• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نائن الیون حملوں سے قبل بل کلنٹن اور بش کو مسلسل خبردار کیا گیا تھا: سی آئی اے

Updated: September 12, 2026, 10:04 PM IST | Washington

سی آئی اے کے دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ نائن الیون حملوں سے قبل بل کلنٹن اور بش کو مسلسل خبردار کیا گیا تھا، سی آئی اے نے ۱۳؍ فروری ۱۹۹۸ء سے ۱۲؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کے درمیان صدور کو دی جانے والی روزمرہ کی انٹیلی جنس بریفنگ سے ۷۱؍ دستاویزات اپنی ویب سائٹ پر شائع کئے ہیں اور ایجنسی کے مطابق یہ اس قسم کی معلومات کا اب تک کا سب سے بڑا افشا ہے۔

A photograph of the 9/11 attacks. Photo: INN
نائن الیون حملوں کی ایک تصویر۔ تصویر: آئی این این

 نائن الیون (۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء) کے دہشت گردانہ حملوں کی ۲۵؍ ویں برسی کے موقع پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (CIA) کی جانب سے جاری کردہ نئے دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایجنسی نے حملوں سے تین سال قبلسے ہی اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن اور بعد میں جارج ڈبلیو بش کو القاعدہ کی جانب سے امریکی سرزمین پر حملوں کے خطرات کے بارے میں بار بار متنبہ کیا تھا۔ سی آئی اے نے ۱۳؍ فروری ۱۹۹۸ء سے ۱۲؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کے درمیان صدور کو دی جانے والی روزمرہ کی انٹیلی جنس بریفنگ سے ۷۱؍ دستاویزات اپنی ویب سائٹ پر شائع کئے ہیں اور ایجنسی کے مطابق یہ اس قسم کی معلومات کا اب تک کا سب سے بڑا افشا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: القاعدہ نے حمزہ بن لادن کی نئی ویڈیو جاری کی، امریکہ کا ہلاکت کا دعویٰ مشکوک

واضح رہے کہ نائن الیون کے ان حملوں میں القاعدہ کے ہائی جیکرز نے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹا گون اور پنسلوینیا کے ایک میدان میں مسافر طیارے ٹکرا دیئے تھے، جس میں ۳؍ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔شائع شدہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۳؍ فروری ۱۹۹۸ء کی ایک بریفنگ میں یہ بتایا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کیمیائی، حیاتیاتی اور جوہری مواد حاصل کرنے پر اتفاق کر چکا ہے تاکہ امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس کے بعد ۱۰؍ ستمبر ۱۹۹۸ء کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ بن لادن نے اپنے ساتھیوں کے سامنے واشنگٹن میں امریکی سرزمین پر براہِ راست حملہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھااور کہا تھا کہ وہ بارود سے بھرا طیارہ کسی امریکی شہر پر گرا دے گا۔
 مزید برآں، ۴؍ دسمبر ۱۹۹۸ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ہائی جیکرز کے ایک گروہ نے نیویارک کے ایک ہوائی اڈے پر سیکیورٹی کو چکمہ دینے کیلئے ریہرسل بھی کی تھی۔ بعد میں۲۶؍ مارچ ۲۰۰۱ء کی انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ طالبان اس وقت تک بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے پر تیار نہیں ہوں گے جب تک کہ انہیں مکمل سفارتی تسلیم اور بحالی کیلئے بڑی مالی امداد نہ ملے۔ بعد ازاں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ان فائلوں کو نائن الیون سے متعلق سی آئی اے تجزیوں کا سب سے بڑا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام اب خود دیکھ سکتے ہیں کہ اس دردناک سانحے سے پہلے کیا انٹیلی جنس معلومات موجود تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: نائن الیون کو مسلمانوں کیخلاف نفرت کیلئے استعمال نہ کریں: متاثرہ کے بیٹے کی اپیل

ذہن نشین رہے کہ اسامہ بن لادن کو نائن الیون کے۱۰؍ سال بعد مئی ۲۰۱۱ء میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک امریکی ملٹری آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ بعد میں تشکیل دیئے گئے نائن الیون کمیشن نے پایا تھا کہ امریکی حکومت اور سلامتی اداروں کے درمیان رابطے اور انتظام کی خامیوں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ جبکہ ان حملوں کے بعد شروع ہونے والی امریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں عراق اور افغانستان پر حملے کئےگئے، جن میں براؤن یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق اندازاً ۴۵؍ سے ۴۷؍ لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK