نماز بندے کی اپنے رب سے محبت، اس کی نعمتوں کے فضل و احسان کے تشکرکی علامت ہے

Updated: January 14, 2022, 1:00 PM IST | Imam Ahmed bin Hanbal | Mumbai

نماز اسلام کی بنیاد اور اس کا ستون ہے۔ یہ ایک تعلق کا نام ہے جو عبودیت سے سرشار اور اپنے نفس کے خیرخواہ بندے اور ا س کے رب کے درمیان قائم ہوتا ہے جو اس کی پرورش کرتا ہے اور پوری دنیا کی اپنی نعمت و فضل سے پرداخت کرتا ہے۔

The most important and central act of worship is prayer.Picture:INN
سب سے اہم اور مرکزی عبادت نماز ہے ۔ تصویر: آئی این این

نماز اسلام کی بنیاد اور اس کا ستون ہے۔ یہ ایک تعلق کا نام ہے جو عبودیت سے سرشار اور اپنے نفس کے خیرخواہ بندے اور ا س کے رب کے درمیان قائم ہوتا ہے جو اس کی پرورش کرتا ہے اور پوری دنیا کی اپنی نعمت و فضل سے پرداخت کرتا ہے۔ یہ بندے کی اپنے رب سے محبت، اس کی نعمتوں کے اعتراف اور اس کے فضل و احسان کے تشکر کی علامت ہے۔ اس کی دلیل ظاہر ہے جسے خشوع و خضوع سے سرشار نمازی اپنے نفس کے اندر محسوس کرسکتا ہے، چہ جائیکہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس پر غور کرے۔ یہ وہ تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ؐ کو شب ِ معراج میں عطا کیا ۔ لیلۃ المعراج، رب ِ حبیب اور بندۂ حبیب کے درمیان اس عظیم ملاقات کا نام ہے جس سے آپؐ کو سچی عبودیت کی انجام دہی پر بطور انعام نوازا گیا ۔ ایسی عبودیت کا مظاہرہ ماضی میں کسی نے کیا نہ مستقبل میں کوئی کرسکتا ہے۔ وہ ہدیہ اور تحفہ ، جس سے اللہ نے اپنے بندے اور رسولؐ کو ہمکنار کیا ، نماز ہے۔ اسی لئے نماز رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی اور آپؐ اسی کے دامن میں پناہ لیتے۔ جب کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا اپنےر ب سے مناجات کرتے ، اس سے شکوہ کرتے اور وہ آپؐ کی دعاؤں کو قبول کرتا اور آپؐ کو ہر طرح کے غموں سے نجات اور راحت مل جاتی۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے ’’اے بلالؓ، نماز سے ہمیں راحت پہنچاؤ۔‘‘ 
 مسلم اور اصحاب ِ سنن نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کردیا ہے اور میرے بندے کو جو کچھ وہ مانگتا ہے، ملتا ہے۔  بندہ کہتا ہے: الحمدللہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے : میرے بندے نے میری حمد کی۔ بندہ کہتا ہے: الرحمٰن الرحیم ۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: بندے نے میری تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے: مالک یوم الدین۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے :میرے بندے نے میری عظمت بیان کی۔ بندہ کہتا ہے: ایاک نعبدوایاک نستعین۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندہ کو ملے گا جو کچھ وہ مانگتا ہے۔ بندہ کہتا ہے: اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیرالمغضوب علیہم والضآلین ۔ اللہ کہتا ہے: یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کو ملے گا جو کچھ وہ مانگتا ہے۔
 نماز ، اس سے محبت ، اس کی طرف سبقت، مکمل طور سے اس کی ادائیگی اور ظاہری و باطنی لحاظ سے اس کی تکمیل، یہی اس بات کا پیمانہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ سے محبت اور اس سے ملاقات کا کس درجہ شوق ہے ۔ نماز سے بے نیازی، اس کی ادائیگی میں سستی و کاہلی کا مظاہرہ اور اس کی خاطر کھڑے ہونے میں بوجھل پن کا احساس اور اس سے جلد فارغ ہوجانے کی خواہش (یعنی جیسے تیسے ادا کرنا)، یہ اللہ کی محبت سے دل کے یکسر خالی ہونے کی علامت ہے ، بلکہ اس سے ناپسندیدگی اور شیطان کے قائم کردہ دوسرے طاغوت سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ اسی کے عمل سے ہوسکتا ہے جس کے اوپر بدترین جاہلیت اور اندھی تقلید سوار ہو، جسے جن و انس کے شیطانوں نے مزین بنا کر اس کے سامنے پیش کیا ہو ۔ جس شخص کا اللہ اور اس کی آیت، اس کے کائناتی قوانین، اس کے اسماء اور صفات اور اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان ہو، وہ اس حقیقت میں شک نہیں کرسکتا کہ نماز کو چھوڑنے والا کافر ہے، مشرک ہے اور اللہ کے حق، اس کے وعدہ، اس سے ملاقات اور حساب و کتاب کا منکر ہے۔ اس نے اسلام سے اپنے تمام رشتے توڑ لئے ہیں اور لا الہ الا اللہ  کا جو کلمہ دہراتا ہے ، اسے منہدم کردیا ہے۔ وہ اپنے رب سے برسرجنگ ہوگیا  ہے اسی لئے اس کے سامنے کھڑے ہونے اور اس سے مناجات کرنے میں وہ تھکن اور مشقت محسوس کرتا ہے جبکہ غیراللہ کے سامنے ، طاغوت اور باطل معبودوں کے سامنے کھڑے ہونے میں اسے لذت و فرحت ملتی ہے۔ اس نے لا الہ الا اللہ کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور اسے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ کلمہ کس چیز کی نفی کرتا اور چیز کا اثبات کرتا ہے، کن حقیقتوں پر ایمان لانے اور اخلاص و اطاعت اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے اور کن چیزوں سے انکار کرنے اور ان سے اپنی برأت ظاہر کرنے کی طرف بلاتا ہے۔ اس نے اپنے اقوال و اعمال اور عقائد سے اس کلمہ کو ڈھا دیا کیونکہ وہ  اگر تھوڑی عقل سے کام لیتا تو یہ سمجھ سکتا تھا کہ یہ کلمہ دو اجزاء سے مرکب ہے۔ ایک ، لا الہ اور دوسرا الا اللہ ، اور دونوں کے مفہوم مل کر ایک حقیقت تک پہنچاتے ہیں ۔ ان میں سے پہلے جزء کا مفہوم یہ ہے کہ میں ہر طاغوت کا انکار کرتا ہوں اور اس سے اپنی برأت کا  اظہار کرتا ہوں اور پوری کوشش کرتا ہوں کہ اس کی تمام خباثتوں سے اپنے قلب کو پاک کرلوں تاکہ دوسرے جزء کی معرفت کا وہ اہل  ہوسکے ، صدق و اخلاص سے اس کی اطاعت قبول کرسکے اور دوسرا جزء الا اللہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنی عبادت کو اس کے تمام معانی و حقائق  اور تقاضوں کے ساتھ علم ، عقیدہ اور عمل کی روشنی میں اللہ وحدہٗ کے لئے خالص کرتا ہوں جس کا تقاضا شہادت رسالت کررہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اپنی خواہشات اور نفسانیت سے تقلیدات اور بدعتوں سے اللہ کی عبادت نہیں کروں گی بلکہ میری عبادت میں میرا موقف وہ ہوگا جسے اللہ کے رسول ﷺ لے کر آئے، اسے پسند فرمایا اور جائز ٹھہرایا ہے۔
 سب سے اہم  اور مرکزی عبادت نماز ہے ۔ جس نے نماز ضائع کردی وہ دوسری عبادات کو اور زیادہ ضائع کرسکتا ہے اور اس کا اللہ سے تمام رشتہ کٹ گیا، جیسا کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے گورنر کے نام خط میں لکھتے ہیں:
 ’’یاد رکھو، میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم معاملہ نماز ہے، جس نے اسے ضائع کردیا وہ دوسری عبادت کو بدرجہ اولیٰ ضائع کردے گا ، اور یاد رکھو، اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ عمل رات میں کرنے کے ہیں جن کو وہ دن میں قبول نہیں کرتا اور کچھ عمل دن میں کرنے کے ہیں جن کو رات میں قبول نہیں کرتا۔‘‘
  جو نماز کو ضائع کردے وہ عابد و زاہد کبھی نہیں ہوسکتا، بلکہ اللہ کے خلاف اس کے اندر تکبر پیدا ہوجاتا ہے اور لا الہ الا اللہ کو وہ منہدم کردیتا ہے اور اسے توڑ دیتا ہے چاہے کتنی ہی بار اسے دہرائے اور اپنی غافل زبان سے اس کی تسبیح لاکھوں بار پڑھتا رہے، یہ اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ 
 یہی مفہوم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی اس آیت میں مراد لیا ہے:’’سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرہ:۲۵۶)
 یہاں کفر بالطاغوت لا الہ کے مقابلہ میں ہے اور ایمان باللہ الا اللہ ہم معنی ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کہتے ہیں:’’کیا تم نے (کبھی ان کی حقیقت میں) غور کیا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہو، تم اور تمہارے اگلے آباء و اجداد (الغرض کسی نے بھی سوچا)، پس وہ (سب بُت) میرے دشمن ہیں سوائے تمام جہانوں کے رب کے (وہی میرا معبود ہے)۔‘‘ (الشعراء: ۷۵؍تا ۷۷)
 اسی طرح لا الہ سے برأت اور عداوت کی تشریح حضرت ابراہیمؑ دوسرے مقام پر بھی کرتے ہیں: ’’اور جب ابراہیمؑ نے اپنے  باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: بیشک میں اُن سب چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم پوجتے ہو، بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا، سو وہی مجھے عنقریب راستہ دکھائے گا۔‘‘ (الزخرف:۲۶۔۲۷) (باقی آئندہ ہفتے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK