Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی ڈیولپمنٹ پلان احتجاج کرنےوا لی تنظیمیں کبھی شہریوں کو بیدار کرنے کا بھی پروگرام بنالیں

Updated: December 17, 2023, 2:20 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

شہر بھیونڈی کا نیا ترقیاتی منصوبہ یا ڈیولپمنٹ پلان (ڈی پی )۱۲؍ اکتوبر کو میونسپل کمشنر اجےویدیہ کے ہاتھوں جاری کیا گیا تھا۔

After Bhiwandi got the status of a municipal corporation, the first development plan was made in 2003. Photo: INN
بھیونڈی کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ ملنے کے بعد ۲۰۰۳ء میں پہلا ترقیاتی منصوبہ بنایا گیاتھا۔ تصویر : آئی این این

شہر بھیونڈی کا نیا ترقیاتی منصوبہ یا ڈیولپمنٹ پلان (ڈی پی )۱۲؍ اکتوبر کو میونسپل کمشنر اجےویدیہ کے ہاتھوں جاری کیا گیا تھا۔ اس پر ایک مہینے کے اندر شہریوں سے تجاویز اور مشورے منگوائے گئے تھے اور انہیں اعتراض کرنے کا بھی اختیار تھا۔’ ہم بھیونڈی کرسماجی سنگٹھن ‘ اس پلان کی مخالفت میں پیش پیش ہےاور کچھ دیگر تنظیمیں بھی اس کا ساتھ دے رہی ہیں۔ تجاویز بھیجنے کی آخری تاریخ ۳۰؍ نومبر تھی ۔مقررہ مدت کےدوران اس ترقیاتی پلان کے تعلق سے ۸؍ہزارسے زائد تجاویز اور مشورے بھیجے گئے ہیں جن میں اعتراضات بھی شامل ہیں۔ مذکورہ تنظیم کے نمائندوں نے گزشتہ دنوں میونسپل کمشنرسے ملاقات کی تھی اورنئے ڈیولپمنٹ پلان پر اپنے خدشات سے انہیں آگاہ کیاتھا۔ تنظیم کاکہنا ہےکہ یہ پلان شہرکے حق میں نہیں ہے کیونکہ اس میں زمینی سطح پرشہر کا جائزہ نہیں لیاگیا ہے،اسلئے اسے منسوخ کیا جائے اورنیا پلان تیار کیا جائے جبکہ میونسپل کمشنر کا پلان کے تعلق سے دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کی مدد سے اکٹھا کئے گئے ڈیٹا کی بنیاد پرتیار کیاگیا ہے۔ تنظیموں کے نمائندوں نے اس سلسلے میں شہری ترقیات کی وزارت سےبھی درخواست کرنے کا ا شارہ دیاہے۔
اس ترقیاتی پلان میں ۲۰؍سال (۴۳-۲۰۲۳ء) کے اندرشہر کی تصویر بدلنے کا خاکہ پیش کیاگیا ہے۔ پلان کا مسودہ جو پی ڈی ایف فارمیٹ میں دستیاب ہے،۲۴۰؍ سے زائد صفحات پرمشتمل ہے جس میں شہر کی تاریخ وتعارف سے لے کر اس کی موجودہ توسیعی حدود تک اور۱۹۶۰ء کی دہائی میں پیش کئے گئے پہلے ترقیاتی پلان کی مختصر تفصیل کے علاوہ حالیہ منظرنامہ تک کئی پہلوؤں اور ادوار کا احاطہ کیاگیا ہے۔ ترقیاتی پلان کے تعلق سے مختصرلفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ اس کا مقصد بھیونڈی کو’ گریٹر ممبئی‘ کا حصہ بنانا ہے۔ اسی لئے یہاں ایم ایم آرڈی اے کے تحت میٹرو کا کام بھی تیز رفتاری سے جاری ہے۔ پلان کے مسودہ کے مطابق میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی (ایم سی جی ایم)میں ممبئی میٹروپولیٹن ریجن (ایم ایم آر)نے ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے بعد بھیونڈی اور وسئی ویرار کی میونسپل کارپوریشنوں کو بھی شامل کیا ہے۔ایم ایم آر میں فی الوقت ۸؍ میونسپل کا رپوریشن ،۹؍ میونسپل کونسل، ۳۵؍ قصبے اور۹۹۴؍ دیہات شامل ہیں ۔یہ پورا ڈی پی اسی وسیع ترمنصوبے کا حصہ ہے۔اس میں شہر کی نئی حدود کی نشاندہی کی گئی ہے۔پرانے راستوں اورسڑکوں کووسیع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس میں پاورلوم زون اور زراعتی زون کی تخصیص کی گئی ہےاور پاورلوم کے ساتھ رہائشی زون کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ یہ سب کچھ نئے انداز میں ، نئے خدو خال کے ساتھ اور نئے رخ پر ہوگا۔
اب اس پلان سے عام شہریوں ، غریبوں اور کسانوں کے متاثر ہونے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ عام طورپر ایسے منصوبوں سے ایسے نتائج برآمدہوتے ہی ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہےکہ سماجی تنظیمیں اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ اس طرح کے منصوبوں میں سب سے بڑا مسئلہ غریبوں اورکسانوں کے بے گھرہونے کا سامنے آتا ہے۔ ڈیولپمنٹ کے نام پر کسانوں کی زمینیں چھین لی جاتی ہیں۔ بھیونڈی کے قرب و جوار میں ایسے ۲۰۰؍ سے زائددیہات ہیں۔ ڈی پی میں بھیونڈی سے گزرنے والی قومی شاہراہ اور سڑکوں کی توسیع کا بڑا منصوبہ ہے اور اس پرکسانوں کی زمینیں تحویل میں لئے بغیر عملدرآمد نہیں ہوسکتا۔ شہری علاقوں کو وسعت دینے کے نام پر وہاں پہلے سے آباد مکینوں کوعارضی طورپر ہی سہی ،بے گھر کر دیا جاتا ہے۔ اس منصوبے پر ابھی ۲۰؍ سال میں عمل ہونا ہے۔یہ ابھی صرف کاغذ پر ہےاور مسودہ کی شکل میں ہے۔ اس پرکب اور کس طرح عملدرآمد کیاجانا ہے، اس کی تو خود کارپوریشن انتظامیہ بھی ضمانت نہیں دے سکتا۔ بھیونڈی کو ۲۰۰۱ء میں میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیاگیاتھا، اس کے بعد بطور مہا نگرپالیکا ۲۰۰۳ء میں شہر کا پہلا ترقیاتی پلان بنایا گیا تھا۔ اس پہلے پلان کو ۲۰؍ سال مکمل ہوچکے ہیں۔ اس پرکتنا اور کیسا کام ہوا ہے، اس کا اندازہ شہر کی حالت دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ شہر کے اطراف کو وسعت دی گئی ہے، نئی بستیاں بسائی گئی ہیں، نئی کالونیاں قائم کی گئی ہیں۔ جہاں ترقیاتی کام ہوئےہیں وہ مین سٹی نہیں ہے۔ مین سٹی میں تو اب تک سڑکیں ہی درست نہیں ہوسکی ہیں۔ اس طرح کے ترقیاتی منصوبوں کی یہی خامی ہوتی ہے کہ اس میں پرانے علاقوں اور پرانی بستیوں کو یکسر نظر انداز کر دیاجاتا ہے۔ اس پلان سے بھی یہی اندیشہ ہے۔ بہر حال پلان پر عمل ہواور تیز رفتاری سے ہو تو تصویر صاف ہوتی رہتی ہے لیکن یہاں تو ۲۰؍ سال سے ایک پلان ملتوی رہا،جس کے اب تک ۲۵؍ فیصد (اندازاً) اہداف کو بھی پورا نہیں کیاجاسکا اور آئندہ ۲۰؍ سال کیلئے نظرثانی شدہ پلان پیش کردیا گیا۔ اس مرتبہ ایم ایم آر ڈی اے کی سربراہی، نگرانی اور تعاون سے کام تیزی ہونے کی امیدتو کی جاسکتی ہے لیکن مکمل بھروسہ کرنا اب بھی مشکل ہے۔
کئی سال پہلے سننے میں آیا تھاکہ شہر کے پاورلوم کیلئے رہائشی علاقوں سے الگ ایک صنعتی زون قائم کیاجائے گا لیکن نئے ڈی پی میں پاورلوم کے ساتھ جو رہائشی زون کی اجازت دی گئی ہےوہ کئی طرح کے سوالات کھڑے کرتی ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ کیا اس انڈسٹری کو نئے سرے سے تقویت دی جائے گی اورپرانے شہر میں یہ صنعت جس حالت میں ہے اس کا کیا جائے گا؟ ترقی یا ڈیولپمنٹ عام طورپراسی صورت میں ہوتا ہے جبکہ آبادی اور صنعتوں کو الگ رکھا جائے لیکن اس معاملے میں یہاں صورتحال مبہم ہے۔ اس کے علاوہ پرانے بھیونڈی کے شہریوں کا یہ پختہ مزاج ہے کہ وہ پاورلوم کے ساتھ ہی رہتے ہیں،ان کی آبادیاں کارخانوں کےساتھ ہی بستی ہیں۔ پاورلوم ان کیلئےکوئی الگ صنعت نہیں بلکہ ان کی گھریلو فیکٹری ہے۔
اس پلان پر ابھی طویل بحث ہونی ہے۔ سماجی تنظیموں نے اس کے خلاف ابھی مزید احتجاج کا انتباہ بھی دیا ہے۔ یہ ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک عام شہری اپنے شہر کے پلان کے تعلق سے کتنا بیدار ہے اوراحتجاج کرنے والی سماجی تنظیمیں ان کی بیداری کیلئے کیا کررہی ہیں؟ایک عام شہری کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس ڈ ی پی میں اس کے گھر،اس کے گھر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک اور راستے کا کیا کیا ہوگا، اسکے علاقے کا کیا ہوگا؟ وہ بس موجودہ صورتحال سے واقف ہوتا ہے اور اس سے قطعاً لا علم ہوتا ہے کہ پلان میں اس کے علاقے کے ساتھ کیاجانے والا ہے!کیا اسے واقف کرانا سماجی تنظیموں کی ذمہ داری نہیں؟تنظیموںکی جانب سے عام شہریوںکو اگرڈی پی کے بارے میں نہیں بتایاجاتا اور اس تعلق سے پروگرام نہیں رکھے جاتے تواس کے احتجاج کی کوئی قیمت نہیں ہوگی اور وہ یکطرفہ ثابت ہوگا۔ شہری اگر بیدار ہوں گے، واقف ہوں گے توپلان میں کسی خامی یا کمی و زیادتی کو وہ سمجھ سکیں گے ، محسوس کرسکیں گے اوربالآخر تنظیموں کے احتجاج کی طاقت بن سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK