رَمضان کا سبق

Updated: May 29, 2020, 12:33 PM IST | Sayed Irfan Munawwar Gilani

ماہ ِرمضان ہمیں کچھ زادِ راہ دے گیا ہے۔ اس پونجی کو روز بروز بڑھانے کی ضرورت ہے

Ramadan - Pic : INN
رمضان ۔ تصویر : آئی این این

 رمضان المبارک کا مہینہ ایک مرتبہ پھر اپنی پوری آب و  تاب کے ساتھ آیا، غفرانِ عام کا مینہ برسا اور ہم ابھی رحمتوں کی اس بہار  سے بہرہ مند ہو ہی رہے تھے کہ یہ ہم سے رخصت بھی ہوگیا۔
 زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ وقت تھمتا نہیں ہے۔ نعمتوں کی بارش ہورہی ہو، خوشیوں کا دلکش موسم ہو، راحتوں اور فرحتوں سے ہمارا آنگن بھر رہا ہو، یا پھر مصائب و مشکلات آن گھیریں اور دکھ درد، رنج و اندوہ کے ابر چھا جائیں، حالات ایک جیسے کبھی نہیں رہتے۔ گزرتا ہر لمحہ ، قرآن کی اس پکار کا امین ہے کہ والعصر، یعنی غور کرو وقت اور زمانے کے تیزی سے گزرنے اور بدلنے پر، تم خسارے میں ہو!
 انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی زندگی کا کوئی اور سچ ہو نہ ہو، اُس کی موت اُس کی زندگی کا سب سے بڑا  سچ ہوتا ہے۔ یہ بات کہ دنیا فانی ہے، میں فانی ہوں، اس کو پہچاننا، اس کو مان لینا اور واقعی مان جانا، ایمان کے لئے شرط ِ لازم تو ضرور ہے، البتہ یہ سمجھ بیٹھنا کہ ایمان کا اظہار ہی کافی ہے ، نہ صرف ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے بلکہ اپنے آپ کو دھوکا و فریب دینے کے مترادف ہے۔ یہ تو فلاح کی سیڑھی پر پہلا قدم ہے۔ گویا پیدائش سے ہی خسارے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
 ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون، اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کر رہے ہیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں۔ جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے، اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے ۔‘‘ (عنکبوت:۲؍تا۵)
 یہ دنیا کا قانون تو ہوسکتا ہے کہ۱قرار باللسان سے جان خلاصی ہوجائے لیکن بارگاہِ ایزدی میں عدل کا تقاضا یہی ہے کہ کھرے اور کھوٹے میں امتیاز اعمال کی بنیاد پر ہی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان پر روشنی ڈالتے ہوئے یہی مقصد تو بیان فرمایا کہ ’’اس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔‘‘ (الملک:۲) اس امتحان میں اللہ رب العالمین ہمیں طرح طرح سے آزمائے گا۔ وہ فرماتا ہے: ’’اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔‘‘  (البقرہ:۱۵۵)
 اس سے کوئی مفر نہیں۔ موت کو تو ہم دور گردانتے ہیں اور اُس کو واقعی سمجھنا بھی شاید مشکل محسوس ہوتا ہے ، مگر ان کیفیات و واقعات سے تو ہر وقت دوچار رہتے ہیں۔ تاہم، اس بات میں ہمارے لئے بڑی ڈھارس ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا: ’’اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ۔‘‘ (البقرہ:۲۸۶) ہم پر اس دنیا کی بڑی سے بڑی آزمائش آئے، کٹھن سے کٹھن  ابتلاء ہو، ہمارے اندر وہ قوت پنہاں ہے جس سے ہم اس کا مقابلہ پامردی سے کرسکتے ہیں۔ ہم غور کریں تو رمضان کے روزے اسی احساس کو پروان چڑھانے کے لئے فرض کئے گئے:  ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیئے  گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی ۔‘‘ (البقرہ:۱۸۳)
 یہ تقویٰ کیا ہے؟ اسی احساس کا نام ہے۔
 ہم رمضان میں اپنے کھانے پینے کی بالکل جائز اور فطری ضروریات سے رک گئے، صرف اس لئے کہ اللہ نے ہم سے اس کا تقاضا کیا۔ خواہش کے باوجود، نہ کھلے نہ چھپے، کچھ کھایا نہ پیا۔ وسائل موجود تھے، اُن پر اختیار بھی تھا، لیکن صرف اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ کی رضا و خوشنودی کی خاطر ہم نے اپنا ہاتھ روکے رکھا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے اندر وہ قوت ِ ارادی اور قوتِ برداشت بدرجۂ اتم موجود ہے جس سے ہم اُن کاموں سے رک جائیں جو اللہ کو ناپسند ہیں ،اور اُن اعمال کی طرف دوڑیں جو اللہ کو محبوب ہیں۔ جب یہ احساس پروان چڑھتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور  وہ ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے تب ہی ہم قرآن کی ہدایت کے ، جس کا نزول رمضان المبارک میں ہوا، مستحق قرار پاتے ہیں:’’یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں (یہ)  ہدایت ہے  پرہیز گار لوگوں کے لئے۔‘‘  (البقرہ:۲)
 آج ہر محلے میں تراویح کی نماز ہوتی ہے، قریہ قریہ ، نگر نگر فہم قرآن کلاسیز منعقد ہورہی ہیں، دروسِ قرآن کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے لیکن معاشرے میں اس کے اثرات مفقود نہ سہی تو محدود ضرور ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ قرآن انسان اور معاشرے میں حریت فکر کا جو  انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے اُس کے بنیادی تقاضوں اور منازل سے قرآن کے سننے اور سنانے والے، پڑھنے اور پڑھانے والے، سبھی غافل ہیں، کجا کہ وہ جو قرآن کی دعوت کو لے کر اٹھنے کے دعویدار ہوں۔ وہ لوگ اگر آج مرجع خلاق نہیں تو اس کی بھی شاید یہی وجہ ہے۔ حاملِ قرآن ہونا کوئی معمولی بات نہیں،فرمایا:
 ’’اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے، یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ وہ (اپنی حالت پر) غور کریں ۔‘‘ (الحشر:۲۱)
 پس اگر ہم قرآن کو سمجھنا چاہتے ہیں، اُس کی دعوت کو لے کر اٹھنا چاہتے ہیں، اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو اُس کی اقدار کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں تو پھر اپنے اندر  وہ احساس  اور سوز پیدا کرنا نیز اُسے  پروان چڑھانا ہوگا جو اس کیلئے شرطِ اوّل  ہے اور جس کی تعلیم و تربیت کے لئے رمضان آیا۔
 یہ رمضان ہمیں کچھ زادِ راہ دے گیا ہے۔ اس پونجی کو روز بروز بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تب ہی ہم قرآن و سنت کی دعوت لے اٹھنے کے اہل ہوں گے اور تب ہی پوری دنیا پر اپنے اسلاف کی طرح چھا جائیں گے۔ یہی مقصد ِ حیات اور راہِ نجات ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK