قرآن دین و کفر اور حق و باطل کے درمیان حد ِ فاصل ہے

Updated: May 28, 2021, 8:11 PM IST | Prof Sayed Abdul Khair Kashfi

قرآن نے اپنے کو بُرہان کے ساتھ ساتھ نُور بھی کہا ہے اور اس نور کے ساتھ ساتھ مبین کی صفت بھی آئی ہے۔ گویا قرآن کی دلیلیں خود بھی روشن ہیں اور دوسری چیزوں کو بھی روشن کر دیتی ہیں۔ اس طرح یہ بُرہان (اور کتاب) اپنا ثبوت آپ ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ذکر : ذکر اس شے کو کہتے ہیں جو ذہن میں محفوظ ہو، جو بھلائی نہ جاسکے۔ علامہ ابنِ مکرم صاحب ِ تاج نے لکھا ہے کہ جو کتاب تفاصیلِ دینی اور قوانین ِ اُمَم پر حاوی ہو، وہ ذکر ہے۔ قرآن میں دین کی تفاصیل بھی ہیں اور پرانی اُمتوں کے قوانین بھی محفوظ ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان کے تذکرے بھی۔ تذکرہ کے معنی ہیں یاد کرنا اور یاد دلانا۔ قرآن نے کہانی کے طور پر اپنے پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لئے پرانی قوموں کے حالات نہیں پیش کئے ہیں، بلکہ اس مقصد سے پیش کئے ہیں کہ ہم ان کے نتائج اور انجام کی روشنی میں اپنی روش حیات کا تعین کرسکیں۔
آج دنیا کے دوسرے مذاہب کی کتابیں (بالخصوص عہدنامۂ عتیق و جدید) جس صورت میں ہمیں ملتی ہیں وہ افسانے کی صورت میں ہیں، ایسے افسانے جن کی دلچسپیوں میں ہم گم ہوجائیں اور جب سطح پر اُبھریں تو رہنمائی کا کوئی تابناک اور درخشاں موتی ہمارے ہاتھ میں نہ ہو۔
قرآنِ حکیم کے اسالیب و خصوصیات کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں اور جو کچھ یہاں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس کے پیشِ نظر اس خیال پر تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ قرآن جہاں روح، جنّت اور اللہ کے انعامات کا ذکر کرتا ہے وہاں الفاظ پر ِ جبریلؑ کی آواز بن جاتے ہیں، اور جہاں احکا م و ہدایت دیتا ہے وہاں ہرلفظ زندگی کی طرح سنگین ہے۔ اسالیب کا یہ تنوع اس کے اعجاز کا ایک پہلو ہے۔
ذکر کے معنی عظمت اور بڑائی کے بھی ہیں۔ اس اعتبار سے بھی یہ کتابِ جلیل ’الذکر‘ ہے۔ جس آیت ِ کریمہ (آل عمران،  آیت ۵۸) کا اقتباس ابھی آپ نے پڑھا ہے اس میں ’ذکرالحکیم‘ کے ساتھ ساتھ ’آیات‘ بھی کہا گیا ہے۔ آیت نشانی کو کہتے ہیں۔ اللہ کی نشانیاں ہماری ذات اور کائنات دونوں میں موجود ہیں:
اے انفس و آفاق میں پیدا ترے آیات
قرآن حق ہے اور اس اعتبار سے اللہ کی سب سے محکم آیت اور نشانی ہے (ویسے قرآن کے ہرحکم یا جملہ کو آیت کہا جاتا ہے)۔ اللہ ہمارے دائرۂ ادراک سے باہر ہے:
ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود
اور اس مسجود کے لئے قبلہ نمائی کے فرائض قرآنِ حکیم ادا کر رہا ہے۔ یہ معبود کی طرف سب سے اہم اشارہ ہے۔ اس میں غوروفکر لقائے رب کا وسیلہ بنتا ہے۔
    موعظت: وہ کتاب جو بہت واضح ہو، جو قوانین کا مجموعہ ہو، جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتی ہو، جس کی بیان کردہ باتیں مستحکم حقائق کا درجہ رکھتی ہوں، اور جس میں ایمان والوں کے لئے ’بشارت‘ ہو۔ اس کا ایک پہلو ’وعظ‘ ضرور ہوگا۔ اور وہ کتاب موعظت کے درجے پر ضرور فائز ہوگی۔ ہدایت اور موعظت کا رشتہ حددرجہ منطقی ہے۔ جو چیز رہنمائی کرے گی، وہ راہ کے خطروں سے بھی ڈرائے گی، جیسے سڑک پر خطرے کی مختلف علامتیں اور عبارتیں ملتی ہیں۔
 موعظت کے معانی ہیں: ’’اعمال کے اچھے بُرے نتائج سے باخبر کرنا‘‘ اس طرح کہ دلوں کی کیفیت بدل جائے۔ بعض ائمہ لغت نے اس میں حکم کے پہلو کو بھی شامل کیا ہے۔ یعنی صرف خبر دینا نہیں، بلکہ حکم دینا، اور (بُری باتوں سے) روک دینا۔ اسی اعتبار سے قرآن مجید نے اپنے آپ کو موعظت کہا ہے:
’’یہ (قرآن) انسانوں کے لئے بیان اور اہلِ تقویٰ کیلئے ’ہدایت‘ اور ’موعظت‘ ہے۔‘‘ (آل عمران ۳:۱۳۸) 
یعنی اس کتاب سے ایک طرف تو عام انسانوں کو دین  حق کے بارے میں حقائق معلوم ہوتے ہیں اور دوسری طرف مومنوں اور متقیوں کیلئے یہ کتابِ ہدایت ہے، ایسی ہدایت جو بُرے اعمال اور غلط روش کے نتائج سے آگاہ کرتی ہے اور حکماً ان سے روکتی بھی ہے۔
علم: ہدایت اور موعظت کے لئے لازمی ہے کہ وہ حق ہو اور حق کا تعلق علم سے ہے۔ قرآن اللہ کا علم ہے۔ اس اجمال کی تفصیل مناسب ہوگی۔ اللہ نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
’’اللہ نے جو کتاب تم پر نازل کی ہے اس کی نسبت وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ کافی ہے گواہی کے لئے۔‘‘ (النساء۴:۱۶۶) 
یہ ہے قرآن کے بارے میں اس کے بھیجنے والے کا بیان، اور خطاب ہے اپنے رسولؐ سے۔
’علم‘ یقین اور حقیقت کے احاطہ و ادراک کو کہتے ہیں۔ یقین اور حقائق کی بنیاد دلیل و بُرہان پر ہوتی ہے۔ حق اور علم کو محض جذبات کا سہارا نہیں لینا پڑتا بلکہ حق اپنے آپ کو دلیل اور عقل کی بنیادوں پر منواتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عقلی طور پر حقائق کو قبول کرنے کے بعد ہم انہیں اپنے جذبات کے پیکر میں ڈھال لیں۔ عقل اور دل کے درمیان اتنے فاصلے نہیں ہیں جن کا عام طور پر ذکر کیا جاتاہے۔ ایک طرف اگر مومن کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ: ’’اس کتاب کو سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں‘‘ (المائدہ ۵:۸۳)، تو دوسری طرف اسی جماعت کے لئے کہا گیا ہے کہ وہ ’’اس کتاب پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔‘‘  (الفرقان ۲۵:۷۳) بلکہ اسے ذہنی اور عقلی طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اس کتاب کی تفصیلات علم کے ستونوں پر بلند کی گئی ہیں۔ (اعراف ۷:۵۲)۔
    بُرھان اور نُورِ مبین: قرآن ’بُرہان‘ ہے اور یہ بُرہان بھی ایسی واضح کہ اسے ’نُورِمبین‘ کہا گیا:
’’اے لوگو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بُرہان آچکی اور تمہاری طرف واضح نُور بھیج دیا۔‘‘ (النساء ۴:۱۷۴) 
’بُرہان‘ روشن اور مستحکم دلیل کو کہتے ہیں۔ باطل کے پاس بودی دلیلیں تو ہوتی ہیں لیکن بُرہان نہیں ہوتی۔ اسی لئے قرآن نے اپنے مخالفین سے کہاکہ اگر ’’تم سچے ہو تو اپنی دلیلیں اور بُرہان لائو۔‘‘ ظاہر ہے کہ باطل کے ترکش میں بُرہان کا تیر کہاں سے آیا؟
قرآن نے اپنے کو بُرہان کے ساتھ ساتھ نُور بھی کہا ہے اور اس نور کے ساتھ ساتھ مبین کی صفت بھی آئی ہے۔ گویا قرآن کی دلیلیں خود بھی روشن ہیں اور دوسری چیزوں کو بھی روشن کر دیتی ہیں۔ اس طرح یہ بُرہان (اور کتاب) اپنا ثبوت آپ ہے۔
جو معروضات پیش کی گئی ہیں ان کی روشنی میں غور فرمایئے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ نُور کا ہدایت (ھُدٰی) سے گہرا اور راست رشتہ ہے۔ جو چیز نُور نہ ہو وہ سبب ِہدایت نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ نُور اشیاء، ارادوں، افراد سب کے مقام کا تعین کرتا ہے۔ جو شے حقیقی معنوں میں نُور ہوگی وہ وسعت اور فراخی سے ہم کنار ہوگی۔ اس کا دائرہ اور احاطہ وسیع ہوگا۔ قرآن نُور بھی ہے، اللہ کے احکام کے نُور کا سفر بھی ہے اور سفر کی داستان بھی۔ یہ ایسا نُور ہے جو ہردور میں وحی کے ذریعے انسانوں کو ملا۔ اس طرح قرآن نُور، حق، ہدایت اور ان تمام صفات جن کا ذکر آچکا ہے یا آئے گا، کے ساتھ ساتھ مُھَیْمِن ہے۔ مُصَدِّق اور مُھَیْمِن میں نہایت لطیف فرق ہے۔ قرآن نے ان دونوں صفات کو ایک ساتھ استعمال کرکے اس فرق کو اور اُبھار دیا ہے:
’’ پھر اے نبیؐ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے، اور الکـتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے۔‘‘(المائدہ ۵:۴۸)
قرآن اللہ کے ابدی قوانین (جو پہلی کتابوں میں آچکے ہیں) کی تصدیق بھی کرتا ہے اور ان کا پوری طرح احاطہ بھی کئے ہوئے ہے۔ اسی لئے ان صفات کی روشنی میں اسی آیت میں آگے چل کر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ’’جو حکم اللہ نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق اُن کا فیصلہ کرنا اور جو حق تمہارے پاس آچکا ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔‘‘ (المائدہ ۵:۴۸)
قرآنِ حکیم صحف ِ اولیٰ کا مُھَیْمِن اس لئے ہے کہ اس کے سہارے انسان اپنی منزل تک پہنچ سکے اور منزل تک پہنچنے کیلئے اسے جس سہارے کی ضرورت ہے وہ یہی ابدی تعلیمات ہیں۔ اسی لئے قرآن نے اپنے آپ کو بلاغ بھی قرار دیا ہے: ’’اور یہ قرآن  مجھ پر اس لئے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس تک پہنچ سکے اسے آگاہ کردوں۔‘‘(الانعام ۶:۱۹) 
اِنذار (ڈراوے) کا ذکر بشارت کے ساتھ ہونا چاہئے  تھا کیوں کہ بشارت اور اِنذار دونوں سے مل کر ایک بات کی تکمیل ہوتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لئے بشارت ہے تو غلط روشِ حیات کو اپنانے والوں کے لئے اِنذار۔ اور تنذیر آگاہ کرنے کو کہتے ہیں۔ کسی ایسی چیز (خطرے) کے نتائج سے آگاہ کرنے کو جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو۔ قرآن نے زندگی کے دو اسالیب کو صاف صاف پیش کر دیا ہے: ایک اسلام، دوسرا کفر۔ ایک کے لئے بشارت ہے ، دوسرے کے لئے اِنذار۔ لیکن اس ڈراوے اور آگاہی سے صرف وہی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جن کے دل مقفّل نہ ہوں، کان کھلے ہوں اور آنکھیں دیکھ رہی ہوں ورنہ:
’’ان کے حق میں برابر ہے خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘(البقرہ ۲:۶)
قرآن حکیم کی جو صفات اللہ تعالیٰ نے اس مقدس اور آفاقی کتاب میں بیان فرمائی ہیں وہ ایک دوسرے سے جس قدر وابستہ ہیں ان کا ہلکا سا اندازہ اس حقیر کوشش سے ہوسکتا ہے۔ میری ناچیز رائے میں یہ صفات اس ترتیب کے ساتھ آتی ہیں کہ ہرصفت اپنے بعد آنے والی صفت کی وضاحت کردیتی ہے۔
مبارک: وہ کتاب جو انسانیت کے لئے ہدایت، بشارت اور حکمت ہے، وہ کتنی مبارک ہوگی:
’’ اور یہ مبارک کتاب (بھی) ہم نے نازل کی ہے۔ پس اس کی پیروی کرو۔ اور (اللہ کا) تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (الانعام ۶:۱۵۵)
’مبارک‘ کی وضاحت اسی آیت کریمہ میں تقویٰ اور رحم سے ہوگئی ہے۔ ’مبارک‘ وہ چیز ہے جس میں ایسا ثبات ہو، یا ایسا ثبات دوسروں کو عطا کرے جس میں استحکام کے ساتھ نمو بھی ہو، یعنی بڑھتے رہنے کی صلاحیت۔ اُردو میں یہ لفظ اپنی وسعتوں کے ساتھ منتقل ہوا ہے: ’’اس کے ہاتھ میں کتنی برکت ہے۔‘‘یا  ’’اس کے قدم ہمارے گھر کے لئے کتنے مبارک ثابت ہوئے۔‘‘ ثبات اور نمو کے ساتھ ساتھ برکت میں خیروفلاح اور کثرت کے معنی بھی موجود ہیں۔
    مفصّل: قرآن فرقان ہے۔ اس پر گفتگو ہوچکی ہے۔ کتاب اللہ نے اپنے آپ کو فرقان کے ساتھ کتاب، بیان  اور آیات بھی کہا ہے۔ ان سب لفظوں میں وضاحت کے معنی ہیں۔ ایسی وضاحت جو روشن ہو اور چیزوں کو الگ الگ کردے۔ پھر یہ ’علم‘ بھی ہے وہ علم جس میں تفصیل ہو۔ ان حقائق کے پیش نظر خالق اکبر نے اپنی کتابِ حمید کو کتابِ مفصل کہا ہے:
’’اور وہی تو ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب بھیجی۔‘‘(الانعام ۶:۱۱۴) 
قرآن دین و کفر اور حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل ہے اور اس اعتبار سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر اس لحاظ سے بھی، کہ نہایت وضاحت رکھنے والی کتاب ہے۔ وضاحت کا مفہوم ذہن میں واضح ہونا چاہئے۔ اس کے احکام میں اُلجھن نہیں۔ یہی صفائی وضاحت ہے۔ وضاحت تفصیلات کو نہیں کہتے۔ قرآن کے احکام میں کہیں اُلجھن نہیں۔ اس میں جہاں تفاصیل اور عملی شکلیں نہیں دی گئی ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ انہیں اسوئہ حسنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں تلاش کیا جائے جو قرآن کے اجمال کی تفصیل اور اشارات کی تفسیر ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK