• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

ایمان کے تین نمایاں پہلو ہیں یقین،اعتماد اور خوف

Updated: February 03, 2023, 10:58 AM IST | Maulana Wahiduddin Khan | Mumbai

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے وہ اللہ کی بارگاہ میں درجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں، اور وہی لوگ دراصل کامیاب ہونے والے ہیں۔

A study of the self and the universe reveals to man that there is a great creator and maker who is the real cause of all events in this factory.
اپنی ذات اور کائنات کا مطالعہ آدمی کو بتاتا ہے کہ ایک عظیم خالق اور کارساز ہے جو اس کارخانے کے تمام واقعات کا حقیقی سبب ہے

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے وہ اللہ کی بارگاہ میں درجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں، اور وہی لوگ دراصل کامیاب ہونے والے ہیں۔
 (سورہ توبہ:۲۰)
 اس آیت میں ایمان سے مراد ان حقائق کو تسلیم کرنا ہے جو قرآن  میں تلقین کئے گئے ہیں اور ہجرت سے مراد اس اعتراف اور اس کے تقاضوں کے خلاف  جو کچھ ہے اس کو چھوڑ دینا، اور جہاد اس کوشش اور جدوجہد کا نام ہے جو ایمان اور مہاجرت کی زندگی کو آخری حد تک باقی رکھنے کے لئے اس دنیا میں آدمی کرتا ہے۔ اس طرح یہ ایمان، ہجرت اور جہاد، ایک دوسرے سے الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ  ایک ہی سلسلۂ سفر کی اگلی پچھلی منزلیں ہیں۔ یہ ایک ہی کیفیت کے مختلف ارتقائی مراحل  ہیں جن کو ممیز کرنے کے لئے جدا جدا عنوان دے دیا گیاہے۔ نیز ہجرت اور جہاد کی کوئی متعین صورتیں نہیں ہیں۔ 
 ایمان کی حقیقت، مختلف حالات میں،مختلف صورتوں میں ظہور کرتی ہے۔  ایمان اس عظیم امتحانی مہم میں شریک ہونے کا فیصلہ کرنا ہے جس کی ابتداء زبان کے اقرار سے ہوتی ہے اور جس کی انتہا یہ ہے کہ اسی پر قائم رہتے ہوئے آدمی اپنی جان دے دے۔ یہ وہ عہد ہے جو بندہ  اپنے خدا سے اس بات کے لئے کرتا ہے کہ وہ ساری عمر اس کا وفادار رہے گا۔ ایمان اس کیفیت کا نام ہے جو حقیقت کے صحیح اور مخلصانہ شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ جب آدمی اس حیرت انگیز کائنات کے پیچھے ایک لامحدود قوت کا مشاہدہ کرلیتا ہے ، جب وہ خدا کے رسولؐ کو تسلیم کرکے اس کے تمام فیصلوں پر راضی ہوجاتا ہے، جب اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ تخلیق کا یہ عظیم منصوبہ بے مقصد نہیں ہے بلکہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ماضی اورمستقبل کے تمام انسانوں کو جمع کرکے ان کا حساب لیا جائے گا، تو اسی کیفیت کے مجموعہ کو ہم ایمان سے تعبیر کرتے ہیں۔
  ایمان کی اصل روح اعتماد کرنا ہے۔ یہ اعتماد ایک ایسی ہستی کے بارے میں ہوتا ہے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے۔ اس لئے اس میں یقین کا مفہوم پیدا ہوا۔ اسی طرح خدا کو اس کی تمام صفات کے ساتھ  ماننے کے  لازم معنی یہ ہیں کہ اس کے غضب سے ڈرا جائے اور اس کے عذاب سے بچنے کی فکر کی جائے۔ اس لئے اس کے ساتھ تقویٰ اور خوف کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر قرآن کے تصور ایمان کی تشریح کے لئے تین  الفاظ ، یقین، اعتماد اور خوف کو اکٹھا کردیں تو ہم اس کی روح کے بالکل قریب  پہنچ جاتے ہیں۔ ایمان اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خدا اور اس کے رسولؐ پر اس کلّی اعتماد کا نام ہے جو یقین کامل سے پیدا ہوتا ہے اور خدا سے اس خوف کا نام ہے جو آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ کسی پولیس اور فوج کے تسلط کے بغیر خو د سے اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرلے۔
  یہ یقین، جو ایمان کا پہلا جزو ہے، یہ خارج سے درآمد کی ہوئی کسی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کا زندہ شعور ہے جو خود انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی ہے۔ انسان کائنات پر غور کرتا ہے ، رسولؐ کی تعلیمات کو دیکھتا ہے  اور اپنے اندر سے اٹھنے والی آواز پر کان لگاتا ہے تو یہ تینوں چیزیں بالکل ایک معلوم ہوتی ہیں۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی ایک ہی پیغام ہے جو  ایک ہی وقت میں تین مختلف مقامات سے نشر ہورہا ہے ۔ خدا کے رسولؐ جس حقیقت کی خبر دیتے ہیں ، کائنات پوری کی پوری بالکل اس کی ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے اور انسان کی اندرونی آواز ہمہ تن اس کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ کتاب الٰہی میں جو کچھ پڑھتا ہے زمین و آسمان کے اندر اسی کو دیکھتا ہے اور جو کچھ پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے اس کی فطرت اس کو اس طرح قبول کرلیتی ہے جیسے کسی خانے میں بالکل اسی سائز کی چیز رکھ دی گئی ہو۔ مگر یقین کی یہ کیفیت کسی کو خودبخود حاصل نہیں ہوتی۔جس طرح فطرت کی ہر صلاحیت اسی وقت رو بہ کار آتی ہے جب اس کو نشوونما دے کر  ابھارا جائے، کائنات کا ہر راز اسی وقت انسان کے اوپر بے نقاب ہوتا ہے جب اس کی تلاش میں وہ اپنے آپ کو گم کرچکا ہو۔ اور کسی کتاب کے مضامین اسی وقت آدمی پر کھلتے  ہیں اور اسے فائدہ  پہنچاتے ہیں جب اس کا گہرا مطالعہ کرکے اس کے مطالب کو اخذ کیا جائے۔ ٹھیک اسی طرح یہ یقین بھی آدمی کو اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنی قوت ارادی کو اس کے لئے کام میں لائے۔ یہ اگرچہ کائنات کی واضح ترین حقیقت ہے مگر اس دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ آدمی کو وہی کچھ ملے جس کے لئے اس نے جدوجہد کی ہو۔
 ایمان کا دوسرا جزو اعتماد ہے۔ اپنی ذات اور کائنات کا مطالعہ  جہاں آدمی کو ایک طرف یہ بتاتا ہے کہ ایک عظیم خالق اور کارساز ہے جو اس کارخانے کے تمام واقعات کا حقیقی سبب ہے ، اسی کے ساتھ اور عین اسی وقت اس کو دو اور باتوں  کا شدید  احساس ہوتا ہے۔ ایک اپنی انتہائی بے چارگی کا اور دوسرے خدا کے بے پایاں احسانات کا۔ وہ دیکھتا ہے کہ اپنے وجود کے لئے بے شمار چیزوں کا ضرورتمند ہے مگر وہ کسی ایک چیز کو بھی خود سے نہیں بناسکتا۔ وہ ایک کمزور بچہ کی شکل میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ وہ ایک ایسی زمین کے اوپر کھڑا ہے جو فضا کے اندر معلق ہے ، جس کے توازن میں معمولی بگاڑ بھی آجائے تو اس کو تباہ کردینے کے لئے کافی ہے ، وہ اپنے آپ کو ایک ایسی عظیم کائنات کے اندر گھرا ہوا پاتا ہے جس پر اسے کوئی اختیار نہیں۔ ان حالات میں اس کو اپنا وجود بالکل بے بس اور حقیر معلوم ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتا ہے کہ وہ سب کچھ جس کی اسے ضرورت تھی، اس کے لئے مہیا کردیا گیا ہے۔ اس کو ایسا جسم دیا گیا ہے جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو بولتا ہے، جو سوچتا  ہے اور اس کی قوتوں کو برقرار رکھنے کے لئے ایک خودبخود چلنے والی مشین کی  طرح مسلسل کام کررہا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں پوری ہم آہنگی کے ساتھ اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ اس کو اپنا وجود مجسم احسان نظر آنے لگتا ہے ۔ اس کے اندر بے پناہ جذبۂ شکر امڈتا ہے اور وہ احسان مندی کے جذبہ سے لبریز ہوجاتا ہے۔ یہ واقعہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ اس ہستی کو اپنا سب کچھ قرار دے جس نے یہ سارا انتظام اس کے لئے کیا ہے۔پہلی چیز اس کو اپنی مکمل بے بسی کا یقین دلاتی ہے، اس کو شدید احساس ہوتا ہے کہ کوئی بلند قوت ہو جو اس کی دستگیری کرے ، اور دوسرا احساس اس کی اس طلب کا جواب بن کر سامنے آتا ہے ۔ جو مطالعہ اس کو اپنے اندر خلاء کا احساس دلاتا ہے وہی مطالعہ بیک وقت اس خلاء کو پُر بھی کردیتا ہے۔
  ایمان کا تیسرا جزو ’’خوف‘‘ ہے۔ یہ خوف ایمان کے ابتدائی دو اجزاء یقین اور اعتماد سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا لازمی نتیجہ اور اس کی تکمیل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کو دیکھتا ہے جو عدل و حکمت کا خزانہ ہے ، دوسری طرف کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ اتنا بڑا تخلیقی منصوبہ بے مقصد نہیں ہوسکتا ۔ پھر جب وہ زمین پر بسنے والے انسانوں کو دیکھتا ہے جن میں ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی، اچھے بھی ہیں اور  برے بھی، تو اسے یقین ہوجاتا ہے کہ محاسبہ کا ایک دن آنا ضروری ہے جہاں سچوں کو ان کی سچائی کا اور بروں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ رب العالمین پر اعتماد ہی اس کے لئے رب العالمین سے خوف کی بنیاد بن جاتا ہے۔
 یہ خدا کا خوف اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو کسی ڈراؤنی چیز کو دیکھ کر آدمی کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو کسی بھی ایک لفظ سے صحیح طور پر تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ انتہائی امید اور انتہائی اندیشہ کی ایک  ایسی ملی جلی کیفیت ہے جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کرپاتا کہ دونوں میں سے کس کو فوقیت دے ۔ یہ سب کچھ کرکے اپنے کو کچھ نہ سمجھنے کا وہ اعلیٰ ترین احساس ہے جس میں آدمی کو صرف اپنی ذمہ داریاں یاد رہتی ہیں اور اپنے حقوق کو وہ بالکل بھول جاتا ہے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھیننے کا خطرہ محسوس کرتا ہے اسی سے پانے کی بھی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو سراپا اطمینان ہے اور ایسا اطمینان ہے جو سراپا اضطراب ہے۔
  یہ ایمان کے تین نمایاں پہلو ہیں۔ ایمان دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو خدا کے خوف، اس پر مکمل اعتماد اور اس کے بارے میں کامل یقین سے پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر اور اس کے احکام پر ایمان لائے، اپنا سب کچھ اس کو سونپ دے اور اس کے تمام فیصلوں پر راضی ہوجائے وہ مومن ہے۔ ایمان عقل کے لئے ہدایت اور روشنی ہے اور دل کے لئے طہارت اور پاکیزگی۔ اس لئے یہ عقل اور ارادہ دونوں کو ایک ساتھ متاثر کرتا ہے اور خیالات  و اعمال سب پر حاوی ہوجاتا ہے۔ قرآن کی زبان میں مومن وہ شخص ہے جو خدا کا خالص وفادار بندہ ہے اور اس کے احکام پر یقین و  اعتماد کی ساری کیفیات  کے ساتھ اطاعت کا معاہدہ کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK