Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ہماری عمر کا گراف گھٹ رہا ہے

Updated: January 02, 2026, 4:36 PM IST | Sadia Fatima Abdul Khaliq | Nanded

گزرے ہوئے وقت کا احساس باقی تک نہیں رہا کہ کیا صحیح کیا ہے اور کیا غلط کر رہے ہیں ، کیا کھویا ہے کیا پایا ہے۔ انسان کو خود اپنا احتساب کرنا چاہئے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں۔ ہم گریگورین کیلنڈر کے نئے سال میں داخل ہوئے ہیں۔ نئے سال میں داخل ہونا یعنی کہ ہماری عمر کا ایک سال کم ہو جانا ، ہم قیامت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ خدا کے بنائے گئے نظام کی ہر چیز اپنے انداز میں مقرر ہے، کائنات کی ہر چیز مسلسل ایک راہ پر گامزن ہے، زمین، چاند، سورج، سیارے، ستارے، اس واحد ذات کے اشارے پر متحرک ہیں جس کے قبضے میں ہماری جان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آفتاب و ماہتاب کے طلوع و غروب اور ان کی رفتار کو ایک خاص حساب سے رکھا ہے جس کے ذریعے انسان سالوں،  مہینوں، دنوں اور گھنٹوں کا بلکہ منٹوں اور سیکنڈوں کا بھی حساب بآسانی لگا سکتا ہے۔ یہ اللہ جل شانہ کی قدرتِ شاہانہ کا عمل ہے کہ ان عظیم الشان نورانی کُرّوں اور ان کی حرکات کو ایسے مستحکم اور مضبوط انداز سے رکھا ہے کہ ہزاروں سال گزر جانے پر بھی ان میں کبھی ایک منٹ یا ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں ہوتا۔ یہ دونوں نور کے کرّے اپنے اپنے دائرے میں معین رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں۔ سالوں اور مہینوں کا حساب شمسی بھی ہوسکتا ہے اور قمری بھی ، دونوں ہی اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔
 
 
گردش لیل و نہار یہ بتا رہی ہے کہ ہم قیامت سے قریب سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں ۔گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ہماری عمر کا گراف گھٹ رہا ہے ، بدلتے موسم کی رتیں چیخ چیخ کراحساس دلارہی ہیں کہ ہم ہیں جو تمہیں حکم الٰہی سے یاد دلا رہے ہیں کہ تمہارا وقت کم ہو رہا ہے۔  ایک ایک لمحہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ گزرے ہوئے وقت کا احساس باقی تک نہیں رہا کہ کیا صحیح کیا ہے اور کیا غلط کر رہے ہیں ، کیا کھویا ہے کیا پایا ہے۔ انسان کو خود اپنا احتساب کرنا چاہئے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ فضول چیزوں سے بچے۔ (ترمذی)  حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ  فرماتے ہیں کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر جس کا سورج غروب ہو گیا، جس میں میرا ایک دن کم ہو گیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا ۔ ( قیمتی الزمن عند العلماء ص ۲۷)
ہمیں ہر میدان میں اپنا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہئے ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہم نے کیا کیا ہے، عبادات ومعاملات میں ہم نے کس حد تک بھر پائی کی ہے ، حرام و حلال میں کتنی تمیز کی ہے، عمل و اعمال میں پورے اترے یا نہیں،  خلوص و ہمدردی میں کیا کچھ کیا ہے ۔ یہ سارا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ ہم نے غلطیاں کہاں کہاں پر کی ہیں۔  انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچا سکتا، اسی لئے نبی کریم ؐ  کا ارشاد ہے کہ ’’تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔‘‘ ( ترمذی ابواب الزھد بیروت) 
یہ اپنی نئی نسلوں کا ایمان بچانے کی کوشش کا وقت ہے ۔ ہم نئی تکنالوجی کے گھیراؤ میں ہیں، مغربیت کے جال میں الجھ چکے ہیں، ڈیجیٹل دور کی دوڑ  میں اپنی پہچان کھو رہے ہیں،   مغربیت کے لبادے کو فیشن کا نام دے رہے ہیں ، بیہودگی کو ماڈرن زندگی کا نام دے رہے ہیں، وقت کی کمی کے نام پر رشتوں سے دوری کو اپنایا جا رہا ہے، نئی تکنالوجی کے نام پر  پرورش کو دین سے دور کیا جا رہا ہے۔ ہم نے اخلاقیات کے فریضہ کو بند کر رکھا ہے ، رشتوں کی اہمیت کو ختم کیا جا رہا ہے، تعلیم نسواں  اور آزادیٔ نسواں کے نام پر بیہودگی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، دوستی اور محبت کے نام پر ارتداد کے مرتکب ہو رہے ہیں،  رشتوں کی پاسبانی نہیں رہی، ظلم کے نام پر اپنی خیریت منانے پر خوش ہورہے ہیں، غلط فیصلوں کی مہر پر تکلیف کا شائبہ تک نظر نہیں آتا، اگلے ظلم کے لئے گردن جھکائی جارہی ہے اور مال ہڑپ کرنے کو ضروری قرار دیا جارہا ہے۔ 
 
 
ماڈرن زندگی کے طور پر  اب ہمارے معاشرے میں بھی کوئی نہ کوئی ’’ڈے‘‘ منانے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ مختلف قسم کے جشن یہود و نصاریٰ اور دوسری قوموں کے لوگ مناتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس رشتوں میں دکھاوا ہوتا ہے، ماں باپ کو الگ رکھتے ہیں اور اولاد کو بالغ ہوتے ہی گھر سے نکال باہر کر دیا جاتا ہے، ان کے پاس کوئی خاندانی نظام نہیں ہوتا، اس لئے ان لوگوں نے دکھاوے کے لئے الگ الگ دن متعین کر رکھے ہیں ، مگر اسلام میں سب کے حقوق مقرر کر دیئے گئے ہیں اور پورا ایک خاندانی نظام موجود ہے   اسلئے ہمیں ’’ڈیز‘‘ منانے کی نہیں بلکہ تعلیمات ِ اسلامی پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔
یہ عمر اور زندگی جو ہم کو عطا ہوئی ہے وہ صرف آخرت کی ابدی زندگی کی تیاری کی خاطر عطا ہوئی ہے کہ ہم اس کے ذریعے آنے والی زندگی کو بہتر بنا سکیں اور اپنے اعمال کو اچھا بنا سکیں ، آنکھ دنیا کی ہر چیز کو دیکھ سکتی ہے مگر جب آنکھ کے اندر کچھ چلا جائے تو اسے دیکھ نہیں پاتی، بالکل انسان بھی اسی طرح دوسروں کے عیب تو دیکھتا ہے پر اسے اپنے عیب نظر نہیں آتے۔ کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟  سب سے بڑا مسئلہ قرآن  سے دوری ہے۔ معاشرے میں   حرام و حلال  میں تمیز  مشکل ہوتی جارہی ہے۔ آپس میں ہمدردی  کا ماحول بھی ختم ہورہا ہے جس کی وجہ تعلیم  میں اخلاقیات سے دوری ہے۔ تعلیمی پیشہ ،  ذریعۂ معاش کی حد تک ہی درست سمجھا جارہا ہے اور تعلیمی میدان میں سبقت کے نام پر رنگینیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
مگر ارادہ مصمم ہو اور عزم  جواں ہو تو ہم بازی پلٹ کر نئے سال  ۲۰۲۶ء کو ایک نئی امید کی کرن سے صراط مستقیم پر سنوار سکتے ہیں، اللہ کو راضی کرتے ہوئے زندگی اور آخرت کو بہتر بنانے کا عزم کر سکتے ہیں اور وقت رہتے اپنی زندگی کو صحیح راستے پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اپنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جان کر سنبھل جائیں، اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جان لیں، اپنی زندگی کو موت سے پہلے سنوار لیں، خدمت سب کی کریں مگر امید کسی سے بھی نہ رکھیں کیونکہ خدمت کا اجر صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے  انسان نہیں۔
یاد رہے،   آخرت کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے ۔ انسان کے لالچ کا پیالہ کبھی نہیں بھرتا کیوں کہ اس میں حرص اور نا شکری کے سوراخ ہوتے ہیں جو اس کو بھرنے نہیں دیتے ، انسان کو مضبوط ہونا چاہئے ، خود کو اندر سے مضبوط کریں اور اندر تبھی مضبوط ہوتا ہے جب اللہ سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے ، جتنا تعلق مضبوط ہوگا ، انسان اتنا ہی مضبوط ہوگا، انسان جب خود کو اللہ کی حفاظت میں نہیں دیتا  تو شیطان کی چالوں کا شکار ہو جاتا ہے ، اس لئے تعلق باللہ مضبوط  کیجئے  تاکہ شیطان کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔ 
اللہ تعالیٰ، ہمیں غلطیوں سے بچائے، غیروں کی مشابہت سے بچائے، آقائے نامدار  محمد مصطفیٰؐ   کی سنت کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے، دین و دنیا میں سرخروئی عطا فرمائے اور ہماری نئی نسل کی حفاظت  اور اسے دین پر قائم رکھے ،  آمین، ثم آمین۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK