یوکرینیوں کا دُکھ اور یورپی تعاون

Updated: March 16, 2022, 1:42 PM IST | Mumbai

بعض حکمرانوں کو درد کے دریا بہا دینے میں لطف آتا ہے۔ اُس کے علاوہ اُن کی زندگی میں کوئی اور سکھ شاید پایا ہی نہیں جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ حق مار کر اور کبھی ظلم کے پہاڑ توڑ کر لوگوں کی زندگیوں پر مصائب کی چادر تان دیتے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بعض حکمرانوں کو درد کے دریا بہا دینے میں لطف آتا ہے۔ اُس کے علاوہ اُن کی زندگی میں کوئی اور سکھ شاید پایا ہی نہیں جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ حق مار کر اور کبھی ظلم کے پہاڑ توڑ کر لوگوں کی زندگیوں پر مصائب کی چادر تان دیتے ہیں تاکہ اُن پر چلتی پھرتی لاش کا گمان پیدا ہو۔ یہ حکمرانوں کی بڑی نفسیاتی کمزوری ہوتی ہے جس سے بزدلی جنم لیتی ہے اور وہ اس بزدلی کو بہادری سمجھ کر اپنے فاتح ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ اِن دنوں روس کے صدر پوتن یہی کررہے ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ ۲۰؍ دن سے تجاوز کرچکی ہے مگر پوتن کے جنگی جنون کو قرار نہیں آرہا ہے جس کے پیش نظر یوکرین پر آئی ہوئی مصیبت ٹلنے کا نام لیتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس سے ہنستے کھیلتے شہر اور قصبے ہی تباہ و تاراج نہیں ہورہے ہیں، وہاں رہنے والوں کو اپنی جان بچانے کی فکر میں محفوظ مقامات پرجانا پڑا ہے۔ ان میں اکثریت خواتین اور بچو ں کی ہے۔ اب تک لاکھوں یوکرینی باشندے اپنا گھربار ہی نہیں، ارض وطن بھی چھوڑ چکے ہیں۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پولینڈ میں پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد کم و بیش ۱۷؍ لاکھ، ہنگری جانے والوں کی تعداد ۲؍  لاکھ ۵۵؍ ہزار، مولدووا کا رُخ کرنے والے ایک لاکھ ۶؍ ہزار، سلواکیہ جانے والے ۲؍ لاکھ ۴؍ ہزار اور رومانیہ پہنچنے والے ۵۱؍ ہزار ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ہیں چنانچہ اقوام متحدہ کے مطابق مجموعی تعداد ۲۸؍ لاکھ ہوچکی ہے۔ اندرون ملک پناہ گزینوں کی تعداد ۱۸؍ لاکھ سے کم نہیں ہے۔   اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا نقل مکانی پر مجبور ہونا ایسا انسانی بحران ہے جس کیلئے ان لاکھوں لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ذمہ دار نہیں ہے مگر سزا وہی بھگت رہے ہیں۔ دُنیا بھر میں جو ۸۲؍ ملین پناہ گزیں ہیں اُن میں ۲۶؍ ملین بیرونی ملکوں میں جائے پناہ حاصل کرنے والوں کی ہے۔ بقیہ ۵۶؍ ملین وہ ہیں جو ہیں تو اپنے ہی ملک کی حدود میں، مگر وہ بھی اپنے علاقے اور اپنے گھر جانے کے قابل نہیں ہیں۔ معلوم ہوا کہ جو اپنے ملک میں ہیں اور جو اپنے ملک سے باہر ہیں، دونوں ہی طرح کے لوگوں کی زندگی ایک جیسی ہے۔ اجنبی جگہ اندرون وطن ہو یا بیرون وطن، کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔ پناہ گزینوںکی زندگی میں اچانک پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال یکساں ہوتی ہے۔ ان میں اچھی خاصی تعداد اُن لوگوں کی ہے جو معمول کی زندگی کی آس میں طبعی عمر کے اختتام تک پہنچ چکے ہیں مگر اپنے گھر کی دہلیز تک نہیں پہنچ پائے۔ اس دکھ کو محسوس کیجئے تو زندگی کاچھوٹا بڑا کوئی بھی درد اس کی ہمسری نہیں کرسکتا۔  یورپی ملکوں نے جنگ سے متاثرہ یوکرینی باشندوں کیلئے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے اُس کی ستائش نہ کرنا بخل ہوگا۔ انہیں کسی بھی یورپی ملک میں رہنے اور روزگار حاصل کرنے کی کھلی اجازت دی گئی ہے جو تین سال کیلئے ہے۔ اس دوران اُن کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی ہر سہولت دستیاب ہوگی۔ برطانیہ نے ’’یوکرینیوں کیلئے گھر‘‘ کی اچھوتی اسکیم جاری کی ہے جس کے تحت جو برطانوی شہری یوکرینی افراد یا خاندان کو اپنے گھر کا ایک حصہ یا اپنا خالی مکان رہائش کیلئے دینگے، حکومت اُنہیں ماہانہ ۳۵۰؍ برطانوی پونڈ (کم و بیش ۳۵؍ ہزار ہندوستانی روپے) ادا کرے گی۔ اس فراخدلی کی جغرافیائی اور سیاسی وجوہات ہوسکتی ہیں مگر یورپی ملکوں کے اعلانات مصیبت زدہ یوکرینیوں کیلئے بلاشبہ بڑی راحت ہیں۔ ان کا غم تو ہلکا نہیں کیا جاسکتا مگر مشکلات کم کی جاسکتی ہیں اور یورپ یہی کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK