صدق کا مفہوم اور اہمیت

Updated: January 10, 2020, 4:34 PM IST | Sayed Abulaala Moududi

صدق محض سچے اور مطابقِ حقیقت قول کو نہیں کہتے، بلکہ اس کا اطلاق صرف اُس قول پر ہوتا ہے جو بجائے خود بھی سچا ہو اور جس کا قائل بھی سچے دل سے اس حقیقت کو مانتا ہو جسے وہ زبان سے کہہ رہا ہے۔

علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی
علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ اُن کے لئے اُن کا اجر (بھی) ہے اور ان کا نور (بھی) ہے، اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں۔ “ (الحدید:۱۹) صدیق سے مراد وہ شخص ہے جو نہایت راست باز ہو، جس کے اندر صداقت پسندی اور حق پرستی کمال درجے پر ہو، جو اپنے معاملات اور برتائو میں ہمیشہ سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کرے، جب ساتھ دے تو حق اور انصاف ہی کا ساتھ دے اور سچے دل سے دے، اور جس چیز کو حق کے خلاف پائے اُس کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہوجائے اور ذرا کمزوری نہ دکھائے۔ جس کی سیرت ایسی ستھری اور بے لوث ہو کہ اپنے اور غیر کسی کو بھی اس سے خالص راست روی کے سوا کسی دوسرے طرزعمل کا اندیشہ نہ ہو۔
(تفہیم القرآن، اوّل)
 [صدیق] صدق کا مبالغہ ہے۔ صادق سچا، اور صدیق نہایت سچا۔ مگر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ صدق محض سچے اور مطابقِ حقیقت قول کو نہیں کہتے، بلکہ اس کا اطلاق صرف اُس قول پر ہوتا ہے جو بجائے خود بھی سچا ہو اور جس کا قائل بھی سچے دل سے اس حقیقت کو مانتا ہو جسے وہ زبان سے کہہ رہا ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو یہ بات بجائے خود عین حقیقت کے مطابق ہے، کیونکہ آپؐ واقعی اللہ کے رسول ہیں، لیکن وہ شخص اپنے اس قول میں صادق صرف اُسی وقت کہا جائے گا جبکہ اُس کا اپنا عقیدہ بھی یہی ہو کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا صدق کے لئے ضروری ہے کہ قول کی مطابقت حقیقت کے ساتھ بھی ہو اور قائل کے ضمیر کے ساتھ بھی۔ اسی طرح صدق کے مفہوم میں وفا اور خلوص اور عملی راست بازی بھی شامل ہے۔ صادق الوعد (وعدے کا سچا) اس شخص کو کہیں گے جو عملاً اپنا وعدہ پورا کرتا ہو اور کبھی اس کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔ صدیق (سچا دوست) اسی کو کہا جائے گا جس نے آزمائش کے مواقع پر دوستی کا حق ادا کیا ہو اور کبھی آدمی کو اس سے بے وفائی کا تجربہ نہ ہوا ہو۔ جنگ میں صادق فی القتال (سچا سپاہی) صرف وہی شخص کہلائے گا جو جان توڑ کر لڑا ہو اور جس نے اپنے عمل سے اپنی بہادری ثابت کردی ہو۔
  پس صدق کی حقیقت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قائل کا عمل اُس کے قول سے مطابقت رکھتا ہو۔ قول کے خلاف عمل کرنے والا صادق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس بنا پر تو آپ اُس شخص کو جھوٹا واعظ کہتے ہیں جو کہے کچھ اور کرے کچھ۔ اب غور کرنا چاہئے کہ یہ تعریف جب صدق اور صادق کی ہے تو مبالغے کے صیغے میں کسی کو صدیق کہنے کا مطلب کیا ہوگا۔ اس کے معنی لازماً ایسے راست باز آدمی کے ہیں جس میں کوئی کھوٹ نہ ہو، جو کبھی حق اور راستی سے نہ ہٹا ہو، جس سے یہ توقع ہی نہ کی جاسکتی ہو کہ وہ کبھی اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات کہے گا، جس نے کسی بات کو مانا ہو تو پورے خلوص کے ساتھ مانا ہو، اس کی وفاداری کا حق ادا کیا ہو اور اپنے عمل سے ثابت کردیا ہو کہ وہ فی الواقع ویسا ہی ماننے والا ہے جیسا ایک ماننے والے کو ہونا چاہئے۔(تفہیم القرآن، پنجم) [اسی طرح صدقہ بھی ہے] صدقہ اسلام کی اصطلاح میں اُس عطیے کو کہتے ہیں جو سچے دل اور خالص نیت کے ساتھ محض اللہ کی خوشنودی کے لئے دیا جائے، جس میں کوئی ریاکاری نہ ہو، کسی پر احسان نہ جتایا جائے، دینے والا صرف اس لئے دے کہ وہ اپنے رب کے لئے عبودیت کا سچا جذبہ رکھتا ہے۔ یہ لفظ صدق سے ماخوذ ہے، اس لئے صداقت عین اس کی حقیقت میں شامل ہے۔ کوئی عطیہ اور کوئی صرفِ مال اُس وقت تک صدقہ نہیں ہوسکتا جب تک اس کی تہہ میں انفاق فی سبیل اللہ کا خالص اور بے کھوٹ جذبہ موجود نہ ہو۔ تفہیم القرآن، پنجم، ص ۳۱۵، الحدید

islam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK