Inquilab Logo Happiest Places to Work

آزمائش ِعلالت کے بعد رب العالمین کا سوال اور حضرت ایوب علیہ السلام کا ایمان افروز جواب

Updated: May 12, 2023, 1:02 PM IST | Nazia Abdul Sattar | Mumbai

اللہ کی جانب سے آزمائش و امتحان کا معنی واضح کرنے والے اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ جس کو آزمائش سے گزارا جاتا ہے اُسے کوئی نعمت عطا کرنا مقصود ہوتا ہے

A servant`s steadfastness in trials and tribulations leads him to success
آزمائش اور مصیبتوں میں بندے کی ثابت قدمی اسے کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے
 ’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔‘‘ (البقرہ:۱۵۵)
اہل اللہ پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہمیں اس کی طرف ہی پلٹ کر جانا ہے انہیں افراد کے لئے اللہ کی طرف سے صلواۃ اور رحمت ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔مالی اور جانی نقصان ہو  تو فرمایا کہا کرو: إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَکیونکہ اس نقصان کے بدلے رحمت کا وعدہ فرمایا گیاہے تاکہ انسان ہر مادی نقصان اور خسارے کے لئے آمادہ رہے اور یہ احساس رہے کہ یہ مادی نقصان اور خسارہ نہیں بلکہ رحمت کا ذریعہ ہے۔ جب انسان میں یہ شعور بیدار ہوجائے تو اس میں قوت تحمل پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ عظیم قوت ہے جو اخلاق حسنہ کو جنم دیتی ہے جس سے ہر انسان آنے والے مصائب و پریشانی کو فراخ دلی سے قبول کرتا ہے۔
انسان کی طبیعت میں امتحان ہمیشہ سے ہی ایک ناپسندیدہ شے ہے۔ انسان کی اس ناگواری کا سبب یہ ہے کہ اس کو دوران امتحان، چستی، باہمی ہوشیاری، محنت اور ذمہ داری سے متصف ہونا پڑتا ہے جبکہ انسان اپنی زندگی لاپروائی اور غیر ذمہ دارانہ طور پر گزارنا چاہتا ہے لیکن اگر وہ جان لے کہ امتحان کے بعد اس کو کیا کچھ حاصل ہونے والا ہے تو پھر وہ امتحان سے نفرت نہیں بلکہ محبت کرنے لگے۔ دیکھا جائے تو امتحان بہت بڑی نعمت ہے۔ جس کو امتحان سے گزارا نہیں جاتا درحقیقت قدرت اس کو کوئی نعمت عطا کرنے کے لئے راضی نہیں ہوتی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح لوگوں کا پھر اس سے نچلے درجے والوں کا۔ روایت میں درج ہے ہر شخص کا ایمان اس کے دین کے اندازے سے ہوتا ہے اگر کوئی دین میں مضبوط ہو تو امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے۔
یزید بن سیرہ فرماتے ہیں جب حضرت ایوبؑ کی آزمائش شروع ہوئی تو گھر والے سب داغ مفارقت دے گئے، مال فنا ہوگیا، کوئی چیز نہ رہی۔ آپ اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے۔ فرماتے: اے اللہ تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے، مال دیا اولادیں دیں اس وقت میرا دل ان کی طرف مشغول تھا وہ سب کچھ چھوٹ گیا ہے اب میں فکر سے آزاد ہوں۔ اب  میرے دل اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں رہی۔ لہٰذا تیرا  ذکر کیوں نہ کروں۔ راوی کہتے ہیں کہ جسم میں کیڑے پڑگئے تھے صرف آپ کی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت آپ کے پاس رہتی تھیں۔ آپ کو کھلاتی پلاتی تھیں۔ ایک دن شیطان بصورت طبیب مل گیا۔ اس نے کہا کہ آپ کا شوہر سخت بیمار ہے فلاں بت کے نام خیرات کرو یا مکھی ہی مارو تو شفا ہوجائے گی۔ جب آپ کی بیوی نے آپ کے پاس یہ واقعہ بیان کیا تو کہنے لگے کہ شیطان کس کس انداز سے گمراہ کرتا ہے۔ ایک دن دعا کی مولا! تو نے مجھے اس آزمائش سے ڈالا ہے تو ہی مجھے اس آزمائش میں سے نکال اور تو رحم فرمانے والا ہے۔
روایت ہے کہ ایک روز بنی اسرائیل کے چند لوگ آپ کے پاس سے گزرے اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ضرور اس آدمی نے کچھ بڑے گناہ کئے ہیں جو اتنی بڑی بیماری لگی۔ آپ نے یہ سنا تو خدا کی بارگاہ میں التجا کی مولا! تو سب کچھ جانتا ہے اور سجدے میں گر پڑے۔ آخر اللہ کی طرف سے ندا آئی کہ اپنی ایڑی زمین پر مارو، وہاں سے پانی نکلے گا وہی پی لو اور اس سے نہا بھی لینا۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ آپ تندرست ہوگئے اور جنت سے لباس آیا جس کو آپ نے زیب تن کیا۔ جب بیوی نے انہیں دیکھا تو نہیں پہچانا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے سب مال و اسباب بھی عطا کردیا۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے صبرو ہمت سے کام لیا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کا اجر یہ دیا کہ صحت یابی کے بعد ایک روز حضرت ایوب سے پوچھا۔ اے ایوب! بتائو، حالت بیماری کے دن اچھے تھے یا اب کے دن۔ تو حضرت ایوبؑ نے جواب دیا کہ بیماری میں دوبار تیری ندا آتی تھی اے ایوب تیرا کیا حال ہے؟ تو میرا سارا دن اس خوشی میں گزر جاتا کہ مولا نے مجھ سے میرا حال پوچھا ہے اور  مجھے تکلیف کا احساس ہی نہ ہوتا تھا۔ ایک بار رات کو پوچھا جاتا کہ اے میرے بندے تیرا کیا حال ہے؟ تو رات بھر اسی خوشی میں گزر جاتی تھی کہ میرے مولا نے میرا حال پوچھا ہے لیکن اب وہ ندا آنا بند ہوگئی ہے تو مغموم رہتا ہوں۔
اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ جب مولا کسی کو مصیبت میں مبتلاکرتا ہے تو اس کا مقصد اس بندے کو نوازنا ہوتا ہے تکلیف دینا نہیں ہوتا۔ اس بندے کو کندن بناکر تیار کرکے ایک عظیم کام سونپنا ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف آزمائشوں سے گزارا۔ اولاد تو سب کو پیاری ہوتی ہے اگر کوئی اس کو تکلیف پہنچائے تو اس کا دکھ برداشت نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کررہے ہیں۔ نبی کا خواب کیونکہ سچ ہوتا ہے تو آپ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہا ہوں۔ بیٹا کیونکہ فرمانبردار تھا۔ کہنے لگے ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے آپ کر گزریئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور ذبح کرنے کے لئے لٹا دیا۔  جیسے ہی انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے چھری چلائی تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جبریلؑ  کو حکم دیا اے جبریل جائو میرے ابراہیم علیہ السلام کے لئے دو بکرے لے جائو اور انہیں کہنا کہ تم نے اپنا خواب سچ کر دیکھا اب اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ان کی قربانی دو۔ ہم آپ سے راضی ہیں اور ہم نے آپ کو اپنا خلیل بنالیا ہے۔ اسماعیل کی اسی فرمانبرداری کے بارے میں کہا گیا:
یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد کی آزمائش کروائی۔ ان کو اولاد کے ذریعے امتحان میں ڈالا کہ اس کے دل میں اپنے بیٹے کی محبت مجھ سے زیادہ تو نہیں ہوگئی۔ مولا چاہتا ہے کہ بندے کے دل میں سب سے زیادہ محبت اللہ کی ہو پھر اس کی ۔ حدیث مبارکہ ہے کہ تم مومن ہی نہیں ہوسکتے جب تک میری محبت تم سب کی محبت پر غالب نہ ہوجائے۔
اس دنیا میں اگر کوئی مفلس و نادار ہے یا کوئی اگر امیر ہے اگر کوئی بڑے درجے یا مرتبہ والا ہے اس میں اس کا کوئی کمال نہیں ہے۔ ہر بندے کی آزمائش اس کے درجے کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ دینے والی ذات اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر اس نے آپ کو دیا تو وہ اس مفلس کو بھی دینے پر قادر ہے لہٰذا کسی کو حقیر نہ جانو بلکہ اللہ کے بندوں سے پیار کرو۔ 
 شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ تو کسی سے اوجھل نہیں کہ خانوادہ نبوت کے ۷۲؍ تن کس طرح راہ خدا میں شہید ہوئے۔ اگر حضرت امام حسین ؓ چاہتے تو یزید کی سلطنت کو پارہ پارہ کردیتے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کو سامنے رکھتے ہوئے آپؓ نے عزیمت کا راستہ اختیار کیا اور جام شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت سے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی وہ رہتی دنیا کے لئے ذلیل و رسوا ٹھہرا۔
حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے حسین ؓکو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔گویا یزید نے امام حسین ؓ کو شہید کرکے ذلیل و رسوائی مول لے لی اور امام حسین ؓ نے شہادت کو سینے سے لگاکر دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کرلی۔ امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ  فرماتے ہیں: ’’انسان پر پڑنے والی یہ مصیبتیں ظالم کے لئے سزا، مومنین کے لئے امتحان اور پیامبروں کے لئے درجات کی بلندی اور اولیاء اللہ کے لئے کرامت و بزرگی ہوتی ہیں۔‘‘
لیکن وہ لوگ جن کا ظرف کم ہے ان کا امتحان بھی ان کے ظرف کے مطابق ہوتا ہے اور اگر وہ اس امتحان میں کامیابی کے ساتھ نکل جائیں تو بعد والے امتحانوں کی باری آتی ہے۔ تمام امتحان ایک طرح کے نہیں ہوتے کسی کا امتحان فقر سے لیا جاتا ہے، کسی کا صحت و سلامتی بخش کر ، کسی کا بیماری سے، کسی کا علمی کامیابیوں سے اور کسی کا عبادت و ریاضت کی توفیق عطا کرکے۔ گو کہ امتحان ایک نعمت ہے  مگر یہ انسان کو محنت، ریاضت اور مستعدی کا خوگر بناتا ہے، آخرت کی یاد پیدا کرتا ہے اور اللہ کی یاد میں اضافہ کرتا ہے لیکن ہمیں اللہ رب العزت سے اس کی محبت اور عنایت طلب کرنی چاہئے۔ وہ ذات بہت بڑی ہے اس کی چھوٹی سی آزمائش بھی بندہ برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لئے اس اعلیٰ و بابرکت ذات سے اس کا رحم و کرم ، بھلائی اور نیکی کی توفیق طلب کرتے رہنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK