• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بہار میں معیاری اسکولی تعلیم کا سوال

Updated: November 23, 2023, 9:01 AM IST | Dr Mushtaq Ahmed | Mumbai

کسی بھی ملک وقوم کی تقدیر لکھنے کی قوت اساتذہ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ امید ہے کہ بہار کے اساتذہ اپنی محنت ومشقت سے محض چند سال میں معیاری تعلیم کی مثال قائم کریں گے کیونکہ حکومت بہار نے اپنا فرض پورا کردیا ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ کا جو فقدان تھا اسے دور کردیا ہے۔

Questions have often been raised about the quality of school education in Bihar
بہار میں اسکولی تعلیم کے معیار کے متعلق اکثر طرح طرح کے سوالات اٹھتے رہے ہیں

بہار میں اسکولی تعلیم کے معیار کے متعلق اکثر طرح طرح کے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ بالخصوص جب کبھی سرکاری ایجنسیوں یا پھر غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ اسکولی تعلیم پر مبنی رپورٹیں شائع کی جاتی رہی ہیںتو یہ خلاصہ کیا جاتا رہا ہے کہ ریاست کے اسکولوں میں روز بروز معیارِ تعلیم پست ہوتا جا رہا ہے۔قومی سطح پر یہ بحث ومباحثہ بھی ہوتا رہا ہے کہ ریاست بہار کے ساتویں درجے کا طالب علم معمولی حساب بھی حل نہیں کر پاتا یا پھر کسی بھی زبان کی کتاب درستگی کے ساتھ نہیں پڑھ پاتا۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی رپورٹوں کی وجہ سے ریاست کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ بھی شرمندہ ہوتے رہے ہیں اور حکومت کے لئے باعثِ فکرمندی رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دہائی میں سرکاری اسکولوں کے معیار پست ہوئے ہیں لیکن صرف سرکاری اسکولوں کے ہی نہیں بلکہ نجی اسکولوں کی حالت بھی بد تر ہوئی ہے ۔ مگر اکثر رپورٹوں میں سرکاری اسکولوں کے معیار پر ہی سوال اٹھایا جاتا رہا ہے۔  
 بہر کیف! اب حکومت بہار نے سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم کی ماحول سازی کیلئے کئی ٹھوس اقدام اٹھائے ہیں اور قدرے سخت بھی ہوئی ہے ۔ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمیوں کو دو ر کرنے کیلئےحال ہی میں ایک ساتھ پرائمری، مڈل اور سکنڈری اسکولوں میں ایک لاکھ بیس ہزار اساتذہ کی بحالی کی ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ان تمام نو منتخب اساتذہ کی اسکولوں میں پوسٹنگ سے قبل پندرہ دنوں کی ٹریننگ کرائی جا رہی ہے اور اس کے بعد ہی ان کی تقرری اسکولوں میں کی جائے گی۔ اب تک ریاست بہار میں بی ایڈ اور ڈی ایل ایڈ تربیت یافتہ کو سی ٹیٹ یا ایس ٹیٹ پاس کرنے کے بعد اسکول میں ملازمت مل جاتی تھی لیکن اس بار نتیش کمار نے سی ٹیٹ او رایس ٹیٹ پاس کرنے کے بعد بھی بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ مقابلہ جاتی امتحانات پاس کرنے والے امیدواروں کو ہی اسکولوں میں ملازمت دی ہے۔ دراصل حکومت کا موقف ہے کہ جب تک با صلاحیت اساتذہ کی سرکاری اسکولوں میںپوسٹنگ نہیں ہوگی اس وقت تک معیاری تعلیم کا ماحول سازگار نہیں ہو سکتا۔ شاید اس لئے محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کےکے پاٹھک کے ذریعہ اسکولوں میں اچانک معائنے کی رفتار تیز کی گئی ہے ۔ ضلع ایجوکیشن آفیسر سے لے کر محکمہ تعلیم کےسیکریٹری تک اسکولوں کا دورہ کر رہے ہیں اور غیر حاضر اساتذہ پر کارروائی بھی کی جا رہی ہے ۔ حال ہی میں محکمہ تعلیم نے اسکول کے اساتذہ کیلئے خصوصی اورینٹیشن پروگرام بھی شروع کیا ہے اور ریاست کے تمام اساتذہ کو ہفت روزہ تربیتی پروگرام میں شامل ہونا لازمی کیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب تک اساتذہ معیارِ تعلیم کے تقاضوں سے کما حقہٗ واقف نہیں ہوں گے اس وقت تک تعلیم کی تصویر نہیں بدل سکتی۔ لیکن اب اسکول کے اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایماندارانہ طورپر اپنے فرائض کو انجام دیں بالخصوص بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ جن اساتذہ کو نئی ملازمت ملی ہے ان سے نہ صرف حکومت کو بہت امید ہے بلکہ عوام کو بھی توقع ہے کہ اب جب اسکولوں میں اساتذہ کی کمیوں کو دور کرلیا گیا ہے اور باصلاحیت اساتذہ کی بحالی ہوئی ہیں تو ریاست میں تعلیمی فضا میں تبدیلی رونما ہوگی ۔ حکومت بہار نے ایک ساتھ ایک لاکھ بیس ہزار اساتذہ کو ملازمت کا پروانہ دے کر یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ریاست میں بی ایڈ اور ڈی ایل ایڈ پاس امیدواروں کیلئے روزگار کے دروازے وا ہوگئے ہیں۔ حکومت نے نئی بحالی کیلئے بھی اشتہار جاری کردیا ہے اور اعلامیہ کے مطابق آخر دسمبر تک ایک لاکھ سے زائد مزید اساتذہ کی بحالی ہوگی ۔ حکومت کا یہ قدم قابلِ تحسین ہے کہ ریاست کے اسکول کےنظام کو مستحکم کرنے کیلئے کئی ٹھوس قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب تک نو منتخب اساتذہ اپنے فرائض کے تئیں سنجیدہ نہیں ہوں گے اور ریاست میں تعلیمی فضا کو سازگار بنانے کے تئیں فکر مند نہیں ہوں گے اس وقت تک ریاست میں اسکولوں کی تصویرنہیں بدل سکتی۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اب نو منتخب اساتذہ اپنی حسن کارکردگی اور صلاحیت کا لوہا منوائیں اور قومی سطح پر ریاست کے اسکولی معیار کو لے کر جو منفی نظریہ قائم ہوا ہے اس کو مثبت نظریے میں تبدیل کرنے کی جدو جہد میں لگ جائیں۔ کیونکہ درس وتدریس کا پیشہ محض سرکاری ملازمت کا حصول نہیں ہے بلکہ یہ پیشہ عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی ملک وقوم کی تقدیر لکھنے کی قوت صرف اور صرف اساتذہ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ بہار کے اساتذہ اپنی محنت ومشقت سے محض چند سال میں معیاری تعلیم کی مثال قائم کریں گے۔ کیونکہ حکومت بہار نے اپنا فرض پورا کردیا ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ کا جو فقدان تھا اسے دور کردیا ہے اس لئے اب حکومت کو اساتذہ کی کمی کیلئے نشانہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ بلکہ اب اساتذہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت اور عوام کے توقعات پر پورے اتریں اور ریاست میں سرکاری اسکول کے تعلق سے جو منفی فضا قائم ہوئی ہے اسے تبدیل کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں ۔ واضح ہو کہ ریاست بہار میں گزشتہ دو دہائیوں سے اسکولوں میں معاہدہ اساتذہ کی بحالی ہوتی رہی ہیں لیکن اب حکومت نے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ جن اساتذہ کی بحالی کی ہے وہ مستقل اساتذہ ہوں گے اور انہیں باضابطہ پے اسکیل پر بحال کیا گیا ہے ۔ اگرچہ حکومت نے ریاست میں معاہدہ پر بحال اساتذہ کیلئے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ ان کیلئے بھی حکومت ایک ایسی پالیسی بنا رہی ہے جس کے ذریعہ انہیں بھی باضابطہ پے اسکیل دیا جائے گابشرطیکہ انہیں ایک مقابلہ جاتی امتحان سے گزرنا ہوگا۔ اگر حکومت تمام معاہدہ اساتذہ کو بھی مستقل اساتذہ کے طورپر مکمل پے اسکیل دیتی ہے تو میرے خیال میں اس قدم سے بھی اسکولی تعلیم کی فضامیں تبدیلی آئے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے نو منتخب اساتذہ اپنی علمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کس طرح کر پاتے ہیں اور ریاست میں معیاری تعلیم کا پرچم بلند کر پاتے ہیں۔کیونکہ اساتذہ کی تنظیموں کے ذریعہ حکومت بہار سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ معاہدہ اساتذہ کو مستقل کیاجانا ضروری ہے کہ وہ احساس کمتری کے شکار ہیں اور نفسیاتی طورپر تعلیمی فرائض کی انجام دہی میں سنجیدگی نہیں دکھا پا رہے ہیں ۔اب جب کہ حکومت نے ریاست میں اساتذہ بحالی کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی ہے اور مستقل اساتذہ کی بحالی کو یقینی بنایا ہے تو اساتذہ کی تنظیموں کے سربراہوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے تنظیمی طورپر فعال ہوں اور اساتذہ کو اپنے فرائض کے تئیں ایماندار بنائیں۔n

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK