• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب نام اور نسب کو فوقیت کا زینہ بنا لیا جائے تو فکر کی بلندی، پستی میں بدل جاتی ہے

Updated: January 02, 2026, 4:45 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

نام، ٹائٹل، ذات اور نسل انسان کی شناخت کے علامتی دائرے ہیں، نہ کہ فضیلت کے پیمانے۔ یہ وہ تعارفی حروف ہیں جن سے ایک فرد معاشرے میں پہچانا جاتا ہے مگر ان کا مقصد کسی دوسرے پر برتری قائم کرنا نہیں بلکہ انسانی تنوع کی تصویر کو مکمل کرنا ہے۔

Let scholars focus on humanity instead of highlighting themselves, their very existence will become a silent lesson. Picture: INN
اہلِ علم اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے بجائے انسانیت کو مرکز بنالیں ،ان کا وجود خود ایک خاموش درس بن جائے گا۔ تصویر: آئی این این
نام، ٹائٹل، ذات اور نسل انسان کی شناخت کے علامتی دائرے ہیں، نہ کہ فضیلت کے پیمانے۔ یہ وہ تعارفی حروف ہیں جن سے ایک فرد معاشرے میں پہچانا جاتا ہے مگر ان کا مقصد کسی دوسرے پر برتری قائم کرنا نہیں بلکہ انسانی تنوع کی تصویر کو مکمل کرنا ہے۔ جب نام اور نسب کو فوقیت کا زینہ بنا لیا جائے تو فکر کی بلندی پستی میں بدل جاتی ہےاور جب انہیں محض تعارف کی حد تک رکھا جائے تو انسانیت کی روح محفوظ رہتی ہے۔ اصل عظمت نہ لفظوں کے سابقوں میں ہے، نہ خاندانی دعوؤں میں بلکہ کردار کی سچائی، فکر کی وسعت اور عمل کی پاکیزگی میں ہے،وہ اقدار جو انسان کو انسان بناتی ہیں نہ کہ ایک دوسرے سے بلند و پست۔
اسی حقیقت کو اسلام نے نہایت وضاحت اور حکمت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ نام، نسب اور قبائل ترجیح اور برتری کا معیار نہیں بلکہ محض پہچان کا ذریعہ ہیں۔ قرآنِ مجید اعلان کرتا ہے: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لئے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات: ۱۳)۔ یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ نام، ذات اور قبیلہ صرف تعارف کے لئے ہیں، فضیلت کا اصل معیار تقویٰ ہے۔ یوں اسلام انسان کو ظاہری شناختوں کے غرور سے نکال کر اخلاقی بلندی اور روحانی پاکیزگی کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں انسان کی قدر اس کے عمل اور کردار سے متعین ہوتی ہے، نہ کہ اس کے نام اور نسب سے۔
 
 
ان واضح حقائق کے باوجود تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں تخریبی ذہن رکھنے والے افراد نے نام، ذات اور پہچان کو تعارف کے دائرے سے نکال کر تصادم کا میدان بنا دیا۔ جب شناخت کو شعور کے بجائے تعصب کے تابع کر دیا جائے تو عقل خاموش اور اخلاق مجروح ہو جاتا ہےاور انسان دلیل کے بجائے دعوؤں پر اتر آتا ہے۔ ناموں کی بنیاد پر صف بندی نہ کسی اخلاقی اصول سے ہم آہنگ ہے اور نہ کسی عقلی منطق پر پوری اترتی ہے، کیونکہ یہ رویہ انسان کو اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کے لیبل سے پرکھتا ہے۔ ایسی فکری پستی معاشروں میں نفرت، انتشار اور باہمی بے اعتمادی کو جنم دیتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مضبوط سماج وہی ہوتا ہے جو شناخت کو احترام کا ذریعہ بنائے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
نام اور پہچان پر مبنی تعصب کی چند بنیادی عقلی وجوہات یہ ہیں: پہلی یہ کہ بعض افراد اپنی ذاتی کمزوریوں اور فکری خلا کو چھپانے کے لئے شناختی نعروں کا سہارا لیتے ہیں، کیونکہ دلیل اور کردار کی محنت ان کے لئے مشکل ہوتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ محدود مطالعہ اور سطحی شعور انسان کو سادہ خانوں میں سوچنے کا عادی بنا دیتا ہے، جہاں پیچیدہ انسانی حقیقتیں ذات اور نام کے خانوں میں قید کر دی جاتی ہیں۔ تیسری وجہ نفسیاتی عدمِ تحفظ ہے، جو فرد کو کسی اجتماعی شناخت سے وابستگی کے سبب مصنوعی برتری کا احساس دلاتی ہے۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ تعصب طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کا آسان ہتھیار بن جاتا ہے، کیونکہ جذبات کو بھڑکا کر لوگوں کو متحد یا تقسیم کرنا عقل کو بیدار کرنے سے کہیں زیادہ سہل ہوتا ہے۔
اسلام نے اس متعصبانہ سوچ کی جڑ کو نہایت واضح اور دوٹوک انداز میں کاٹ دیا ہے اور قرآنِ مجید میں صاف اعلان کر دیا ہے کہ انسانوں کے درمیان برتری کی بنیاد نام، رنگ، نسل یا نسب نہیں بلکہ اعمال اور تقویٰ ہیں جیسا کہ سورہ الحجرات  کی مذکورہ آیت میں بیان ہوا ہے۔  یوں قرآن انسان کو تعصبات کے اندھیروں سے نکال کر عمل، کردار اور ذمہ داری کی روشنی میں پرکھنے کا آفاقی اصول عطا کرتا ہے، جہاں ہر فرد اپنی محنت اور سیرت کے ذریعے مقام پاتا ہے، نہ کہ اپنے نام یا نسل کے سہارے۔
 
 
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس تعصب کو زندہ رکھنے میں مسلمانوں کا وہ طبقہ بھی شریک نظر آتا ہے جس کے پاس علم کی کمی نہیں، بلکہ جس سے فہم، بصیرت اور اخلاقی قیادت کی توقع کی جاتی ہے۔ یاد رکھیں! علم جب کردار سے کٹ جائے تو وہ روشنی کے بجائے محض فخر کا چراغ بن جاتا ہے، اور ایسا چراغ خود کو تو نمایاں کرتا ہے مگر راستہ نہیں دکھاتا۔ یہی طبقہ جب نام، مسلک یا شناخت کو فوقیت کا معیار بناتا ہے تو اس کی کوتاہی دوہری ہو جاتی ہے: ایک طرف وہ قرآن کے واضح پیغام سے روگردانی کرتا ہے اور دوسری طرف معاشرے کو اس فکری تضاد کا عملی نمونہ فراہم کرتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی کو مجروح کرتا ہے بلکہ علم کی ساکھ کو بھی سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ پڑھے لکھے طبقے کا کردار محض علمی برتری تک محدود نہ رہے بلکہ اخلاص، سادگی اور عملی نمونے میں ڈھل کر سامنے آئے۔ اس طبقے کے افراد کو چاہئے کہ نام و نمود اور ظاہری شناختوں کی دوڑ سے خود کو بلند رکھیں اور اپنی زندگیوں سے یہ پیغام دیں کہ اصل عظمت خدمت، انکساری اور خلوص میں ہے۔ جب اہلِ علم اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے بجائے انسانیت کو مرکز بنالیں گے تو ان کا وجود خود ایک خاموش درس بن جائے گا۔ اسی سادگی اور بے لوث طرزِ عمل سے دل جڑیں گے، نفرتیں مٹیں گی اور وہ فضا جنم لے گی جس میں انسانیت کی فتح اور امنِ عام کا خواب حقیقت میں ڈھلے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK