جمعہ اسلامی شعور کی تاریخ میں ہفتے کے تقویمی سلسلے کا نہ تو صرف ایک پڑاؤ ہے اور نہ ہی عبادتِ کا محض علامتی دن بلکہ یہ روحانی روایتوں کی تازگی، اجتماعی شعور کی بیداری، اور امت کے فکری توازن کی ازسر ِ نو تشکیل کا موقع ہےجس میں انسان اپنی منتشر داخلی کائنات کو یکجا کر کے ایک ایسی مقدس مرکزیت کی طرف بڑھتاہے جہاں فرد اور جماعت دونوں ایک ہی نور کی لَے میں سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں فرد اپنی تنہائیوں سے نکل کر جماعت کی وسعت میں آتا ہے اور جہاں جماعت فرد کے اندر چھپے نا کردہ سوالات تک رسائی حاصل کرتی ہے۔
خطیب کے الفاظ کو ہمیشہ سے ایک فکری امانت سمجھا گیا ہے کیونکہ وہ الفاظ ایک ایسی جماعت کے کانوں تک پہنچتے ہیں جو پورے ہفتے کی فکری تھکن لئے بیٹھی ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این
جمعہ اسلامی شعور کی تاریخ میں ہفتے کے تقویمی سلسلے کا نہ تو صرف ایک پڑاؤ ہے اور نہ ہی عبادتِ کا محض علامتی دن بلکہ یہ روحانی روایتوں کی تازگی، اجتماعی شعور کی بیداری، اور امت کے فکری توازن کی ازسر ِ نو تشکیل کا موقع ہےجس میں انسان اپنی منتشر داخلی کائنات کو یکجا کر کے ایک ایسی مقدس مرکزیت کی طرف بڑھتاہے جہاں فرد اور جماعت دونوں ایک ہی نور کی لَے میں سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں فرد اپنی تنہائیوں سے نکل کر جماعت کی وسعت میں آتا ہے اور جہاں جماعت فرد کے اندر چھپے نا کردہ سوالات تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ یہ باہمی ربط در حقیقت اُمّت کی فکری اور روحانی بقاء کا بنیادی ستون ہے۔
یومِ جمعہ کے احکاماتی بیان میں قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لئے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو ‘‘(سورہ جمعہ:۹)۔
اس آیت میں فَاسْعَوْا إِلٰی ذِکْرِ اللّٰہ میں محض قدموں کی چال نہیں،بلکہ خیالو ں کی پاکیزگی، ذہنوں کی صف بندی اور دلوں کی سمت آرائی بھی مضمر ہے جو منتشر خیالات اور یکجا ہوئے غبار کو غسل تطہیر دے کر وجود کو ایک نئی سمت اور ایک خوشگوار سکون عطا کرتی ہے۔ اور یہی جمالیاتی اور روحانی ہم آہنگی اجتماعِ جمعہ کو صرف ایک عبادتی عمل کے بجائے ایک اجتماعی فکری ریاضت بناتی ہے۔آپ جانتے ہیں احادیث میں جمعہ کو ’’سیدالایام‘‘ کہا گیا، اور اس دن کی بعض ساعتوں کو قبولیت ِ دعا کے لئے مخصوص قرار دیا گیا۔
احادیث میں جمعہ کے جن فضائل اور حکمتوں پر روشنی ڈالی گئی وہ محض عبا د تی ثواب کے بیان تک محدود نہیں، بلکہ امت کی فکری تربیت، شخصیت سازی، ذہنی وقار، اور اخلاقی رویّہ کی تشکیل کے لئے ایک گہرا اجتماعی نظام بھی ہے۔ دورِ رواں میں جب انسانی زِندگی حد درجہ تیز رفتار، منتشر اور ذہنی دباؤ سے بھری ہوئی ہے، اجتماعِ جمعہ ایک ایسا موقع ہے جو اُس کے ٹوٹتے ہوئے توازن کو بحال کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ نبویؐ اور بعد کے ادوار میں خطبہ ٔ جمعہ کبھی رسمی الفاظ کا مجموعہ نہیں رہا بلکہ وقت کے حالات، اخلاقی بحالی، معاشرتی اصلاح، فکری شعور کی بیداری اور ایمانی وجدان کی تازگی کا مظہر رہا ہے۔
خطبہ ٔ جمعہ کا تصوّر صرف نمازِ جمعہ کے ایک لازمی جز کی حد تک محدود نہیں،بلکہ یہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے ایک باشعور رہنما کا وہ ادبی اور فکری پیغام ہے جو امت کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرتا ہے۔ خطبہ ٔ جمعہ کا منبر اسی لئے ہمیشہ انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ منبر کا یہ مقام تاریخ میں کبھی محض رسمی قرار نہیں پایا۔ خطیب کے الفاظ کو ہمیشہ سے ایک فکری امانت سمجھا گیا ہے کیونکہ وہ الفاظ ایک ایسی جماعت کے کانوں تک پہنچتے ہیں جو پورے ہفتے کی فکری تھکن لئے بیٹھی ہوتی ہے۔
لیکن آج ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ منبر سے ا کثر جگہوں پر وہی معلوماتی تکرار سنائی دیتی ہے جسے سن کر ذہن بیدار ہونے کے بجا ئے اور زیادہ بے حس ہو جاتا ہے۔ روایت پسندی اپنی جگہ درست ہے، مگر روایت کو ذہنی جمود بنا دینا اس کی روح اور مقصد سے فکری انحراف ہے۔ منبر کو عصرِ حاضر کے تناظر میں امت کی فکری رہنمائی کا مرکز ہونا چاہئے، ایسا مرکز جہاں سے نہ صرف عبادت کی تلقین ہو بلکہ زندگی کی پیچیدگیوں کو سمجھنے، اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنے اور عالمی حالات کے ہنگاموں میں وحی ٔ اِلٰہی کی روشنی سے ا پنی جگہ تلاش کرنے کا شعور بھی پیدا ہو۔
سوشل میڈیا اور معلوماتی انبار کے اس دور میں آ ج کے نوجوان کا ذہن سوالات سے لبریز ہے۔ وہ تاریخ، سیاست، مذہب، اخلاق، شناخت اور مستقبل کے حوالے سے شبہات میں مبتلا ہے۔ اس کے سامنے مختلف بیانیے گتھم گتھا ہیں اور وہ نہیں جانتا کہ کس سمت سوچے، کس جانب قدم رکھے۔ اگر خطبہ اس کے سوالات کو نظر انداز کرے، اگر خطبہ محض رسمی عبارتوں تک محدود رہے، اگر خطبہ زندگی کے ان اصل مسائل سے نظریں چرائے جنہوں نے نوجوان کے ذہن کو بے سمت کر رکھا ہے، تو منبر کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ ایک باوقار خطبہ وہ ہے جو روایت، درپیش مسائل اور حقیقت پسندی کا حق ادا کرے۔ وہ ہر نئے سوال سے گریز نہ کرے بلکہ اسے حکمت اور دلیل کے ساتھ سامنے رکھے۔ وہ عبادت کی اہمیت کے تناظر میں یہ بھی سمجھائے کہ عبادت کا اصل مقصد محض حصول ثواب نہیں، بلکہ انسان کو باشعور، ذمہ دار اور بامقصد شخصیت میں ڈھالنا ہے۔ خطبہ اگر اِن فکری سمتو ں کا پاس رکھے تو اجتماعِ جمعہ عہدِ نبوی کی طرح پھر سے ایک عظیم فکری درسگاہ بن سکتا ہے۔
جمعہ کی تیاری بھی اپنی جگہ ایک مکمل تہذیبی عمل ہے۔ یہ صرف لباس، خوشبو یا پاکیزگی کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ ذہنی آمادگی ہے جس میں انسان دنیا کی ٹوٹ پھوٹ سے کچھ لمحوں کے لئے علاحدہ ہوتا ہے اور ایک پاکیزہ فضا میں سانس لیتا ہے۔ یہ تیاری اس کے اندر موجود لطافتوں کو جگاتی ہے، اس کی سوچ کو صاف کرتی ہے اور اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ منبر کی آواز کو سمجھ سکے، جذب کر سکے اور اپنی زندگی میں نافذ کر سکے۔ ایسے میں اگر جمعہ کی تیاری کو صرف ظاہری تطہیر تک محدود کر دیا جائے تو یہ اس کی روح کا انکار ہوگا۔ اصل تیاری وہ ہے جو انسان کے اندر کے خلا کو بھرے، اس کی سوچ میں یکسوئی پیدا کرے اور اسے ایک بہتر انسان بننے کی سمت لے جائے۔
جمعے کا سماجی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب گاؤں، شہر، محلے اور بستیوں کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو یہ منظر سماجی انصاف کی ایک عملی تصویر بن جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جس میں دولت مند اور غریب، تعلیم یافتہ اور ان پڑھ، طاقتور اور کمزور سب ایک سطح پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس میں اسلام کے اس اصول کی جھلک ملتی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق اور نیت سے ہے نہ کہ اس کے مادی وسائل سے۔ یہی مساوات کا تصور اجتماعی زندگی کا بنیادی ستون بنتا ہے۔ اگر جمعہ کی صفیں خلوص سے مملو ہوں تو معاشرہ میں سخت ترین فاصلے بھی پگھل سکتے ہیں۔
معاصر دنیا میں جہاں مسلمان مختلف بحرانوں سے گزر رہے ہیں، جمعہ ایک ایسا موقع ہے جو ان کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کو جوڑ سکتا ہے۔ خطیب اگر حالاتِ حاضرہ کی سنجیدگی کو محسوس کرتے ہوئے امت کو علم، حکمت اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھنے کی دعوت دے، تو یہ امت اجتماعی طور پر مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم جذبات میں بہت جلد بہہ جاتے ہیں لیکن عقل اور حکمت کی روشنی کمزور پڑ رہی ہے۔ جمعہ اسی حکمت کو از سرِ نو جگانے کا دن ہے۔
جمعہ انسان کو یہ یقین بھی دیتا ہے کہ اس کی زندگی محض حادثات کی بھول بھلیاں نہیں۔ ہر جمعہ ایک نئی ابتدا ہے، ایک ایسا نقطہ جہاں سے انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اپنے اعمال کی اصلاح کرتاہے اور اپنے رب کے سامنے عاجز ی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی احساس اسے قوت دیتا ہے، راستہ دکھاتا ہے اور اس کی زندگی کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے۔
جمعہ محض عبادت نہیں؛ ایک تہذیبی روایت، روحانی تجربہ، فکری تربیت گاہ اور اخلاقی نظام کا نام ہے۔ یہی وہ دن ہے جو فرد کو اس کی اصل شناخت سے آشنا کرتا ہے، اسے اپنی ذمہ داری کا پابند اور اُس عظیم امت کا حصہ بناتا ہے جس کی بنیاد توازن، حکمت اور عدل پر قائم ہے۔