بیداری اور جمہوریت کی بقا کیلئےنوجوانوں کا کردار

Updated: June 07, 2020, 4:25 AM IST | Mubarak Kapdi

کوروناوائرس کی بیماری اور ملک گیر لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ حالات میں ہمارے جامعات کے پڑھے لکھے نوجوانوں پر دُہری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ اول یہ کہ ملک میں جمہوریت کو بچانا ہےاور دوم یہ کہ اپنی قوم میں صحت و ماحولیات کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے

Environment - Pic : INN
ماحولیات ۔ تصویر : آئی این این

ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ آزادی کے بعد  اس ملک کی پہلی تالہ بندی کے بعد کے سیاسی، سماجی، معاشی و تعلیمی منظر نامے کی۔اس میں معاشی معاملات کو چھوڑ کر باقی سب کا جائزہ اور مستقبل کیلئے لائحۂ عمل ایک عام آدمی کیلئے بھی ممکن ہے البتہ معاشی محاذ پر کسی بھی پیش قدمی کیلئے ہمارے پاس حقیقی اعداد وشمار اور ملک میں عدل جہانگیری کا ہونا ضروری ہے ۔چارلس ڈیگال نے کہا تھا کہ سیاست میں وطن کو دھوکہ دینا پڑتا ہے یا پھر عوام کو ۔آج بدبختی سے عنان حکومت ان کے ہاتھوں میں ہے جو  منصوبہ بند طریقے سے دونوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔اس ملک میں چند برسوں سے کئی افراد کئی جمہوری ادارے اور کئی سماجی و فلاحی تنظیمیں حکمرانوں کی زد پر ہیں اور ہر سو سناٹا ہے۔انگریزوں سے بھی یہ کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ ۳۵؍ افراد پر مشتمل ان کی ایسٹ انڈیا کمپنی اس ملک میں صرف تجارت کی غرض سے آئی تھی۔دھوکے سے انہوں نے ملک کی ایک ایک ریاست پر قبضہ کر لیا اور پھر ان کے راج کو چیلنج کرنے والوں کو انہوں نے کس بنا پر اور کس قانون کے تحت سولی پر تک  چڑھایا؟سنگھ پریوار سے بھی آج کوئی یہ دریافت نہیں کر رہا ہے ایک جمہوری عمل سے انہیں اس ملک کی عنان حکومت سونپی گئی تھی، آج اس ملک کے شہریوں کو اذیت پہنچانے حتی کہ ہلاک کرنے کا حق انہیں کس نے دیا؟
 نوجوانو!آج اس ملک پر سب سے برا حملہ سوشل میڈیا یونیورسٹی وائرس نے کیا ہےجس میں اپنے کسی مخالف پر ۵-۱۰؍ سے لے کر ۱۰۰-۲۰۰؍ روپوں کے عوض میں کردار کشی کے کمنٹس لکھے جاتے ہیں، کچھ اس حد تک کہ سیکڑوں میل پیدل چلنے والے لاکھوں مزدوروں کے بارے میں وہ یہ بھی لکھ سکتے ہیں کہ یہ ان کے پردھان سیوک کا ایک’ماسٹر اسٹروک‘ ہے کہ پنڈت نہرو کی ڈسکوری آف انڈیا پرانی ہوچکی،  اب یہ لاکھوں بھوکے پیاسے مزدور جو ہزاروں میل پیدل چل رہے ہیں، وہ تاریخ مرتب کر رہے ہیں اور یہی ہندوستان کی اصل ’کھوج‘ہے۔جی ہاں اسی پرلے درجے کی بے حسی سے یہ ملک گزر رہا ہے۔ اسلئے  آج جب یہ کہا جاتاہے کہ اس ملک میں ۸۰؍ کروڑ لوگ غریبی سے نچلی سطح پر جی رہے ہیں تبھی تو انہیں تین ماہ تک ۵-۵؍ کلو اناج مفت دیا جائے گا تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں بھی غریب لوگ رہتے ہیں ۔کتنی چالاکی اور مکاری سے عوام الناس کو بےوقوف بنایا جاتا ہے، اسلئے کہ امریکہ میں جس کے پاس صرف ایک بنگلہ اور ایک کار ہو، اس کو غریب کہا جاتا ہے ۔
 نوجوانو! جمہوری نظام میں اگر حکمراں طبقے پر نشہ طاری ہو تو ملک کو بچانے کیلئے تین اداروں کو آس سے دیکھا جاتا ہے۔حزب مخالف،میڈیا اور عدلیہ ۔یہاں آج یہ کہا جاتا ہے کہ حزب مخالف کو یہ کہہ کر ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ ان کی فائلیں ای ڈی اور ا نکم ٹیکس کے دفتروں میں تیار ہیں ۔میڈیا کو کروڑوں کے اشتہارات کا لالچ دیا جاتا ہے اور عدلیہ، اس پر کچھ نہ کہا جائے تو بہتر ہے کیونکہ اب وہ حقیقی معنوں میں ’مقدس گائے‘ کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔اس اندھیارے میں امید کی واحد کرن ہمارے نوجوان ہیں۔وہ نوجوان جو صرف کلاس روم میں نہیں بلکہ اس سے باہر بھی سوال پوچھ سکیں، سیاستدانوں کے ہتھکنڈوں کو سمجھ سکیں، میڈیا کی پیدا کردہ خبروں کے پیچھے چھپی خبروں کا تجزیہ کر سکیں ۔وہ نوجوان جو قوم کیلئے اور سماج و ملک کیلئے کھپنے کو تیار ہوں ۔وہ ہر بار یہ کہیں کہ چاہے سارے ادارے غفلت کی نیند سو جائیں ، مجھے بیدار رہنا ہے، اگر اس ملک میں جمہوریت ،انصاف اور انسانیت کو باقی رکھنا ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسے  نوجوانوں کی تشکیل ہو جن کا یہ عقیدہ ہو کہ سچائی کی اپنی ایک قوت ہوتی ہے۔ روشنی کی طرح جو ہمیشہ اور ہر حال میں تاریکی کو تحلیل کر دیتی ہے۔ آج اس قوت کے اظہار کا وقت اسلئے آن پڑا ہےکہ موجودہ حکومت اور اس کے  نمائندے حق پسندوں اور حق کے سپاہیوں کو انتہائی نازیبا اور رکیک لفظ استعمال کر رہے ہیں۔کاش!انصاف کی ترازو کے سامنے بیٹھے ہوئےمنصفین اس لفظ پر احتجاجا اپنی کرسیوں سے اٹھ کھڑے ہو جاتے اور حکومت کے اس افسر اعلیٰ کو ڈانٹ پلاتے ۔
  چند روز قبل امریکہ کے جارج فلائیڈ نے یہ آواز لگائی کہ میرا دم گھٹ رہا ہے تو پورا بر اعظم امریکہ ہل گیا ۔آج اس ملک کا تعلیمی  نظام، معیشت، مزدور، کسان، اقلیتیں حتی کہ (کل ۴ جون کو )اس ملک کے سب سے بڑے میڈیکل ادارے ایمس کے ڈاکٹر بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ میرا دم گھٹ رہا ہے، میرا دم گھٹ رہا ہے۔ان ساری چیخوں پر بھی ہمارے نوجوان کان پر ہاتھ کیسے رکھ سکتے ہیں؟
 نوجوانو! ان ڈھیٹ سیاستدانوں کی سیاست کو سمجھئے۔حال کے غیر منظم اور غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن سے ظاہر ہو چکا ہے کہ کورونا یا مستقبل میں آنے والے وائرس ان کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ اس کی آڑ میں ساری جمہوری سرگرمیوں پر گرفت کی جاسکتی ہے ۔کوئی سوال کرنے کی جرأت کرے تو اس پر ملک دشمنی کا مقدمہ عائد کیا جا سکتا ہے ۔حال ہی میں ٹڈیوں کے دل کی شکل میں ایک اور آفت آئی تو ایسے ہی سیاست دانوں کی بانچھیں کھل گئیں کہ اب ٹڈی لاک ڈاؤن، ٹڈی کرفیو، ٹڈی معاشی پیکیج اور ٹڈی کیئر فنڈ..چلئے اب ان سیاست دانوں کی باتیں چھوڑیئے ۔وہ ہمیشہ ہی سے موٹی چمڑی کے ہوتے ہیں ۔ہمارے جامعات کے طلبہ نے معاشرے میں یہ بیداری لانی ہے کہ ٹڈی دل ہوں یا کوئی اور وائرس یہ صرف اور صرف ماحولیات کے ساتھ مذاق کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں کبھی کوئل کی کوک اور بلبل کے نغمے سنائی نہیں دیں گے، وہاں صرف ٹڈی دل ہی اترتے ہیں ۔ہم اپنی غرض یا خود غرضی و حماقت سے کھیتوں  پر کیمیکل کا چھڑکاؤ کرتے ہیں،معصوم چڑیوں تک کو ہلاک کرتے ہیں اور پھر بطور سزا ٹڈی دل ہمارے پورے زرعی نظام کو تہہ و بالا کرتے ہیں ۔
 نوجوانو! آج ہم کورونا کی وبا اور اس سے پیدا شدہ جملہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں تب ہمیں اپنی قوم کے رویہ اور برتاؤ کا بھی تجزیہ کرنا ہوگا۔کورونا ایک وائرس ہے، وبا ہے یا بلا مگر ایک حقیقت ہے ۔ہم میں سے اکثر کا اور  بجا طور پر یہ کہنا ہے کہ یہ ماحولیات کے ساتھ کھلواڑ کا نتیجہ ہے البتہ کیا اس پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ ہماری قوم کے بے شمار افراد اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کورونا کوئی وائرس وغیرہ نہیں ہے،یہ مسلمانوں کیخلاف ایک سازش ہے۔ صہیونی سازش، یورپی سازش، امریکی سازش اور اسرائیلی سازش وغیرہ ۔ایسا کہنے والے نہ جانے کس دنیا میں رہتے ہیں کیونکہ دنیا کے ۱۲۳؍ ملکوں نے یہ تسلیم کیا کہ کورونا ایک عالمی وبا ہے اور اس وبا نے سب سے پہلے آج کی واحد سپر پاور امریکہ پر حملہ کر دیا اور اب تک ایک لاکھ سے زائد امریکی لقمہ اجل ہوگئے۔ مغرب کی دوسری طاقتیں جیسے برطانیہ، فرانس، اٹلی اور برازیل میں بھی ہزاروں افراد جاں بحق ہوگئے اور لاکھوں افراد اب بھی زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ہر ملک میں سیکڑوں ڈاکٹر بھی کرونا کے مقابلے میں اپنی جان گنوا بیٹھے جن میں وطن عزیز کے۱۱۰؍ سے زائد اور پاکستان کے ۲۳؍ ڈاکٹر شامل ہیں ۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار۱۳؍ بڑی معیشتوں کا بیڑہ غرق ہو گیا۔دنیا کی تمام اسٹاک ایکسچینج ناتلافی حد تک تباہ ہو گئیں ۔تمام اسلامی ممالک کا جملہ نقصان بمشکل ایک فیصد ہوا ہوگا۔دنیا کی ہوائی سفر کی انڈسٹری کو تین ہزار ڈالر کا نقصان ہوااور ہوٹل اور سیاحتی انڈسٹری کو ۲۷۰۰؍بلین ڈالر کا۔ان واضح اعداد و شمار کو بھی اگر ہمارے معاشرے میں سمجھا  نہیں گیا  تو صحت کے محاذ پر ہمیں یہ مناظر بار بار دکھائی نہ دیں جو پولیو کے ڈوز کے خلاف ہمارے یہاں دکھائی دیتے تھے۔دراصل ہمارے یہاں چند غیر ذمہ دار افراد نے پولیو کے ڈوز کو مسلمانوں کے خلاف ایک سازش قرار دیا اور ہم نے دیکھا کہ کچھ جگہ پر مائیں ڈاکٹروں سے ہاتھاپائی پر اُتر آئیں اور اپنے بچوں کو پولیو کی خوراک پلانے سے انکار کیا ۔
 نوجوانو! ہمارے محلے کے چوپال بند ہیں مگر وہاٹس ایپ کے چوپال کھلے ہیں۔ وہاں ہماری قوم میں یہ  بحث چلی ہے کہ مغربی ممالک اور چین اس کی ویکسین ایجاد کر اس سے کھربوں ڈالر کمانا چاہتے ہیں۔ اب اگر عالمی ادارہ صحت کل یہ اعلان کر دے کہ اس کی ویکسین عوام کو مفت دی جائے گی تب ہمارے’ چوپال مفکرین‘ کیا کہیں گے؟ کرونا کے بعد دنیا میں معیشت ، معاشرت، طرز زندگی اور ترجیحات و نفسیات میں یقینی طور پر تبدیلی ہونے والی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے روایتی مفکرین  پھر سر نہ ابھاریں اور منہ میں پان کی گلوری رکھ کر اپنی تقریر یوں شروع نہ کریں کہ ’’بھئی لطف آگیا جو امریکہ کو قدرت نے مزہ چکھایا‘‘ اور اپنی تقریر کچھ اس طرح ختم کریں کہ’’ اب جہاں تک کوروناوائرس کے علاج یا ٹیکے کا معاملہ ہے تو وہ تو امریکہ کو دریافت کرنا چاہئے۔ اتنی بڑی سپر پاور بنے پھرتا ہے،اسی کو چاہئے کہ اپنے ترقی یافتہ ہونے کا ثبوت دے اور ٹیکہ دریافت کرے۔‘‘نوجوانو! اس کاہل، نااہل، شکست خوردہ،جذباتی اور جوشیلے طبقے کو قوم پر حاوی نہ ہونے دیں۔وائرس کا صرف رونا نہیں ہے بلکہ ہر ایک کا ٹیکہ ہمارے نوجوانوں کو دریافت کرنا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK