Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’رسولؐ اللہ یہ فرماچکے تھے کہ ایک دن عدی بن حاتم کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہوگا ‘‘

Updated: October 20, 2023, 1:07 PM IST | Molana Nadimul Wajidi | Mumbai

سیرتِ رسول پاکؐ کی اس خصوصی سیریز میں گزشتہ ہفتے حاتم طائی کی بیٹی سفانہ کا واقعہ شائع ہوا تھا۔ اس ہفتے ملاحظہ کیجئے سفانہ کے بھائی عدی بن حاتم کی زبانی نبی اکرم ؐ کی خدمت میں حاضری ، قبولِ اسلام اور وہ آپؐ کی عظیم پیشین گوئیاں جنہیں عدی بن حاتم نے خود اپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھا تھا۔ اس کے ساتھ ہی غزوۂ تبوک اور اس غزوے کے نام کی تفصیل بھی پڑھئے۔

People shopping in a local market in Tabuk. Tabuk is the name of a region in the north of Hijaz between Wadi Quri and Syria.
تبوک کے ایک مقامی بازار میں خریداری کرتے ہوئے افراد۔تبوک حجاز کے شمال میں وادئ قُری اور شام کے درمیان ایک علاقے کا نام ہے۔ تصویر:آئی این این

عدی بن حاتم کا قصہ
سفانہ مدینے سے رخصت ہوکر شام پہنچی، اور اپنے بھائی عدی بن حاتم سے ملی، اسے اپنی قید اور رہائی کے بارے میں بتلایا اور اسے یہ ترغیب دی کہ وہ خود مدینے جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاکر ملے، وہ اچھے اخلاق کے انسان ہیں ، محمدؐ وہی کرتے ہیں جو میرے اور تمہارے باپ کیا کرتے تھے، یعنی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور حاجت مندوں کی حاجت روائی، اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے ملو، آگے کا قصہ خود عدی بن حاتم سے سنئے:
’’ ایک دن میں مدینے پہنچ گیا، لوگوں نے مجھے پہچان لیا، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ عدی ہے، میں کسی امان کے بغیر اچانک چلا آیا تھا، آپؐ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، میں وہیں پہنچ گیا۔ میں نے عرض کیا: یامحمدؐ! میں عدی ہوں ۔ آپؐ نے نہایت محبت کے ساتھ میرا ہاتھ پکڑا۔ رسولؐ اللہ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی لوگوں سے یہ فرماچکے تھے کہ ایک دن عدی بن حاتم کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہوگا۔ اسی دوران ایک عورت آئی، اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا، عورت نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے آپ سے کچھ کام ہے۔ آپؐ اٹھ کر اس کے ساتھ چلے گئے، کچھ دیر بعد واپس تشریف لائے، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے گھر لے کر گئے۔ کمرے میں ایک خاتون تھیں ، انہوں نے ایک گدّا بچھایا ، رسول ؐ اللہ اس پر تشریف فرما ہوئے، میں بھی آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا۔ رسولؐ اللہ نے مجھ سے فرمایا: اے عدی اسلام لے آؤ، سلامت رہوگے۔ میں نے عرض کیا کہ میں اہل دین میں سے ہوں ۔ آپؐ نے دوبارہ یہی فرمایا کہ اسلام لے آؤ، سلامت رہوگے۔ میں نے دوبارہ بھی یہی کہا کہ میں اہل دین میں سے ہوں ۔ میرے اور آپؐ کے درمیان یہ بات تین مرتبہ ہوئی، اس کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ میں تمہارے دین کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔ میں نے حیرت سے عرض کیا: کیا واقعی آپؐ میرے دین کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو، میں نے عر ض کیا: جی ہاں ! آپؐ نے فرمایا: کیا تم رکوسی نہیں ہو؟ (رکوسیت ایک مذہب تھا جو اگرچہ نصاریٰ کا بنایا ہوا تھا مگر اس میں وحدانیت پر بت پرستی غالب تھی۔) میں نے عرض کیا: جی ہاں ! میں رکوسی ہوں ۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم مال غنیمت کا چوتھائی حصہ نہیں لیتے حالاں کہ نصاریٰ کے مذہب میں یہ حرام ہے؟ میں نے اس بات میں اپنی اہانت محسوس کی۔
اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: آخر دین اسلام قبول کرنے میں کیا چیز تمہارے لئے رکاوٹ بن رہی ہے، میرا خیال یہ ہے کہ میرے ارد گردجو یہ غریب لوگ تمہیں نظر آرہے ہیں تم ان کی وجہ سے مسلمان نہیں ہونا چاہتے۔ آپؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے حِیَرَہ کا نام سنا ہے، میں نے عرض کیا: صرف نام سنا ہے، میں کبھی وہاں نہیں گیا، آپؐ نے فرمایا کہ عنقریب تم دیکھوگے کہ ایک عورت حیرہ سے چل کر تن تنہا آئے گی اور خانۂ کعبہ کا طواف کرے گی، اور بہت جلد تم یہ دیکھو گے کہ کسریٰ بن ھُرمز کے خزانے ہمارے لئے کھول دیئے جائیں گے۔ میں نے عرض کیا: کسریٰ بن ھرمز کے خزانے؟ آپؐ نے فرمایا کسریٰ بن ھرمز کے خزانے۔ میں نے تیسری مرتبہ بھی اس کی تصدیق چاہی، آپؐ نے تیسری بار بھی یہی فرمایا، اس کے بعد آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے لوگ اپنے صدقات اٹھائے پھریں گے اور کوئی انہیں لینے والا نہ ہوگا۔‘‘ 
 عدی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں دو پیشین گوئیاں سچ ہوتے ہوئے دیکھ لیں ۔ میں نے دیکھا کہ ایک تنہا عورت حیرہ سے چل کر مکہ آتی ہے اور خانہ ٔ کعبہ کا طواف کرکے واپس چلی جاتی ہے، اور دوسری پیشین گوئی کا حال تو یہ ہے کہ میں خود اس فوج میں شامل تھا جس نے مدائن پر حملہ کیا تھا، خدا کی قسم تیسری پیشین گوئی بھی جلد پوری ہوگی کیونکہ یہ رسولؐ اللہ کا ارشاد مبارک ہے۔‘‘
حاتم کہتے ہیں کہ ’’اس طویل بات چیت کے بعد میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں مسلمان ہوں ، دین حنیف پر ہوں ۔ یہ سن کر آپؐ کے چہرۂ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں ہوئے۔ آپؐ نے مجھے ایک انصاری صحابی کے حوالے کیا، میں صبح وشام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ میں آپؐ کی خدمت میں حاضر تھا کہ کچھ لوگ معمولی کپڑوں میں وہاں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان غریبوں کی مدد کی طرف متوجہ کیا، آپ نے فرمایا اے لوگو! تم صدقہ دیا کرو، خواہ ایک صاع اور نصف صاع ہی کیوں نہ ہو، چاہے ایک مٹھی، یا اس سے بھی کم کیوں نہ ہو، اس سے تم جہنم کی آگ سے محفوظ رہوگے، ایک کھجور کا صدقہ، اور کھجور کے ایک ٹکڑے کا صدقہ بھی جہنم سے تمہاری حفاظت کرے گا، اگر تم یہ نہ کرسکو تو کلمۂ خیر ہی کہہ لیا کرو، قیامت کے دن تم میں سے کوئی اللہ کے رو بہ رو ہوگا، اللہ اس سے پوچھے گا کہ کیا ہم نے تجھے مال نہیں دیا تھا اولاد نہیں دی تھی، وہ کہے گا، ہاں ! یا اللہ! تو نے مجھے مال بھی دیا تھا اور اولاد بھی دی تھی، اللہ پوچھے گا پھر تو اپنے لئے کیا بھیج کر آیا ہے، وہ شخص آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھے گا، اسے کچھ بھی نظر نہ آئے گا جس سے وہ جہنم کی آگ سے خود کو بچا سکے، اس لئے تمہیں چاہئے کہ خود کو جہنم کی آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑے دے کر، اگر کھجور کا ٹکڑا بھی میسر نہ ہو تو ایک کلمۂ خیر ہی کہہ دیا کرو، مجھے یہ ڈر نہیں ہے کہ تم پر فقر وفاقہ کی مصیبت آئے گی، اللہ تمہارا مدد گار ہے اور تمہیں دینے والا ہے، (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) ایک تنہا عورت یثرب اور حیرہ کے درمیان (بے خوف ہوکر) چلے گی، حالاں کہ (فی الحال) یہ راستہ چوروں سے محفوظ نہیں ہے۔‘‘(سنن الترمذی: ۵/۲ـ۲۰،رقم الحدیث: ۲۹۵۳، مسند احمد بن حنبل: ۴/۳۷۸، زاد المعاد: ۳/۳۷۶، ۳۷۷) 
غزوۂ تبوک
غزوۂ تبوک بھی بڑی اہمیت کا حامل غزوہ ہے۔ یہ غزوہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ آخری غزوہ ہے جس میں آپ ﷺ نے بحیثیت سپہ سالار شرکت فرمائی۔ یہ ایک ایسا عجیب وغریب جنگی معرکہ تھا جو کسی جنگ کے بغیر ہی اختتام پزیر ہوگیا۔ مسلمانوں کا مقابلہ اس زمانے کی سب سے بڑی طاقت رو م کے بادشاہ سے تھا جو تقریباً آدھی دنیا پر حکومت کررہا تھا، قیصر روم جنگ کی تیاریاں ہی کرتا رہ گیا اور مسلمان اس کے سر پر جا پہنچے، اللہ تعالیٰ نے دشمن کے دل میں مسلمانوں کا ایسا خوف اور رعب پیدا کیا کہ وہ اپنے گھر میں دبک کر بیٹھ گیا، بیس دن تک مسلمانوں کی فوج اپنے حریف کا انتظار کرتی رہی، مگر وہ نہیں آیا، رسولؐ اللہ اس غزوے کے لئے طائف سے واپسی کے چھ ماہ بعد رجب سن نو ہجری میں تشریف لے گئے۔
غزوے کا نام
تبوک حجاز کے شمال میں وادئ قُری اور شام کے درمیان ایک علاقے کا نام ہے، اُن دنوں یہ علاقہ قبیلۂ قضاعہ کا مسکن تھا اور اس پر روم کی حکومت تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں ایک چشمہ تبوک کے نام سے تھا، بعد میں یہ پورا علاقہ اسی نام سے معروف ہوگیا۔ مسلم شریف میں حضرت معاذ بن جبلؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم لوگ کل ان شاء اللہ چشمۂ تبوک پر پہنچ جاؤگے، تمہارا اس جگہ پہنچنا چاشت کے وقت ہوگا، جب تک میں وہاں نہ پہنچ جاؤں اس وقت تک کوئی شخص اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔‘‘
 (صحیح مسلم: ۴/۱۷۸۴،رقم الحدیث: ۷۰۶)
 علاقے کے نام کی مناسبت سے یہ غزوہ بھی تبوک کی طرف منسوب ہوکر مشہور ہوا، غزوۂ تبوک کا دوسرا نام غزوۂ عُسْرَہ بھی ہے، عُسَرَتْ کے معنی ہیں دشواری۔ ان دنوں مسلمان معاشی مشکلات سے دو چار تھے، گرمی کا زمانہ تھا، قحط سالی تھی اور لوگ بھوک سے پریشان ہورہے تھے، ان حالات میں غزوے کے لئے روانگی عمل میں آئی۔ سورۂ توبہ کی اس آیت (نمبر۱۱۷) میں ایسے ہی مشکل حالات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے: ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے نبی پر، اور اُن مہاجرین وانصار پر جنہوں نے ایسی مشکل گھڑی میں نبی کا ساتھ دیا، جب کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی، یقینا وہ ان کے لیے بہت شفیق اور بڑا مہربان ہے۔‘‘ امام بخاریؒ نے اپنی کتاب المغازی میں جس جگہ غزوۂ تبوک کے متعلق روایات جمع کی ہیں وہاں یہ عنوان قائم کیا ہے۔ ’’باب غزوۃ تبوک وہی غزوۃ العسرۃ‘‘ ’’غزوۂ تبوک کا بیان جسے غزوۂ عسرت بھی کہتے ہیں ‘‘، اس باب کے ذیل میں انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی یہ روایت بھی نقل فرمائی ہے کہ مجھے میرے ساتھیوں نے جو غزوۂ تبوک یعنی غزوۂ عسرت کی فوج میں شامل ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جانے والے تھے سواریاں مانگنے کے لئے آپ کے پاس بھیجا۔ (صحیح البخاری: ۶/۲، رقم الحدیث: ۴۴۱۵) موسم انتہائی گرم تھا، جہاں جانا تھا وہ جگہ مدینہ منورہ سے بہت دور تھی۔تبوک کا فاصلہ مدینہ منورہ سے ۷۷۸؍ کلو میٹر ہے، یہ سفر طویل ہی نہیں تھا بلکہ اس اعتبار سے دشوار گزار بھی تھا کہ اونٹ اور گھوڑے تعداد میں کم تھے، کھانے پینے کی چیزیں بھی مقدار میں بہت کم تھیں ، پینے کا پانی بھی ٹھیک سے میسّر نہیں تھا، کھجور کی فصل پکنے کے قریب تھی، مدینے کے اکثر باشندے کھجور کی فصل تیار ہونے کے منتظر رہتے تھے، اسی پر ان کی معاش کا انحصار تھا، ابھی تک فصل کٹی نہیں تھی،اکثر لوگ خالی ہاتھ تھے، بے سروسامانی کی اس حالت میں محض اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صحابہ کی یہ مخلص جماعت نکل کھڑی ہوئی تھی۔ معمر بن عقیلؓ کہتے ہیں کہ مجاہدین اس حال میں مدینے سے نکلے کہ نہ ان کے پاس ضرورت کے مطابق سواریاں تھیں اور نہ زاد راہ تھا، اوپر سے موسم انتہائی گرم تھا، جب پیاس کی شدت ہوتی تو اونٹ ذبح کرتے اور اس کی اوجھڑی میں جو پانی جمع ہوتا اس سے اپنی پیاس بجھاتے (فتح الباری: ۹/۱۷۴)
 حضرت عمر فاروقؓ بھی اس وقت کی منظر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید گرم موسم میں تبوک کے لئے روانہ ہوئے، ایک جگہ ہم ٹھہرے ہوئے تھے، اسی دوران ہمیں شدید پیاس محسوس ہوئی، خیال ہوا کہ شاید پیاس کی شدت سے ہماری گردنیں ہمارے دھڑ سے جدا ہوجائیں گی، پیاس سے بے چین ہوکر ہم میں سے کوئی شخص پانی کی تلاش میں باہر نکلتا اورو ہ اس حال میں واپس آتا گویا اب زندہ نہیں بچے گا، کچھ لوگ اپنے اونٹ ذبح کرتے اور اس کی اوجھڑی نچوڑ کر پیتے، اور ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے اس کو اپنے پیٹ پر رکھ لیتے۔ (مجمع الزوائد: ۶/۱۹۴) 
اس غزوے کا ایک تیسرا نام بھی ہے اور وہ ہے ’’الفاضحہ‘‘ یہ نام علامہ زرقانیؒ نے اپنی کتاب شرح المواھب اللدنیہ میں تحریر فرمایا ہے، الفاضحہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اس غزوے نے منافقین کی حقیقت کھول کر رکھ دی تھی، جو کچھ ان کے دل میں تھا وہ ان کی زبانوں پر آگیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور مسلمانوں کے تئیں ان کے دلوں میں جو کینہ موجود تھا اور جو حسد چھپا ہوا تھا اور جو دشمنی پوشیدہ تھی وہ سب کھل کر سامنے آگئی تھی۔ (شرح المواہب اللدنیہ: ۳/۶۲)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK