریش کی بھرپور مدد کی تھی، اس لئے ضروری تھا کہ ان کو بھی سبق سکھایا جائے، بنو نضیر کے سردار حُيّ بن اَخطَب کے قتل کے بعد سلاّم بن أبی الحقیق (ابورافع عبد اللہ) یہود کا سربراہ مقرر ہوا تھا۔ اس نے خیبر کو مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا مرکز بنالیا تھا، وہ اسلام کے خلاف مسلسل زہر اگلا کرتا تھا اور آس پاس کے قبیلوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عتیکؓ کو خفیہ مہم پر بھیجا جنہوں نے  اسے کیفرکردار تک پہنچا دیا، اس کے بعد یسیر بن ازام خیبر کا سردار بنا، وہ بھی اپنے پیش رؤوں کے نقش قدم پر چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فہمائش بھی کی اور عبد اللہ بن اُنیس اور عبد اللہ بن رواحہ کو بھیج کر اسے یہ پیشکش بھی کی کہ وہ مدینہ آکر صلح کی بات چیت کرے۔ وہ مذاکرات کے لئے روانہ بھی ہوا، راستے میں اس نے حضورؐؐ کے قاصدوں کو نہتا کرنے کی کوشش کی جس سے کشیدگی پیدا ہوگئی، دونوں طرف سے تلواریں نکل آئیں اور یسیر بن رزام مارا گیا۔ اس واقعے کے بعد اہل خیبر سے مصالحت کی کوئی امید باقی نہیں رہی ۔چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی تک خیبر پر چڑھائی کرنے کا حکم نہیں ملا تھا، اس لئے سن چھ ہجری کے اختتام تک انہیں مہلت ملتی رہی۔ گزشتہ صفحات میں صلح حدیبیہ کا ذکر آیا ہے، سرور کائنات ؐ  اپنے ۱۴؍ سو اصحاب ؓ کے ساتھ بغرض عمرہ تشریف لے گئے تھے مگر قریش نے جانے نہیں دیا۔ آپؐ نے بعض مصالح کی بنا پر مصالحت کرلی اور عمرہ کئے بغیر واپس تشریف لے آئے، آپؐ  اور تمام صحابہ احرام پہنے ہوئے تھے، مصالحت کے بعد سب نے قربانی کی، حلق کرایا اور احرام کھول دیا۔ 
سورۂ فتح کا نزول
ابھی راستے ہی میں تھے کہ سورۂ فتح نازل ہوئی، اس میں اللہ رب العزت نے یہ وعدہ فرمایا کہ تمہیں بہت سی فتوحات حاصل ہوں گی، اور بڑی غنیمتیں تمہارے ہاتھ آئیں گی، ایک فتح تو بہت جلد حاصل ہونے والی ہے، اور مکہ مکرمہ میں بھی تم لوگ عنقریب فاتح بن کر داخل ہوگے۔ 
اس سورہ میں دوآیتیں ہیں: 
’’بیشک اﷲ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، سو جو (جذبۂ صدق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اﷲ نے معلوم کر لیا تو اﷲ نے ان (کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتح (خیبر) کا انعام عطا کیا۔اور بہت سے اموالِ غنیمت (بھی) جو وہ حاصل کر رہے ہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔‘‘   (الفتح:۱۹۔۱۸) 
   مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیتوں میں جس فتح کا ذکر ہے اس سے فتح خیبر مراد ہے، (تفسیر الطبری: ۲۲/۲۲۸، تفسیر البغوی: ۷/۳۰۶، تفسیر فتح القدیر:  ۶/۴۱۷)  
 یہی وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے خیبر پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا، اور اس پر بلا تاخیر عمل بھی ہوا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف سبقت نہ فرماتے تو  خیبر کے یہود خود ہی مدینے پر حملہ کردیتے کیونکہ اس سمت میں اُن کی تیاریاں پورے طور پر جاری تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK