• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دفتر ِ ایس آئی آرکے اہلکار کا بُلاوا اَور میری حاضری

Updated: September 13, 2026, 2:30 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

ایس آئی آر چل رہا ہے اور ملک کے شہریوں کو نت نئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بالخصوص اُن لوگوں کو جن کی دستاویزات مکمل نہیں ہیں یا اُن میں نام وغیرہ کا فرق ہے یا بعض دستاویزات ہیں ہی نہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

’’حاضری ضروری ہے۔ براہِ کرم اسے انتہائی اہم معاملہ سمجھیں اور آکر ملیں۔ ‘‘ مَیں چاہتا تھا کہ واٹس ایپ پر موصولہ ایس آئی آر سے متعلق اس نوٹس کو نظر انداز کر دوں اور وہاں نہ جاؤں لیکن مجھ سے ایک دن قبل میری اہلیہ وہاں چلی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوٹس جاری کرنے والا عہدیدار ناراض تھا کہ میں نے اس کے واٹس ایپ پیغام کا جواب تک نہیں دیا۔ اخلاقیات کا تقاضا یہی تھا کہ میں جواب دیتا یا حاضرہوتا۔ خیر، دوسرے دن کاغذات کی اُس خستہ حال فائل کے ساتھ متعلقہ عہدیدار کے روبرو حاضر ہوا جو میرے وجود اور اس اہلیت کا ثبوت ہے جس کی بنا پر مجھے ان لوگوں کو منتخب کرنے کا حق ملتا ہے جنہیں ہم عوامی خادم (پبلک سرونٹ) کہتے ہیں۔ 
جس دفتر میں مجھے بلایا گیا تھا وہاں پریشان حال لوگوں کی بھیڑ دکھائی دی۔ ایک نظر میں ایسا لگتا تھا جیسے سب کے چہروں پر بے یقینی ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ ٹیکنالوجی سے وابستہ لوگ ڈسرپشن (Disruption) یعنی بڑے پیمانے پر درہم برہم کرنے والے عمل کو پسند کرتے ہیں اور اسے مثبت معنی میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ ایک منفی اصطلاح ہے۔ آخر کن لوگوں کی زندگی درہم برہم کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ اس پہلو پر شاذ و نادر ہی غور کیا جاتا ہے۔ غریب اور پسماندہ طبقات کا اس میں کوئی حقیقی عمل دخل نہیں کہ ان کے معمولاتِ زندگی کو کس طرح تہ و بالا کیا جا رہا ہے۔ 
وہ عہدیدار دراصل ایک مدرس تھا جسے درس و تدریس کے بجائے اکتوبر تک یہ ذمہ داری نبھانی ہے۔ اس مدرس نے، جو خوش اخلاق، شائستہ اور قابل تھا، چند منٹوں میں ہی یہ عمل مکمل کر دیا۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے؛ میں نے دیکھا ہے کہ حکومتی مشینری کے اہلکار ایسے ہی ہوتے ہیں، تعاون کرنے والے۔ ایسے ہی چند اہلکاروں نے ہمارے دفتر پر چھاپے مارے تھے۔ اُنہیں میرے خلاف مقدمہ درج کرنے وغیرہ کے احکامات دیئے گئے تھے۔ بدنیتی اور نااہلی اور جیسا کہ آج کل کے دور کا خاصہ ہے، ایک عجیب قسم کی غیر معقولیت کا عنصر دراصل افسران بالا یا اعلیٰ حکام میں پایا جاتا ہے۔ 
میرے دستاویزات کی فائل قدرتی عوامل اور کچھ ذاتی بے نیازی کی وجہ سے خستہ حال ہو چکی ہے۔ پیدائش کا سرٹیفکیٹ (ناناوتی اسپتال، ممبئی کا) اور اسکول کا خارجہ سرٹیفکیٹ (سر جے جے انگلش اسکول کا) سورت کے سیلاب (۲۰۰۶ء ) میں بہہ گئے تھے۔ ’کم سے کم حکومت‘ (Minimum Government) کی پالیسی کے تحت بالائی علاقہ کے ڈیم میں پانی جمع کیا گیا اور پھر ’زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘ (Maximum Governance) نے بغیر کسی انتباہ یا تیاری کے وہ پانی چھوڑ دیا، جس سے شہر کے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ یہی وجہ تھی سیلاب کی۔ 
میرے والدین نے چار دن اپنی چھت پر تنہا اور بغیر کسی مدد کے گزارے، اور اس دوران ان کا زیادہ تر سامان ضائع ہو گیا۔ اب اور کیا ثبوت پیش کیا جائے؟ مَیں اپنا پاسپورٹ دِکھا سکتا تھا مگر وہ عدالت کی تحویل میں ہے (ضبط شدہ)۔ اس ستم ظریفی کو محسوس کیجئے کہ جب مجھ پر ٹیکس لگانا یا میرے خلاف مقدمات قائم کرنا ہوتا ہے تو حکومت مانتی ہے کہ میں ہندوستانی ہوں، مگر جب ووٹنگ کا معاملہ ہوتا ہے تو اسے شک ہوتا ہے کہ شاید میں ہندوستانی نہیں ہوں۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ ملک بھر میں میرے ’’ساتھی مجرم‘‘ اس تضاد کا سامنا کیسے کر رہے ہونگے۔ 
بہرحال، مَیں اب بھی کچھ دستاویزات جمع کر سکتا تھا، جیسے بینک اسٹیٹمنٹ، جائیداد کے کاغذات وغیرہ، سو مَیں نے وہی کیا اور انہیں قبول کر لیا گیا۔ کہہ نہیں سکتا کہ یہ کافی ہوں گے یا نہیں۔ فہرست سے نام خارج ہو جائے تو کتنی اذیت ہوتی ہے اس کا تجربہ مجھے نہیں ہے مگر مَیں آسام کے لوگوں کو جانتا ہوں جو شہریت کا اطمینان بخش ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے، انہیں حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ جیل بھی بھیجا گیا۔ سوچئے ان لوگوں پر کیا گزرتی ہوگی جنہیں ایک دن یہ خبر دی گئی کہ ان کے بینک اکاؤنٹ، لائسنس اور پاسپورٹ وغیرہ اب کارآمد نہیں رہے۔ ان میں سے بعض کے ملک بدر کیے جانے کا بھی قصہ ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ ایسا ہوا تو مجھے کسی مہذب ملک بھیجا جائیگا، شاید جنوب مشرقی ایشیا کے کسی ملک۔ مجھے چین جانے پر اعتراض نہیں ہوگا اگرچہ سچ تو یہ ہے کہ ثقافت اور خوراک کے اعتبار سے مجھے جنوبی ایشیا ہی کے کسی ملک میں زیادہ اپنائیت محسوس ہوگی۔ 
اپنی قسمت اور اس حکومت کے مزاج کو دیکھتے ہوئے، غالب امکان یہی ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ اگر مجھے ملک سے باہر نہیں کیا گیا تو ممکن ہے کہ ووٹ کے حق سے محروم رکھا جائے مگر کہا جائے گا کہ جب وندے ماترم کے چھ بند گائے جائیں تو احتراماً کھڑا رہوں۔ جمہوریت کی ماں احترام اور عقیدت کی حقدار تو ہے، مگر یہ ایک یک طرفہ تعلق ہے۔ آپ کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ آپ اس کی اولاد ہیں اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ ایک عجیب و غریب صورتِ حال ہے۔ 
`نئے بھارت میں بہت سے قوانین کی بنیاد ہی اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ ملزم قصوروار ہے۔ دہشت گردی اور منشیات سے متعلق قوانین میں یہ اصول پہلے سے تھا۔ ۲۰۱۵ء میں اس کا دائرہ کار بڑے کا گوشت کھانے یا رکھنے تک وسیع کر دیا گیا؛ اس میں ملزم کو خود یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ وہ بے گناہ ہے۔ ۲۰۱۸ء میں اسے لوَجہاد کے قوانین تک بھی وسیع کردیا گیا۔ 
کیا کچھ عرصہ قبل بی جے پی لازمی ووٹنگ کا قانون لانے کی بات نہیں کر رہی تھی؟ حیرت ہے کہ اس کا موقف، جو ’’ہر کسی کو ووٹ دینا چاہئے‘‘ سے بدل کر ’’کوئی بھی اس وقت تک ووٹ نہیں دے سکتا جب تک وہ خصوصی اور جامع نظر ثانی کا امتحان پاس نہ کرلے‘‘ ہوگیا۔ اس ضمن میں اصولوں پر کاربند رہنے کی توقع کرنا ویسا ہی ہے جیسے ان سے انسانیت یا شائستگی کی توقع کرنا۔ کبھی میں اس عمل اور ووٹ کے حق سے محروم کیے جانے کے خیال سے ڈرتا تھا ( کیونکہ پولنگ کے دن علی الصباح بوتھ پر پہنچ کر ووٹ دینا میرا معمول تھا)۔ اب میں زیادہ پرسکون ہوں اور شاید مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اس قوم کو تشکیل دینے والے لوگوں سے مجھے بے پناہ لگاؤ ہے مگر اس قوم کے باقی حصے کیلئے میرے دل میں بہت کم جگہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK