• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

۴؍ ٹریلین ڈالرس کی معیشت بننے کا سراب

Updated: November 26, 2023, 4:31 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

برسراقتدار جماعت اس پر خوب واہ واہی لوٹنے کی کوشش کررہی ہے لیکن ۴؍ ٹریلین ڈالرس کی معیشت میں بےروزگاری پر وہ اب بھی خاموش ہے جبکہ اتنی بڑی معیشت بننے پر یہ مسئلہ موجود ہی نہیں ہونا چاہئے۔

Finance Minister Nirmala Sitharaman. Photo: INN
وزیرمالیات نرملا سیتا رمن۔ تصویر : آئی این این

گزشتہ ہفتے کی شروعات میں جب پورے ملک پر ورلڈ کپ فائنل میں شکست کا غم طاری تھا، اسی دوران سوشل میڈیا کے چینلوں پر ہندوستان کے ۴؍ ٹریلین کی معیشت بن جانے کے دعوئوں کی بھرمار ہو گئی تھی۔ ان دعوئوں میں کتنی سچائی تھی یہ تو آگے معلوم ہو ہی گیا لیکن ان دعوئوں کو بالکل حقیقت کے روپ میں پیش کرنے کیلئے بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے اپنے کئی اہم لیڈروں کو بھی کام پرلگادیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بھی انہی خبروں کو ٹویٹ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ہندوستان ۴؍ ٹریلین کی معیشت بن گیا ہےاور اگلے کچھ مہینوں میں یہ جاپان اورجرمنی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ جس سوشل میڈیا چینل نے یہ خبر چلائی تھی، اس نے دعویٰ کیا کہ اسے یہ خبربین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے رئیل ٹائم جی ڈی پی ڈیٹا سے حاصل ہوئی ہےمگر دوسرے ہی دن آئی ایم ایف نے اس کی تردید کردی اور کہا کہ وہ کبھی بھی رئیل ٹائم جی ڈی پی ڈیٹا حاصل نہیں کرتے ہیں اور نہ جاری کرتے ہیں ۔ صنعتکار گوتم اڈانی نے بھی اسی یوٹیوب چینل کا اسکرین شاٹ لے کر شیئر کردیااور کئی بلند بانگ دعوے بھی کئےجن میں ملک کے جلد ہی تیسری بڑی معیشت بننے کا دعویٰ بھی تھا۔
  ان تمام باتوں میں یہ سوال واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ آخر ہم دنیا کی بڑی سے بڑی معیشت بن بھی جائیں تو اس سے عام آدمی جو متوسط اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے اسے کون سا بڑا فائدہ پہنچ جائے گا؟ کیوں کہ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے اور تصدیق شدہ بھی ہے کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار ملک کے شہریوں کی اصل حالت کے عکاس کبھی نہیں ہوتے ہیں ۔ دنیا کی بڑی سے بڑی معیشتوں میں بھی غریبی موجود ہے۔ عالمی جدولوں میں ہندوستان سے اوپر جو معیشتیں ہیں جیسے جرمنی ، جاپان ، امریکہ اور چین ان سبھی ممالک میں غریبی موجود ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان ممالک کی حکومتوں کا نصب العین اسے ختم کرنے اور عوام کو ایک بہتر لائف اسٹائل کی طرف لانے کا رہتا ہے لیکن ہندوستان ابھی اس معاملے میں بہت پیچھے ہے۔ معیشت کے لبرلائزیشن کی وجہ سے روزگار کا مارکیٹ پیدا ضرور ہوا ہے لیکن اس کا بڑا فائدہ ان امیر صنعتکاروں کو ہی پہنچا ہے جن کے پاس پہلے سے کافی سرمایہ رہا ہے۔ 
 اس وقت ملک میں بے روزگاری عروج پر ہےبلکہ یہ گزشتہ ۵۰؍ سال میں سب سے زیادہ ہے، اس کے باوجود مرکز کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔ ایسا لگتا ہے کہ اتنی شدید بے روزگاری کو ’معمول ‘ کے مطابق مان لیا گیا ہے۔حکومت کی سطح پر اسے دور کرنے کے لئے کوئی ہلچل نظر نہیں آرہی ہے۔ عام طور پر یہ مانا جاتاہے کہ بڑھتی ہوئی معیشت کا اثر روزگار کے بازار پر بھی پڑتا ہے اور ملک میں اس کے مواقع تیزی کے ساتھ بڑھتےہیں ۔ ۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۴ء کے درمیان اگر ایک سے ۲؍ سال کو چھوڑ دیا جائے تو اس دوران ملک میں روزگار تیزی کے ساتھ بڑھا جس کے اثرات ۲۰۱۶ء تک موجود تھے لیکن اس سال کی گئی نوٹ بندی اور دیگر بے سر پیر کے اقدامات نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ رہی سہی کسر کورونا اور اس کے بعد لاک ڈائون نے پوری کردی۔ ہر چند کہ اس کے بعد یہ بلند بانگ دعوے کئے گئے کہ معیشت میں ریکوری ’ وی ‘ شیپ ہو گی لیکن گزشتہ ۳؍سال میں یہ بات بڑی حد تک واضح ہو گئی ہے کہ ریکوری تو ہوئی ہے اور ہو رہی ہے لیکن یہ انگریزی کے حرف ’کے ‘ کی طرز پر ہو رہی ہے یعنی امیر مزید امیر ہوتے جارہے ہیں اور متوسط طبقے کی بڑی آبادی نچلے طبقے میں پہنچ گئی ہے کیوں کہ ان کی آمدنی میں بھاری گراوٹ آئی ہے ۔رہی سہی کسر ہوش ربا مہنگائی نے پوری کردی ہے جس کی وجہ سے جمع پونجی بھی خرچ ہوتی جارہی ہے۔ وزیرمالیات نرملا سیتا رمن کی اس جانب شاید توجہ ہی نہیں ہے۔
 ہندوستان اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے لیکن اس حقیقت سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ یہاں سماجی اور معاشی نابرابری بھی اتنی ہی شدید ہے۔یہاں پریمیم کاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سستی کاروں کا مارکیٹ ہرگزرتے دن کے ساتھ سکڑتا جارہا ہے۔ اسی طرح لگژری مصنوعات کے معاملے میں ہندوستان دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا مارکیٹ ہے لیکن ایف ایم سی جی (روزانہ کے استعمال کی اشیاء) کے مارکیٹ میں روز بروز گراوٹ درج ہو رہی ہے۔ ماہرین معاشیات اسے ہی ’کے ‘ شیپ ریکوری کہتے ہیں یعنی ایک طرف جہاں امیر مزید امیر ہورہے ہیں وہیں دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر زندگی کی گاڑی کھینچنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ 

ان تمام حالات کے باوجود اگر بی جے پی ملک کے عوام کو اسی سراب میں مبتلا رکھنا چاہتی ہےکہ ملک کی معیشت تیزی سے ترقی کررہی ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے کیوں کہ سراب کی حقیقت سامنے آنے میں بہت دیر نہیں لگتی۔  سرکار کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہو گی کہ جب تک تقسیم کی سیاست عروج پر ہے معیشت کو عروج حاصل نہیں ہو گا۔اس بات کی طرف، حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ جسے معروف ماہر معاشیات جینتی گھوش نے تیار کیا ہے ، کھل کر اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سماجی تقسیم کی سیاست کی وجہ سے معیشت میں پیسے کی وہ ریل پیل نہیں ہو پاتی جو معیشت کے پہیے کو تیزی سے گھمانے کے لئے ضروری ہے۔  ان حالات میں عوام بہت زیادہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنے اور اپنی شدید ضرورتوں کو ہی پورا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ معیشت کے لئے خرچ کرنے کا یہ پیٹرن خطرناک مانا جاتا ہے کیوں کہ اس سے سرمایہ چند ہاتھوں میں محدود ہو جاتا ہے اورڈیمانڈ پر مبنی معیشتوں کے لئے یہ طریقہ سم قاتل ثابت ہو تا ہے۔ ہندوستان کے معاملے میں یہی  پیٹرن دیکھا جارہا ہے۔ یہاں متوسط طبقے کی قوت خرید جو ۲۰۱۴ء سے قبل تھی اس میں گراوٹ آئی ہے۔ صرف اسی نقطے پر حکومتی اراکین کو سرجوڑ کر بیٹھ جانا چاہئے تھا لیکن وہ اب بھی فرقہ وارانہ سیاست میں مصروف ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK