Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ، یوم مادر: بھوک، سوگ اور لاپتہ بچے، فلسطینی ماؤں کا دن بے یقینی کے سائے میں

Updated: May 11, 2026, 7:06 PM IST | Gaza

غزہ کے بے گھر کیمپوں میں اس سال مدرز ڈے (یوم مادر) خوشیوں کے بجائے بھوک، غم اور بے یقینی کے ماحول میں منایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حملوں اور مسلسل بے گھری کے باعث ہزاروں فلسطینی مائیں اپنے مقتول، لاپتہ یا قید بچوں کے غم میں زندگی گزار رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ۲۲؍ ہزار سے زائد خواتین اور تقریباً ۱۶؍ ہزار لڑکیاں جاں بحق ہو چکی ہیں۔ کئی مائیں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت کے باوجود اپنے خاندانوں کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ پٹی کے بے گھر کیمپوں میں اس سال یوم مادر خوشیوں، تحائف اور تقریبات کے بجائے بھوک، غم اور لاپتہ بچوں کی بے یقینی کے سائے میں گزرا۔ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں قائم خیمہ بستیوں میں فلسطینی مائیں اپنے ان بیٹوں کا سوگ منا رہی ہیں جو اسرائیلی حملوں میں مارے گئے، لاپتہ ہو گئے یا حراست میں لے لیے گئے۔ بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ اب ان کی خواہش ایک بہتر زندگی نہیں بلکہ صرف اپنے بچوں کی بقا اور حفاظت ہے۔ یو این ویمن کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں ۲۲؍ ہزار سے زائد خواتین اور تقریباً ۱۶؍ ہزار لڑکیاں ہلاک ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، جوہری مقام کے قریب آنے والوں کو’تباہ‘ کرنے کا انتباہ

اسی دوران یو این پوپیولیشن فنڈ اور غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ۲۲؍ ہزار سے زیادہ خواتین اپنے شوہروں سے محروم ہو چکی ہیں، جبکہ تقریباً ۵۵؍ ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین شدید غذائی قلت اور تباہ شدہ طبی نظام کے باعث صحت کے سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی ۹۰؍ فیصد سے زیادہ آبادی بار بار بے گھر ہونے پر مجبور ہوئی ہے۔ خیمے میں رہنے والی فلسطینی خاتون وداد النجار نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ چھ مرتبہ نقل مکانی کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے اپنا گھر، اپنے رشتہ دار اور اپنی ساری چیزیں کھو دی ہیں۔ اب صرف یادیں باقی رہ گئی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو رہا کر دیا

لیکن ان کے لیے سب سے بڑا صدمہ اپنے اکلوتے بیٹے کی گمشدگی ہے، جو جنگ کے ابتدائی مہینوں میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ کیا وہ مارا گیا یا قید ہے؟ مجھے صرف ایک جواب چاہیے تاکہ میرے دل کو سکون مل سکے۔‘‘ انہوں نے روتے ہوئے کہا، ’’وہی میری سانس ہے، اس کے بغیر میری زندگی نہیں۔‘‘ 

ایک اور فلسطینی ماں ہدہ المدنی اپنے ایک بیٹے کی موت اور دوسرے کی اسرائیلی جیل میں قید کے غم کے درمیان زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا ابراہیم جنگ کے دوران مارا گیا جبکہ دوسرا بیٹا احمد دو سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی حراست میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احمد کا چھوٹا بیٹا، جو اپنے والد کی گرفتاری کے بعد پیدا ہوا، اب تقریباً تین سال کا ہو چکا ہے لیکن اس نے کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھا۔ المدنی نے کہا کہ’’وہ روز پوچھتا ہے کہ اس کے ابو کہاں ہیں۔ ہمارے دل ٹوٹ چکے ہیں۔‘‘ جنگ نے صرف خاندان ہی نہیں توڑے بلکہ روزمرہ زندگی کو بھی تباہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہنٹا وائرس سے متاثر کروز جہاز اسپین کی بندرگاہ ٹینیرائف پہنچ گیا، انخلا کا آغاز

چار بچوں کی ماں ام محمود برکا نے بتایا کہ اپنے شوہر کی ہلاکت کے بعد اب وہی اپنے بچوں کے لیے ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم بھوک، خوف اور بنیادی ضروریات کی شدید کمی کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں اور گولہ باری میں تقریباً ۸۵۰؍ فلسطینی جاں بحق اور ۲۴۳۳؍ زخمی ہو چکے ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ میں ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں جبکہ ۱۷۲؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ عالمی اداروں کے مطابق غزہ کا تقریباً ۹۰؍ فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، جبکہ لاکھوں افراد اب بھی خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK