Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’آج مسلمان کی پریشانی کا سب سے بڑا سبب علم نبوت سے دوری‘‘

Updated: June 07, 2026, 10:49 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbra

مولانا سید بلال عبدالحئی حسنی ندوی کا ممبرا کی شمشاد نگر مسجد میں ’مسلم معاشرہ اور تعلیمی بیداری ‘ کے عنوان پر خطاب، مثالی معاشرے کی تشکیل پر زور۔

Maulana Syed Bilal Abdul Hai Hasni Nadvi speaking. Photo: INN
مولانا سید بلال عبدالحئی حسنی ندوی خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ناظم ندوۃ العلماء، رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے سیکریٹری مولانا سید بلال عبدالحئی حسنی ندوی نے جمعہ کو ممبرا میں ’مسلم معاشرہ اور تعلیمی بیداری ‘کے عنوان سے منعقدہ جلسہ میں کہا ہے کہ ’’آج مسلمان کی پریشانی کا سب سے بڑا سبب علم نبوت سے دوری ہے، اس لئے اگر ہمیں دنیا میں رسوائی سے بچنا ہے تو ہمیں عصری علوم کے ساتھ علم نبوت بھی حاصل کرنا ہوگا ۔ اسی میں دنیااورآخرت دونوں کی کامیابی ہے۔‘‘

مولانا ممبرا کے شمشاد نگر مسجد میں جاری مدرسہ معہدالایمان للتعلیم و التربیہ کے سالانہ اجلاس عام میں شریک ہونے آئے تھے ۔ مولانا نے سنیچر کو کرلا کے کپاڈیہ نگر میںبھی خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھئے: جب تک بیلٹ پیپر کا استعمال نہیں کیا جاتا انتخابات کا بائیکاٹ کریں: راج ٹھاکرے

مولانا نے اپنے تقریباً آدھے گھنٹے کے خطاب میں کہا کہ ’’ مسلمانوں میں جو یہ زوال کی کیفیت نظر آتی ہے، ہر جگہ مسلمان رسوا اور پریشان ہے اور ساری دنیااس پر مسلط ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ علم سے دوری اور معاشی کمزور ی کے نتیجہ میں ایسا ہو رہا ہے لیکن مَیں آپ سے صاف کہتا ہوں کہ ساری چیزیں ایک طرف اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے نبیؐ کے ذریعے بتائے گئے راستے سے انحراف کیا ہے، آج ہماری زندگی میں اللہ کے نبیؐ کی جھلک نظر آنی چاہئے، آپ کی سنتوں کا عکس نظر آنا چاہئے اور جو علم اللہ نے حضور کی معرفت ہمیں سکھایا ہے اس کی جھلک ہمارے اخلاق اور ہمارے معاملات سے لوگو ں کے سامنے آنی چاہئے جس سے لوگ سمجھ سکیں کہ اسلام کیا ہے ؟ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آپ مسلمانوں کے علاقوں میں جایئے تو آپ کو صحیح اسلام کی تصویر نظر نہیں آئے گی۔ اجتماعی نظم زندگی ہمیں ملا ہے۔آج مسلمانوں کی پریشانیوں کا سب سے بڑا سبب علمِ نبوت سے دوری ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ’’آج عصری تعلیم جسے دنیا علم سمجھتی ہے مَیں ا س کی ناقدری نہیں کرتا وہ سائنس کا علم ہو،وہ ٹیکنالوجی کی علم ہویا میڈیکل کا علم ہو یا دنیا کے وہ سارے علوم جو وقت کی ضرورت ہیں، مَیں ان کو ’وقتی علوم‘کہتا ہوں۔ مَیں یہ نہیں کہتا ہوںکہ ان کی ضرورت نہیں ۔ ان کی ضرورت ہے لیکن ان علوم میں آسمان کی بلندیوں تک چلے جائیے،اگر آپ کا تعلق علم نبوت سے نہیں ہے تو آپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ڈی آر پی کے سربراہ کی غلط بیانی کو ہر دھاراوی واسی تک پہنچانے کا عہد

اپنے خطاب میں مولانا کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’آج دنیا میں جو ترقیات نظر آرہی ہیں ، بجلی کی روشنی آرہی ہے ،اگر غور کیا جائے تو اور ان کی بنیادوں کوتلاش کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ علوم مسلمانوں نے ہی ایجاد کئے ہیں۔‘‘

مولانا نے زور دے کر یہ بھی کہا کہ ’’ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ ہمارے محلے اسلام کی تعلیمات کی عکاسی کرتے، ان میں صاف صفائی نظر آتی جو نصف ایمان ہے ۔ہمارے معاملات بہتر ہوتے جو حضورؐ نے ہمیں سکھائے ہیں لیکن ہمارے محلے اور ہمارے معاملات اسلامی تعلیمات کے خلاف نظر آتے ہیں۔لوگ مسلم علاقوں میں رہنے سے کتراتے ہیں،ہم سے معاملات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے مثالی معاشرہ تشکیل دینا ہے تاکہ لوگ مسلمانوں کی مثال پیش کریں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK