ایک نوجوان جوڑے کی کہانی

Updated: January 12, 2020, 9:45 AM IST | Prof Syed Iqbal

اس حق گوئی اور جرأت کیلئے انہیں بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ رات کے اندھیرے میں چار سوٹ کیس اٹھاکراور اپنے ننھے بیٹے کو گود میں چھپا کر دونوں ملک سے فرار ہوگئے۔ چونکہ ان کی ڈاکیومینٹری پہلی بار جرمنی میں دکھائی گئی تھی، اسلئے انہوں نے سب سے پہلے جرمن میں قدم رکھا مگر روس کے صدر اتنے بااثر نکلے کہ جرمنی حکومت نے انہیں اپنے ہاں پناہ دینے سے انکارکردیا۔ اب ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔

وٹیلی اور یولیا اپنے ۶؍ سالہ بیٹے رابرٹ کے ساتھ
وٹیلی اور یولیا اپنے ۶؍ سالہ بیٹے رابرٹ کے ساتھ

 اگر ہم میں سے کوئی  میاں بیوی کے اس جوڑے کو دیکھ لے تو یہی گمان کرے گا کہ یہ کسی متوسط درجہ کے خاندان سے ہوں گے۔ گورے چٹے، ۲۵؍ اور۳۰؍ سال کے درمیان، صحت مند اور خوش باش۔ اپنے ۶؍سالہ بیٹے کا ہاتھ پکڑے آتے جاتے یہ میاں بیوی بظاہر اتنے خوش نظر آئیں گے کہ آپ کو امریکی معاشرے کی خوشحالی پر یقین ہونے لگے گا۔ انہیں دیکھ کر شاید آپ سوچیں کہ یہ کسی شاپنگ مال میں جارہے ہوں گے یا اپنے بچے کو آئس کریم کھلانے لے جارہے ہوں گے لیکن ان کے قریب جاکر ہیلو کہنے کی کوشش کریں تو ہوسکتا ہے وہ مسکرا کر رہ جائیں مگر ہیلو کا جواب نہیں دیں گے۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ یہ کیسے امریکی ہیں کہ ایک بے ضرر سے ہیلو کا جواب نہیں دیتے.... مگر یہ کسی کے ہیلو کا جواب نہیں دیتے۔ خاموش رہتے ہیں۔ اپنے پڑوسیوں سے بھی گھلتے ملتے نہیں۔ صرف اپنے بچے کو اسکول لانا اور لے جانا ، ہفتہ میں ایک بار بازار جانا اورکبھی کبھار اپنی پرانی سی کار میں اپنے اکلوتے بیٹے کو گھمانے لے جانا ،یہی ان کا معمول ہے۔انہوںنے  اپنے کو قصداً امریکی معاشرے سے کاٹ رکھا ہے۔
  یہ داستان کچھ اس طرح ہے کہ ۳۷؍ سالہVitaly  جو کل تک روسی ہوا کرتا تھا اور ایک ’اینٹی ڈوپنگ ایجنسی‘ میں کام کرتا تھا، ( ایک ایسا سرکاری ادارہ جس کا بنیادی کام روسی کھلاڑیوں کی صحت کا خیال رکھنا ہے) وہ آج روس سے ہزاروں میل دور امریکہ میں اجنبیوں کی طرح رہ رہا ہے۔ چونکہ روسی حکومت اولمپک اور ایسے ہی دوسرے عالمی مقابلوں کیلئے کم عمر کھلاڑیوں کو ان کی ابتدائی کلاسیز سے اٹھاکراپنی نگرانی میں لے لیتی ہے اور حکومتی سطح پر ان کی تربیت کرتی ہے، اس لئے ان بچوں کی نگہداشت بے حد ضروری ہوتی ہے۔ ا ن کھلاڑیوں کے اہل خانہ کو پہلے ہی دن سے مطلع کردیاجاتا ہے کہ اب یہ حکومت کی ’ملکیت‘ ہیں اورانہیں عالمی مقابلوں کیلئے سرکاری سرپرستی میں تیار کیاجائے گا۔ بلا شبہ یہ بچے اپنے والدین سے گاہے بہ گاہے ملاقات کرسکتے ہیں مگران کے ساتھ رہ نہیں سکتے۔ ان کھلاڑیوں کے کھانے پینے ، وزن اور  ان کی ہنر مندی کی مستقل جانچ ہوتی رہتی ہے اور برسوں کی تربیت کے بعد وہ اتنے قابل ہوجاتے ہیں کہ اپنے ملک کی نمائندگی کرسکیں۔
  نادیہ کومانچی نامی بچی کی کہانی کوئی بھول سکتا ہے جسے پرائمری کلاس  ہی سے اس کے خاندان سے الگ کرکے ماہرین کے  حوالے کردیا گیا  تھا۔ جب چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں اس نے جمناسٹک کا اولمپک گولڈ میڈل جیتا تو ایک دنیا اس کی فنی مہارت کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ برسوں بعد جب اس نے روس سے ہجرت کرکے یورپ کے کسی ملک میں پناہ لی تب لوگوں کو پتہ چلا کہ بچپن میں اس کے چوبیس گھنٹے کس سختی سے پلان کئے جاتے تھے  کہ اسے دوستوں سے ملنے کی اجازت تھی ، نہ ٹیلی ویژن دیکھنے کی۔ مقابلے کے آخری دن تک اسے سرکاری سرپرستی میں تیارکی گئی غذا دی جاتی تھی۔ اولمپک گولڈ میڈل  جیتنے کے بعد جب اسے اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہنے کی اجازت ملی تب بھی  سیکرٹ پولیس کی نظریں  اس پر مرکوز رہتی تھیں۔
  آج سائنس اور ٹیکنالوجی  نے بڑی ترقی کرلی ہے۔ کھلاڑی ایسی مقوی دوائیں کھانے لگے ہیں کہ ان کے کھاتے ہی جسم میں قوتوں کی باڑھ آجاتی ہے اور مقابلے کے دوران وہ اتنے چاق چوبند ہوجاتے ہیں کہ انہیں تھکن کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ایسے کھلاڑیوں کے مقابلے میں وہ کھلاڑی خواہ مخواہ شکست سے دوچار ہوتے ہیں جو اپنی فطری قوت سے مقابلہ کرتے ہیں۔’ وٹیلی‘ انہی دواؤں کے شعبہ میں کام کررہا تھا۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ کھلاڑیوں کو ایسی کیمیائی دوائیں کھانے سے روکے مگر دوران ملازمت اسے پتہ چلا کہ یہاں تو کھلاڑیوں سے لے کر کوچ تک ان دواؤں کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں اور حکومت جانتے بوجھتے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے، تو اس نے اپنی بیوی کے تعاون سے ( جو دوڑ کے مقابلوں میں روس کی نمائندگی کرتی تھی) اس سارے گھپلے کی خفیہ ریکارڈنگ کی اور اسے میڈیا تک پہنچادیا۔ اب کیا تھا۔ روس میں ایک زلزلہ آگیا۔ جب اولمپک کمیٹی تک خبر پہنچی تو اس نے ۲۰۱۶ء  کے اولمپک میں فیلڈ اور ٹریک ایونٹ کیلئے روس پر پابندی لگادی۔ اسی سال ریوڈی جنیرو میں دیگر ممالک نے خو ب میڈل جیتے۔
  ایسے ہی ایک باضمیر کوچ نے جب حکومت کو بے نقاب کرتے ہوئے ۲۰۱۴ء کے وِنٹر  اولمپک   میں اپنے رول کی کہانی سنائی کہ کس طرح اس نے اپنے زیر سایہ کھلاڑیوں کو ایسی دوائیاں استعمال کرنے کی ہدایت دی تھی  اور نتیجے میں اپنے ملک کیلئے میڈل جیتے تھے تو اس کوچ کی کہانی سے ان میاں بیوی کی رپورٹنگ کو تقویت پہنچی کہ انہوںنے جو کچھ کیا تھا وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اب یہ بھی پڑھ لیجئے کہ ان دونوں کی رپورٹنگ سے اولمپک کمیٹی نے آنے والے مقابلوں میں ایک بار پھر روس پرپابندی لگا دی  ہے۔اس حق گوئی اور جرأت کیلئے انہیں بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ رات کے اندھیرے  میں چار سوٹ کیس اٹھاکراور اپنے ننھے بیٹے کو گود میں چھپا کر دونوں ملک  سے فرار ہوگئے۔ چونکہ ان کی ڈاکیومینٹری  پہلی بار جرمنی  میں دکھائی گئی تھی، اس لئے انہوںنے سب سے پہلے جرمن میں قدم رکھا مگر روس کے صدر اتنے بااثر نکلے کہ جرمنی حکومت نے انہیں اپنے ہاں پناہ دینے سے انکارکردیا۔ اب ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ بے یارومددگار جرمنی سے نکل کر دونوں کسی دوسرے ملک پہنچے مگر وہاں بھی میزبان ملک نے بڑے اخلاق سے ملک سے باہر جانے کا مشورہ دے دیا۔ اس طرح کچھ ۶؍ ملکوں سے دربدرہوکر آج وہ امریکہ میں مقیم  ہیں۔ وہ کسی کو نہیں بتاتے کہ امریکہ میں کہاں اورکس ریاست میں رہ رہے ہیں؟ یہ راز صرف اس ریاست کے ذمہ داروں کو معلوم ہے۔
  کسی نئی جگہ جینے کیلئے سامان جمع کرنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے؟ یہ وہی جانتا ہے جس نے ہجرت کا درد سہا ہو۔ ان دونوں کو بھی ابتدائی ایام میں بڑی پریشانیاں اٹھانی پڑیں۔ایک تو انگریزی سے ناواقفیت، دوسرے روزگار کی تلاش لیکن اولمپک کمیٹی نے ان کی بڑی مدد کی۔ ’یولیا‘ کو یہ کہتے ہوئے اولمپک اسکالرشپ سے نوازا کہ وہ اگلے اولمپک کیلئے ٹریننگ لے رہی ہے جبکہ ہرکوئی جانتا ہے کہ وہ اب کسی اولمپک میں حصہ نہیں لے سکتی۔  ’وٹیلی‘ نے روس میں ہائی اسکول تک تو پڑھ لیا تھا اور انگریزی میں تھوڑی شدبد بھی حاصل کرلی تھی، اسلئے اس نے آن لائن سہولت کا فائدہ اٹھاکر ایک امریکی یونیورسٹی سے ڈگر ی لے لی ۔ ’ڈائمنڈ لیگ ‘نامی تنظیم جو دنیا کے مختلف ممالک میں کھیلوں کا نظم کرتی ہے، اس کے وائس چیئرمین ’پیٹرک مگیار‘  وٹیلی کو اُن دنوں سے جانتے تھے  جب وہ روس میں اولمپک کھیلوں کے انتظام میں شریک تھا۔ اس نوجوان کے خلوص، ایمانداری اور محنت کا انہیں علم تھا اور وہ اسے ایک ذمہ دار منتظم کی حیثیت سے جانتے تھے۔ جب انہیں  ’وٹیلی‘ کے امریکہ میں بسنے کی خبر ملی تو ایک اچھے دوست ہونے کے ناطے انہوںنے اپنی تنظیم میں بطور مشیر رکھ لیا اورآج تک اسے باقاعدگی سے مشاہرہ دیتے ہیں لیکن دونوں میاں بیوی اپنی محدود آمدنی کے سبب نہایت سادگی سے زندگی گزارتے ہیں۔ امریکہ میں رہنے کے باوجود یہ ہر طرح کے عیش سے دور ہیں۔ نہ پارٹی کا شوق، نہ مہنگے تعطیلات گزارنے کا جنون اورنہ اپنی ذات پر کوئی خرچ۔ پڑوسیوں سے تعلقات بھی صرف سلام دعا تک محدود ہیں۔
  ایک بار کسی پڑوسی نے لولیا کو روک کر بتایا کہ اس نے ایک ڈاکیو مینٹری میں اسے اس کے شوہر کے ساتھ دیکھا تھا، تویولیا کا رنگ فق ہوگیا مگر دوسرے ہی لمحے اس پڑوسی نے اسے اطمینان دلایا کہ آپ فکر نہ کریں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آخر زندگی کچھ لوگوں پر اتنا ظلم کیوں کرتی ہے؟ اورکچھ لوگ ساری بدمعاشیوں کے بعد بھی مزے سے کیوں رہتے ہیں؟ ان سوالوں کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ یولیا بھی ان سوالات سے پریشان ہے مگر اب اس نے بھی سب کچھ قسمت پر چھوڑ دیا ہے۔ اسے آج بھی اپنا پرانا گھر یاد آتا  ہے  جہاں اس نے بڑے چاؤ سے کتنی ہی چیزیں جمع کی تھیں اور گھر کو جنت کدہ بنادیا تھا۔ لیکن صرف ایک سچائی کی خاطر اسے اپنی جنت چھوڑنی پڑی  اوریہاں وہاں دھکے کھانے کے بعد آج مضافات کے ایک معمولی سے مکان میں وہ زندگی کے بقیہ دن گزار رہی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کی قسمت ہمیشہ سے کچھ ایسی ہی ہے۔ جب چھوٹی تھی توا س کا باپ شراب پی کراسے پیٹا کرتا تھا۔ جب اولمپک کے خواب دیکھنے شروع کئے تو باپ نے اسے کھیت میں آلو اگانے کھڑا کردیا۔ جب کھیلوں کی ٹریننگ کے اسکول میں گئی تو کوچ اس سے بدتمیزی کرنے لگے۔ جب سرکاری  ادارے میں دوائیوں کے استعمال سے انکارکیا تو سارے دوست اس کے دشمن ہوگئے ۔ یہاں تک کہ وہ جب اپنے ملک کیلئے میڈل جیت کر لائی تب بھی اسے خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔ وہ اکثر سوچتی ہے کہ کیا دنیا میں کوئی شخص بھی صاف ستھری  زندگی گزارنے راضی نہیں؟ کیا ہر بار بے ایمانی اور جوڑ توڑ سے کامیابی حاصل کی جائے گی؟ آخر لوگ سچائی سے اتنے بیزار کیوں ہیں؟
 لیکن جب وہ اپنے چھ سال کے بیٹے رابرٹ کو دیکھتی ہے تو لگتا ہے زندگی اتنی ظالم نہیں۔ رابرٹ اپنے اسکول کا ہونہار طالب علم ہے۔  یہاں اس کے دوست ہیں جو اسکول کے بعد اس کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ اساتذہ بھی رابرٹ کو بہت چاہتے ہیں۔ ہر بار جب اسکول میں کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں تو وہ ہر دوڑنے والے کو تیز دوڑنا سکھاتی ہے۔ جب کسی روز وہ خود میدان میں دوڑتی ہے تو سارا اسکول اس  کے لئے تالیاں بجاتا ہے۔اس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی ا تنی ظالم بھی نہیں۔ ہاں! رابرٹ اب پوچھنے لگا ہے کہ ممّا آپ  دوڑ کے مقابلے میں حصہ کیوں نہیں لیتیں؟ اس پر وہ رابرٹ کو معصوم چہرے کو دیکھ کر مسکرانے لگتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK