مدارس اسلامیہ ہند نے علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت کی دینی وملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا ہے؛ بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔
EPAPER
Updated: August 15, 2020, 3:18 AM IST | Md Aamil Zaakir Miftaahi | Mumbai
مدارس اسلامیہ ہند نے علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت کی دینی وملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا ہے؛ بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔
مدارس اسلامیہ ہند نے علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت کی دینی وملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا ہے؛ بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی اہم خدمات انجام دی ہیں ۔ بالخصوص برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد اور غلامی و محکومی سے نجات دلانے میں ، مدارس اسلامیہ اور ان کے قائدین کی قربانیاں گرانقدر ہیں ۔ مگر یہ بھی بڑا قومی المیہ ہے کہ ۱۵؍ اگست کے مبارک موقع پر جب مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے تو ان علماء کرام اور مجاہدین حریت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ ان ہزاروں علماء کرام اور مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ رول ادا کیا ، خصوصاً حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا سید احمد شہیدرائے بریلوی، مولانا سید اسماعیل شہید دہلوی، مولانا شاہ اسحاق دہلوی، مولانا عبدالحئی بڈھانوی، مولانا ولایت علی عظیم آبادی، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا نذیر حسین دہلوی، مفتی صدرالدین آزردہ، مفتی عنایت احمد کاکوری،مولانا فرید الدین شہید دہلوی، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، امام حریت مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، قاضی عنایت احمد تھانوی، قاضی عبدالرحیم تھانوی، حافظ ضامن شہید، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا احمد اللہ مدراسی، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رضی اللہ بدایونی، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، امام انقلاب شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری،مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا شوکت علی رام پوری، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا ڈاکٹر برکت اللہ بھوپالی، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا کفایت اللہ دہلوی، مولانا سیف الرحمن کابلی، مولانا وحید احمد فیض آبادی، مولانا محمد میاں انصاری، مولانا عزیر گل پشاوری، مولانا حکیم نصرت حسین فتح پوری، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا ابوالمحاسن سجاد پٹنوی، مولانا احمد سعید دہلوی، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دہلوی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبدالحلیم صدیقی، مولانا نورالدین بہاری وغیرہ آسمان حریت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جنھوں نے محکومی کی شب دیجور کو تار تار کیا۔
ان حضرات کی قربانیوں کی ایک جھلک پیش کرنے کے لئے ہمیں سلسلہ وار واقعات پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پھیلتے ہوئے جال کو سب سے پہلے اگر کسی نے محسوس کیا تو وہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی کی عبقری شخصیت تھی آپ نے پوری دوراندیشی کے ساتھ اصلاح کے اصول بیان کئے اور باشندگان وطن کے بنیادی حقوق پامال کرنے والے نظام حکومت کو درہم برہم کردینے کی تلقین کی۔ان کے متعین کردہ نقشہ راہ کے مطابق ان کے فرزنداکبر حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کا منظم آغاز کیا، انگریزوں کے خلاف تاریخ ساز فتویٰ صادر فرمایا ۔ ۱۸۱۸ء میں عوام کی ذہن سازی کے لئے مولانا سید احمد شہید، مولانا اسماعیل دہلوی، اور مولانا عبدالحئی بڈھانوی کی مشاورت میں ایک جماعت تشکیل دی گئی جس نے ملک کے اطراف میں پہنچ کر دینی اور سیاسی بیداری پیدا کی، پھر انگریزوں سے جہاد کیلئے ۱۸۲۰ء میں مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی کی قیادت میں مجاہدین کو روانہ کیاگیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں علماء کرام نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا، یہ علماء حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت سید احمد شہید رحمہم اللہ کی سلسل الذہب (طلائی زنجیر) کی سنہری کڑی تھے۔ اس جنگ کے لیے علماء کرام نے عوام کو جہاد کی ترغیب دلانے کے لئے ملک کے طول و عرض میں وعظ و تقریر کا بازار گرم کردیا اور جہاد پر ابھارنے کا فریضہ انجام دیا نیز ایک متفقہ فتویٰ جاری کرکے انگریزوں سے جہاد کو فرض عین قرار دیا۔ پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑک اٹھی، اکابر علماء دیوبند نے شاملی کے میدان میں جہاد میں خود شرکت کی۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حافظ ضامن شہید نے حضرت سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی، پھر تیاری شروع کردی گئی، حضرت حاجی صاحب کو امام مقرر کیاگیا مولانا منیر نانوتوی کو فوج کے دائیں بازو کا اور حافظ ضامن تھانوی کو بائیں بازو کا افسر مقرر کیاگیا مجاہدین نے پہلا حملہ شیرعلی کی سڑک پر انگریزی فوج پر کیا اور مال و اسباب لوٹ لیا، دوسرا حملہ ۱۴؍ ستمبر ۱۸۵۷ء کو شاملی پر کیا، اور فتح حاصل کی، جب خبر آئی کہ توپ خانہ سہارنپور سے شاملی کو بھیجا گیا ہے تو حضرت حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی کو چالیس پچاس مجاہدین کے ساتھ مقرر کیا، اورجب پلٹن وہاں سے گزری تو مجاہدین نے ایک ساتھ فائر کردیا پلٹن گھبراگئی اور توپ خانہ چھوڑ کر بھاگ گئی اسی معرکہ میں حافظ ضامن تھانوی شہید ہوئے سید حسن عسکری کو سہارنپور لاکر انگریزوں نے گولی ماردی مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی مظفرنگر جیل میں ڈال دئیے گئے اور مولانا قاسم صاحب نانوتوی آئندہ کی حکمت عملی کیلئے انڈرگراؤنڈ چلے گئے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی مختلف وجوہ و اسباب کی بنا پر ناکام رہی اور آزادی کے متوالوں پر ہولناک مظالم کے پہاڑ توڑڈالے گئے۔ ان میں مسلمان اور بطور خاص علماء، انگریزوں کی مشق ستم کا نشانہ بنے۔ اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیاگیا جن میں اکیاون ہزار علماء کرام تھے۔ایڈورڈ ٹامسن نے شہادت دی ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علماء کو پھانسی دی گئی (ریشمی رومال ص:۴۵) دہلی کو مقتل میں تبدیل کردیاگیا ،بہ زبان غالب
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر نمونہ بنا ہے زند ا ں کا
شہر دلی کا ذَ رّہ ذ رّہٴ خا ک
تشنہٴ خوں ہے ہر مسلمان کا
علماء کرام نے آزادی کے چمن کو اپنے خون جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا ہے۔جن کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔