مدارس کی حیثیت باقی رہے اور نصاب تعلیم جدید علوم سے آراستہ ہو

Updated: September 23, 2022, 1:55 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

اسلام مخالف فکری یورشوں کے اس ماحول میں اگر ہم دوسروں کی بات سمجھ نہیں سکے اور اپنی بات سمجھا نہیں سکے تو کیسے اس فکری معرکہ میں سرخرو ہوسکیں گے؟

 The knowledge that accompanies life moves with the speed of life .Picture:INN
جو علم زندگی کا ساتھ دیتا ہے، زندگی کی رفتار کے ساتھ چلتا ہے ۔ تصویر:آئی این این

ہمارے دینی مدارس ایک شاندار روایت رکھتے ہیں، انہوں نے اس ملک میں اس طبقہ تک تعلیم پہنچائی ہے جو حکومت و عوام سبھی کی بے توجہی کا شکار تھا۔ یہاں خدمت کے تصور کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے۔ حالانکہ موجودہ دور میں تعلیم خدمت نہیں، تجارت  بن گئی ہےاور اس کا مقصد انسانیت کی بھلائی نہیں، صرف اور صرف پیسے کمانا ہوگیا ہے، مگر ان حالات میں بھی یہی مدارس ہیں جو نئی نسل کو اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں، دنیا طلبی کے اندھے لالچ کے مقابلہ انسانی خدمت کا جذبہ ابھارتے ہیں۔ ان خوبیوں کے باوجود ایک کمی یہ ہے کہ بعض لوگوں نے نصاب تعلیم کے ہر جز کو ناقابل تبدیل سمجھ لیا؛ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یقیناً قرآن و حدیث میں ایک نقطہ کی تبدیلی بھی ناقابل قبول ہے، ہندوستان میں پورے قرآن مجید کی تفسیر اور حدیث کے نواہم مجموعوں کی حرف بہ حرف خواندگی چاہے بعض حصے تفصیل سے پڑھائے جائیں اور بعض سرسری طور پر، بہت ہی مفید طریقہ ہے، دنیا کے بہت سے ملکوں میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں اور کتب حدیث کی منتخب کتابوں کے منتخبات پڑھانے کا جو رواج ہے، وہ ناکافی ہے؛ لیکن دوسرے علوم سے متعلق جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، ان میں نئے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ دینی مدارس میں شامل درس کتابیں نصابی نقطۂ نظر سے نہیں لکھی گئی ہیں؛ لیکن اس کتاب کی افادیت کی وجہ سے اس کو داخل درس کر لیا گیا، اس زمانہ میں طلبہ اپنی تعلیم کیلئے بھی کافی وقت لگاتے تھے اور وہ ان تمام کتابوں کو مکمل کرتے تھے۔ موجودہ دور میں طلبہ کی نفسیات کو سامنے رکھ کر نصابی کتابیں مرتب کی جاتی ہیں، زیادہ تر ایک فرد کے بجائے چند افراد مل کر نصاب تیار کرتے ہیں، اس میں طلبہ کی عمر کے لحاظ سے عبارتوں کو آسان بنایا جاتا ہے، مثالوں اور نقشوں کے ذریعہ مضمون کو فہم سے قریب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض دفعہ یہ کام تصویروں سے لیا جاتا ہے، ہر مضمون کے ساتھ مشق اور ہوم ورک رکھا جاتا ہے؛ تاکہ تعلیم وتعلم میں طلبہ کی شرکت ہو سکے۔ اگر کوئی مضمون کئی سالوں میں داخل نصاب ہو تو کس سال کتنا پڑھایا جائے؟ اس کی درجہ بندی کی جاتی ہے، اس طرح طلبہ کیلئے کتابوں کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کہ ’’کلموا الناس علیٰ قدر عقولھم ‘‘ (لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق بات کرو) کے عین مطابق ہے۔ قرآن و حدیث اور مختلف اسلامی علوم و فنون کی بنیادی کتابوں کو چھوڑ کر اسی نہج پر کتابیں مرتب کی جائیں اور پڑھائی جائیں تو کتنا بہتر ہوگا۔ اس طرح بچے مشکل الفاظ میں الجھ کر نہ رہ جائیں گے اور اصل مضمون کے بجائے عبارت کو حل کرنے میں ہی ان کی صلاحیت خرچ نہ ہو گی۔  بعض کتابیں ایسی ہیں کہ آج بھی ان کی افادیت اپنی جگہ قائم ہے، مثلاً فقہ کی کتاب ’’قدوری‘‘ ہے، جو بہت ہی سلیس متن ہے، جس میں ناپ تول کر الفاظ کا انتخاب کیا گیاہے؛ اس کے باوجود وہ عام فہم ہے۔ ایسی کتابوں کے اوپر محنت کرنے کی ضرورت ہے، مثلاً ذیلی عناوین لگائے جائیں، مسلسل عبارت کی جگہ پیراگراف قائم کیا جائے، تمرینات قائم کی جائیں، جس باب میں جو نئے مسائل آئے ہیں، باب کے آخر میں ان کا اضافہ کر دیا جائے، اس طرح قدیم متن کو جوں کا توں رکھتے ہوئے اس کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مدارس کی مشترکہ نصاب تعلیم کمیٹی ہو، جس میں باصلاحیت فضلاء اور تجربہ کار اساتذہ مسلسل نصابی کتابوں پر نظر رکھیں تاکہ ہمارا نصاب وقت کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ مدارس کے نظام تعلیم میں ایک بڑی ضرورت ہے کہ اس کو مراحل میں تقسیم کیا جائے، یہ طریقہ کار کہ جو ’’ میزان الصرف‘‘ کی جماعت میں داخلہ لے وہ بخاری پڑھ کر ہی مدرسہ سے باہر نکلے، ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ نہ تو ہر طالب علم کی صلاحیت یکساں ہوتی ہے اور نہ ملت کے تمام کاموں کے لئے یکساں صلاحیت کے حامل لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک طالب علم کو آئندہ نورانی قاعدہ کی تعلیم دینا ہے، ایک کو ناظرۂ قرآن پڑھانا ہے، ایک کو عالمیت و فضیلت کی اعلیٰ کتابیں پڑھانا ہے، ایک کو عصری درسگاہوں میں اسلامیات کا ٹیچر بننا ہے، تو ان سبھوں کو ایک ہی درجہ کی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہے؛ اس لئے ہمیں عصری تعلیمی اداروں کی طرح تعلیم کو مختلف مراحل میں تقسیم کرنا چاہئے، ہر مرحلہ کی الگ الگ سند جاری کرنی چاہئے؛ تاکہ لوگ اپنی صلاحیت کے مطابق خدمت انجام دے سکیں اور قوم وملت کے لئے مفید بن سکیں۔ اس تقسیم کے نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے طلبہ کو خواہی نخواہی عالمیت یا فضیلت تک پڑھنا پڑتا ہے، اس کے بعد اُن کے سامنے تدریس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں یہ اساتذہ تعلیم کے معیار کو متاثر کرتے ہیں  پھر جو لوگ اپنی صلاحیت کی وجہ سے تدریس میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں، وہ بلا ضرورت مدرسہ کھول لیتے ہیں، یہ مدارس تعلیمی ادارے سے زیادہ معاش کا ذریعہ ہوتے ہیں، جن پر قوم کے ڈھیر سارے پیسے صرف ہوتے ہیں؛ اس لئے اگر طالب علم ایک مرحلہ کو مکمل کر لے اور  اگلے مرحلہ کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو تبھی اگلے مرحلہ میں اس کا داخلہ قبول کیا جائے۔ ایک زمانہ میں دارالعلوم دیوبند میں ایک شعبہ’’ دارالصنائع ‘‘کا تھا، اس میں کچھ دستی صنعتیں سکھائی جاتی تھیں، جن میں زیر تعلیم طلباء کا بھی داخلہ ہوتا تھا اور فارغ شدہ طلباء کا بھی۔ اس زمانہ میں ہنر کی تعلیم کا دائرہ بہت محدود تھا، اب ووکیشنل کورسیز کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے، لڑکوں کے لئے بھی اور لڑکیوں کے لئے بھی، ایسے کورسیز بھی ہیں جن کو ناخواندہ حضرات بھی سیکھ سکتے ہیں اور ان کے ذریعہ باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ جن کے پاس وقت کی کمی ہو یا جن کا ذہن اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے ساتھ نہ دیتا ہو، یا جن پر اپنے گھر کی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ ہو، وہ کسی مرحلہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایسے کورسیز میں داخلہ لے سکتے ہیں اور حسب موقع دین کی خدمت کرتے ہوئے اپنے لئے باعزت روزگار کا راستہ نکال سکتے ہیں۔ پہلے زمانہ میں مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت کم ہوا کرتی تھی اور خطرہ ہوتا تھا کہ اگر ان حضرات نے معاش کا کوئی اور ذریعہ اختیار کیا تو دینی خدمات کے میدان میں خلا پیدا ہو جائے گا؛ مگر اب صورتحال ایسی نہیں ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس وقت دیہات وقریہ جات کیلئے دینی خدمت گزار نہیں ملتے۔ باصلاحیت فضلاء ایسی جگہوں پر جانا نہیں چاہتے۔ نسبتاً کم صلاحیت والے فضلاء بھی نہیں جانا چاہتے کیونکہ معاشی اعتبار سے یہ جگہیں ان کیلئے مناسب نہیں ہوتیں، تو کم تنخواہ کے ساتھ اگر وہ ہنر مند بھی ہوں تو یہ مہارت ان کیلئے زندگی کے گزران کو آسان بنا دے گی؛ اسلئے ضرورت ہے کہ مدارس میں چھوٹے پیمانہ کی صنعت کی تعلیم دی جائے، مثلاً بزنس مینجمنٹ کا چھوٹا موٹا کورس مرتب کرکے  پڑھایا جائے اور ان کی ایسی تربیت ہو کہ وہ اپنی دینی شناخت کے ساتھ برسرکار رہ سکیں۔
 یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اس وقت ہندوستان کی بعض مرکزی دینی جامعات سے یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ دینی مدارس میں عصری تعلیم شامل ہونی چاہئے؛ بلکہ میٹرک تک کی تعلیم ضرور ہی ہونی چاہئے، متعدد مدارس نے اپنے بچوں کو اوپن اسکول سے میٹرک اور انٹر کا امتحان دلانا شروع کیا ہے اور ماشاء اللہ مدارس کے طلبہ نے اچھے نتائج حاصل کئے ہیں، کاش، کم سے کم آج سے پچاس سال پہلے یہ کوشش شروع کی گئی ہوتی تو آج کی صورتحال بہت مختلف ہوتی، ہندوستان میں علماء کی ایسی نسل موجود ہوتی جو زندگی کے تمام گوشوں میں انسانیت کی رہنمائی کرتی؛ مگر اس حقیر نے وہ منظر بھی دیکھا ہے کہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کو بعض حضرات متہم کرتے تھے اور مدارس میں بقدر ضرورت عصری تعلیم کی شمولیت کو بری نظر سے دیکھتے تھے۔ اس حقیر نے بھی کئی بار احتیاط کے ساتھ یہ بات لکھی ہے، پھر بھی ہمارے بزرگوں اور دوستوں نے اسے بہکی ہوئی بات اور آوارہ خیالی سمجھا، مدارس کا ایک حلقہ ایسے مشوروں کو الحاد و دہریت کے درجہ میں رکھا کرتا تھا، اس کا نتیجہ ہے کہ دینی مدارس کے فضلاء اور نوجوان نسل کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا ہو گئی، وہ ایک دوسرے کو اپنی بات سمجھانے کے لائق نہیں رہے۔ غور کیجئے کہ اسلام کے خلاف ہونے والی فکری یورشوں کے اس ماحول میں اگر ہم دوسروں کی بات سمجھ نہیں سکے اور اپنی بات ان کو سمجھا نہیں سکے تو کیسے ہم اس فکری معرکہ میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟ اور اپنی نئی نسل کو ایمان پر قائم رکھ سکتے ہیں؟ اس لئے ضروری  ہے کہ تمام قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مدارس کے نصاب تعلیم کو اس طرح جدید علوم سے آراستہ کیا جائے کہ ہر مدرسے میں عصری تعلیم کا انتظام ہو۔ ایسا بھی نہ ہو کہ اس پر پوری طرح اسکول کا اطلاق ہو جائے، ایسی صورت میں اسکولوں سے متعلق قوانین کا اطلاق ہونے لگے گا اور قانونی بندشیں مدارس اسلامیہ کو جکڑ لیں گی۔ بہر حال حالات بہت نازک ہیں؛ لیکن کوئی دشواری ایسی نہیں، جس کا حل موجود نہ ہو، اور کوئی شام ایسی نہیں جس کیلئے صبح مقدر نہ ہو، ضرورت ہے غور وفکر کے ساتھ آگے بڑھنے کی اور حکمت و جرأت کے ساتھ تمام کاموں کو انجام دینے کی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK