جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار اور احترام

Updated: July 14, 2022, 11:20 AM IST | Mumbai

جمہوریت کی قدر کئے بغیر جمہوریت کی بقاء ممکن نہیں۔ ملک کے تمام ۱۳۰؍ کروڑ شہریوں کیلئے یہ حقیقت باعث فخر ہے کہ آزادی کے بعد، ہندوستان کی بہتر تعمیر و تشکیل کیلئے جمہوری نظام ِ حکومت کو ضروری سمجھا گیا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 جمہوریت کی قدر کئے بغیر جمہوریت کی بقاء ممکن نہیں۔ ملک کے تمام ۱۳۰؍ کروڑ شہریوں کیلئے یہ حقیقت باعث فخر ہے کہ آزادی کے بعد، ہندوستان کی بہتر تعمیر و تشکیل کیلئے جمہوری نظام ِ حکومت کو ضروری سمجھا گیا۔ یہ، ملک کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اور پھر ملک کو جمہوری آئین سے سرفراز کرنے والے مجاہدین آزادی کا تحفہ تھا جو اِس ملک کو ملا اور جس کی وجہ سے اس کی قدروقیمت میں اضافہ ہوا۔ پارلیمانی جمہوری نظام ِ حکومت میں حکمراں جماعت یا اتحاد کی جتنی اہمیت ہوتی ہے اُس سے کم اہمیت اپوزیشن کی نہیں ہوتی۔ اس نظام ِ حکومت میں اپوزیشن حکومت کے ناقد یا محتسب کا کردار ادا کرتی ہے۔ مغربی ملکوں میں کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں ’’انتخاب جیتنے والی پارٹی یا پارٹیاں مختارِ کل نہیں ہوتیں۔ جہاں حکومت کو پالیسی مرتب کرنے اور قانون بنانے کا اختیار ہے وہیں اپوزیشن کو اپنی بات کہنے، مثبت اور تعمیری کاموں میں برسراقتدار طبقے کا ساتھ دینے اور جہاں کہیں بھی خامی دکھائی دے، وہاں ٹوکنے اور دلائل کے ذریعہ حکومت کو قائل کرنے کا حق ہے۔‘‘  ہم عرصہ ٔ دراز سے اس اُصول پر قائم ہیں جس کے سبب ایسے کئی مواقع اس ملک کی جمہوری پارلیمانی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جن میں حکومت نے اپوزیشن کے مطمح نظر کو نہ صرف سنا اور سمجھا بلکہ اسے تسلیم بھی کیا۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی تقریر (مورخہ ۲۸؍ مئی ۱۹۹۶ء) کا ویڈیو آج بھی دیکھا اور سنا جاسکتا ہے جس میں اُنہوں نےپارلیمانی جمہوریت کو محض چند جملوں میں اس طرح بیان کردیا تھا کہ اس سے بہتر تعریف مشکل ہی سے ملے۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ ’’اقتدار کی لڑائی جاری رہے گی، حکومتیں آئیں گی جائیں گی، پارٹیاں بنیں گی ٹوٹیں گی مگر اس ملک کو بحیثیت جمہوریت باقی رہناچاہئے۔‘‘ اسی تقریر میں شری واجپئی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہم ایوان میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے روپ میں بیٹھیں گے اور آپ کو ہمارے تعاون کے ساتھ ایوان چلانا پڑے گا۔‘‘
 اس تقریر میں آنجہانی واجپئی کی روایتی خود اعتمادی تو جھلکتی ہی ہے، یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے کردار کو نہ صرف سمجھتے تھے بلکہ ہر دو کرداروں میں خود کو ملک کے عوام کے تئیں ذمہ دار محسوس کرتے تھے۔ 
 مگر، وقت بدلا، حالات بدلے اور اب یہ صورتحال ہے کہ اپوزیشن کے کردار کو غیر اہم سمجھا جارہا ہے۔ یہ نہایت افسوسناک ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسے بے شمار واقعات ہوئے ہیں جن میں اپوزیشن کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کی وہ حقدار ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ کے بغیر بل منظور کرنے، اپوزیشن کی ریاستی حکومتوں کو متزلزل کرنے اور حال ہی میں صدارتی اُمیدوار کیلئے حزب اختلاف کی پارٹیوں کو اعتماد میں نہ لینے جیسے درجنوں معاملات سے جمہوریت مضبوط نہیں کمزور ہورہی ہے۔ حکومت کو اس نکتے پر لازماً غور کرنا چاہئے کیونکہ جمہوری نظام ہی پارٹیوں کو اقتدار بخشتا ہے۔ اس زاویہ سے ، اِس نظام کی اہمیت محسنوں جیسی ہے۔ جمہوریت نہ ہو تو الیکشن نہ ہوں اور الیکشن نہ ہوں تو اقتدار تک رسائی ممکن نہ ہو۔  جمہوریت کو ’’چیکس اینڈ بیلینسیز‘‘ کا نظام قرار دیا جاتا ہے جو ذمہ داری اور جواب دہی سے عبارت ہے۔یہ نظام تبھی بحسن و خوبی جاری رہ سکتا ہے  جب اپوزیشن کی حیثیت کا احترام کیا جائیگا۔ آنجہانی واجپئی ہی کا قول ہے کہ اپوزیشن کا وطیرہ اختلاف ہے، اسے دشمن نہیں سمجھنا چاہئے۔ موجودہ سیاست میں اسے دشمن ہی سمجھا جارہا ہے ورنہ اسے ختم کرنے کے حربے کیوں آزمائے جاتے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK