قصہ چین کی اکنامی کے پٹری پر آجانے کا

Updated: April 28, 2021, 4:39 PM IST

جن ملکوں نے کورونا کی وباء پر قابو پانے میں قابل ذکر کامیابی حاصل کرلی ہے وہاں کی حکومتوں کی تمام تر توجہ اب معیشت کو پٹری پر لانے کی ہے۔ یہ الگ بات کہ اپنے اس مشن میں سب کامیاب نہیں ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 جن ملکوں نے کورونا کی وباء پر قابو پانے میں قابل ذکر کامیابی حاصل کرلی ہے وہاں کی حکومتوں کی تمام تر توجہ اب معیشت کو پٹری پر لانے کی ہے۔ یہ الگ بات کہ اپنے اس مشن میں سب کامیاب نہیں ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کورونا کی کہانی ووہان سے شروع ہوئی جو چین میں واقع ہے اس کے باوجود چین گزشتہ کئی مہینوں سے سکون کا سانس لے رہا ہے اور اپنی معیشت کی بحالی پر نازاں ہے جبکہ دیگر ممالک ابھی اپنے حواس ہی درسست کررہے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے چین کی بابت بتادیں کہ ۲۰۲۰ء میں چین دُنیا کا واحد ملک تھا جس کی شرح نمو (گروتھ ریٹ) مثبت تھی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ کے بقول عالمی فہرست برائے ۲۰۲۰ء سے چین کو حذف کردیا جائے تو عالمی معاشی نمو کے اعداددوشمار مثبت نہیں رہ جائینگے۔  چین یہ کارنامہ انجام دینے میں کیوں کامیاب ہوا؟ اس سلسلے میں چین کے معترضین کا کہنا ہے کہ چونکہ وہاں جمہوریت نہیں بلکہ آمریت ہے اس لئے سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ کرکے بیجنگ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوا۔ یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہے۔ چین میں آمرانہ طرز حکمرانی اور یک جماعتی نظام کی وجہ سے فیصلہ کرنا اور اُسے فوراً عمل میں لانا ممکن ہے مگر اس کی معاشی بہتری صرف اس کے فیصلوں میں پانی جانے والی آمریت کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس کے اور بھی محرکات ہیں۔ ہم نہ تو آمریت کی حمایت کرسکتے ہیں نہ ہی یک جماعتی نظام کے چندنام نہاد فائدوں اور ہزار حقیقی نقصانات سے صرفِ نظر کرسکتے ہیں۔ مگر جو باتیں سیکھنے کی ہیں اُن سے سیکھنا ہی چاہئے کہ یہ خود کو بہتر بنانے کی اولین شرط ہے۔ چین نے سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا جو ہم نے بھی کیا تھا۔ ہمارے ملک میں مارچ ۲۰ء کے تیسرے عشرے سے جو لاک ڈاؤن شروع ہوا وہ اپنی نوعیت کا سخت ترین ہی تھا۔ مگر چین نے ہماری طرح پورے ملک کو بند نہیں کیا۔ اس کے کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن تو جاری تھا مگر بڑی صنعتوں مثلاً اسٹیل پلانٹس اور سیمی کنڈکٹر فیکٹریوں کو روکا نہیں گیا۔ 
 اس دوران چین نے ہر طرح کے بزنس کو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر طرح کی مدد فراہم کی گئی۔ چین کا فارمولہ تھا جتنی جلدی آپ وباء کو روکنے میں کامیاب ہوں گے، اُتنی جلدی معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے قابل ہونگے۔ اسی لئے صرف لاک ڈاؤن سے خوشگوار نتائج برآمد ہونے کا انتظار نہیں کیا گیا بلکہ کورونا کی جانچ اور متاثرین کو ہر طرح کی طبی امداد فراہم کرنے کے منصوبے کو بھی یقینی بنایا گیا۔ جو مزدور اور ملازمین نئے سال کی تعطیل کے وقت گھر چلے گئے تھے، اُنہیں فیکٹریوں اور کارخانوں میں واپس لانے کے خصوصی انتظامات سرکاری سطح پر کئے گئے۔
 یہ سارے کام نہایت تیز رفتاری کے ساتھ انجام دیئے گئے۔ ڈیمانڈ نہیں تھی مگر پروڈکشن جاری رکھا گیا۔ بیجنگ نے کورونا کی تباہی کو دیکھنے،سمجھنے، اس کا تجزیہ کرنے اور اس پر آنسو بہانے میں وقت نہیں گنوایا بلکہ فوراً سے پیشتر دو طرفہ اقدام شروع کئے۔ ایک طرف کورونا وائرس سے جارحانہ لڑائی اور دوسری طرف معاشی سرگرمیوں کا جوش و خروش کے ساتھ جاری رکھا جانا۔ 
 چین ہمارا دشمن ملک ہے مگر دانشمند وہی ہے جو دشمن سے بھی سیکھے۔ ہمارے یہاں آج بھی چھوٹے تاجروں،صنعتکاروں، کارخانہ داروں اور مزدوروں کی داد رسی نہیں کی جارہی ہے جبکہ معیشت کو سنبھالنے کیلئے یہ بہت ضروری ہے ! n 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK