قربانی کے فضائل اور اس کی اہمیت کے مختلف پہلو

Updated: August 01, 2020, 8:57 AM IST | Md Aamil Zaakir Miftaahi | Mumbai

عیدالاضحی ایک عظیم روایت کا نام ہے جس کے فضائل اور اس کی اہمیت کے پہلو بے شمار ہیں البتہ اس کے دو پہلو ایسے ہیں جن کی طرف عام طور پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔اس میں ایک عیدالاضحی کا سماجی پہلو ہےجبکہ دوسرا پہلوعید کے موقع پردی جانے والی قربانی کے ذریعہ معاشرے کا شخصی ارتقا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

عیدالاضحی کا تہوار مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا تہوار ہے۔ یہ تہوار یا عید دراصل ایک تاریخی روایت کا تسلسل ہےبلکہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا تسلسل اور منفرد روایت ہے۔ یہ روایت چار ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ حقیقی معنوں میں یہ ایک یادگار ہے اُس عظیم قربانی کی جس کو خداوند کریم نے خود بھی عظیم قربانی (ذبح عظیم) کا خطاب عطا فرمایا۔ اس قربانی کا قصہ بہت مشہور ہے اور عام طور پر لوگ اس سے واقف ہیں ۔ سال میں ایک مرتبہ منبر و محراب کے مقدس گوشوں سے اور اصحاب قلم کے صریر خامہ سے اس بابرکت دن کی اور اس مقدس روایت کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ۔ چوں کہ حج بھی اس سے وابستہ ہے، اسلئے اس دن کا اہتمام سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ ہر ملک کے مسلمان لبیک (میں حاضر ہوں ) کہتے ہوئے اس دن اور اس قربانی کی یاد میں مکہ مکرمہ کی سرزمین پر جمع ہوتے ہیں ۔ دنیا کے کسی کونے میں بھی دوسرااتنا بڑا اجتماع نہیں ہوتا۔ مختلف رنگ و نسل اور ملکوں کے باشندے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک ہی مرکز توحید کے گرد پروانہ وار نثار ہوتے ہیں ۔ ان کے تمام فروق و امتیازات مٹ جاتے ہیں ۔ نہ مرتبوں کا فرق باقی رہتا ہے اور نہ ہی دولت و غربت کا۔ سب ایک لباس میں ہوتے ہیں اور سب محتاج و گدا بن کر امید و رجاء کے چراغ آنکھوں میں روشن کئے اس کے دربار میں اپنی درخواستیں پیش کرتے ہیں ۔
 یہ مبارک اجتماع اور یہ مقدس روایت حضرت ابراہیم علیہ السلام، ان کی بیوی حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی روایت ہے۔ اس روایت میں آج کے انسان کیلئے اور آج کے معاشرہ کیلئے عظیم پیغام پنہاں ہے۔ ہماری محرومی ہے کہ ہم اس کوبالعموم رسم و روایت کی طرح ادا کرتے ہیں ۔ اس کی حقیقت کا پورا ادراک نہیں کرتے اور جتنا کرتے ہیں اس کو اپنے عمل کا حصہ نہیں بنا پاتے۔ اسلئے اس عظیم روایت کے پورے فائدے ہم محسوس نہیں کر پاتے۔واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کی اس روایت میں ہماری معاشرتی زندگی کیلئے عظیم اسوہ موجود ہے۔حضرت ابراہیم کی شخصیت میں ایک باپ کیلئے حضرت اسماعیل کی صورت میں بیٹے کیلئے اور حضرت ہاجرہ کی شکل میں بیوی اور ماں کیلئے عظیم اسوہ اور نمونہ ہے۔باپ کی محبت اور حق کیلئے ہر محبت کو قربان کرنا ،بیوی کی فرماں برداری اور حق کے معاملے میں ہر مداہنت سے گریز اور اطاعت شعار اولاد کی اطاعت کی معراج حضرت اسماعیل کے اندر نظر آتی ہے۔علامہ اقبال نے جو بات کہی ہے وہ ہر شخص کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
 ہم خود کیا کر رہے ہیں اور اپنی اولاد کو کیا سکھا رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے۔ایک فرد سے قوموں کی قسمت بدل جاتی ہے شرط ہے ان عظیم اور اولوالعزم ہستیوں کی پیروی۔ اگرہم آج بھی ان کی پیروی کریں اور ان کے کردار کو اپنے لئے اسوہ بنائیں اور ان کے طریقے کو بھی اپنی زندگی میں جاری کریں تو ہمارے معاشرے کے بے شمار مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے اور گھروں کے اندر امن و سکون کا ماحول پیدا ہوگا۔عیدالاضحی جس عظیم روایت کا نام ہے اس کے فضائل اور اس کی اہمیت کے پہلو بے شمار ہیں ۔ تاہم دو پہلو ایسے ہیں جن کی طرف عام طور پر توجہ کم دی جاتی ہے۔ ایک عیدالاضحی کا سماجی پہلو اور دوسرا عید کے موقع پر جو قربانی دی جاتی ہے اس قربانی کے ذریعہ ہونے والا فرد اور معاشرہ کا شخصی ارتقا۔
 قربانی تاریخ انسانی کی سب سے قدیم عبادت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں جو جھگڑا ہوا تھا، اس کا ذکر قرآن میں ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک بیٹے کی قربانی اللہ نے قبول کر لی تھی اور دوسرے کی نہیں کی تھی۔اسلئے دوسرے نے حسد میں اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قربانی کی روایت حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے موجود ہے۔ قربانی کی یہ روایت تمام مذاہب میں موجود ہے۔ کہیں کہیں اس کی شکلیں اور قربانی میں دیئے جانے والے مال کی صورتیں بدل جاتی ہیں ورنہ قربانی کا تصورہر جگہ ہے۔ قربانی نام ہے اللہ کے حکم پر اور اس کیلئے اپنے مال، اپنی خواہشات، اپنے جذبات اور اگر ضرورت پڑے تو اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا۔ قربانی اسی جذبے سے کرنی چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ سب ہمارے رب کا دیا ہوا ہے، اس کے حکم پر ہم اس کو چھوڑ سکتے ہیں ،اس مال کی محبت ہمیں کبھی بھی اپنے خدا سے غافل نہیں کرے گی اور چوں کہ ایک دن تو سب کچھ چھوڑ کر جانا ہی ہے لیکن وہ جاناغیر اختیاری ہوگا، اسلئے ہم اپنے اختیار سے اس کو چھوڑنے کیلئے اپنے دل اور اپنے نفس کو آمادہ کریں تو اس سے ہمارا تزکیہ ہوگا اور اللہ کے دربار میں اجر و ثواب ملے گا۔یہی قربانی کی روح ہے۔
 قربانی کے ذریعہ سماج اور معاشرے کو جو دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں اس میں ایک بڑا فائدہ غریبوں کی امداد اور مستحق لوگوں کا تعاون ہے۔ قربانی کے گوشت کے سلسلے میں ہدایات ہیں کہ اس کے تین حصے کئے جائیں جن میں سے ایک حصہ غریبوں کیلئے مختص کیا جائے۔ اس طرح غربا کو ایسا کھانا میسر آجاتا ہے جس سے عام طور پر وہ محروم رہتے ہیں ۔اگر کہیں ضرورت ہو تو پورے گوشت کو تقسیم کر نا چاہئے۔ رسول اللہ کے زمانے میں ایک بار مدینہ میں باہر سے بہت لوگ آگئے تھے۔ عید الاضحی کا موقع تھا، آپؐ نے لوگوں کو منع کیا کہ قربانی کا گوشت تیں دن سے زیادہ نہ روکیں ، اس کا مقصد یہی تھا کہ جو باہر سے آئے ہیں ، ان کے پاس کھانے کی قلت ہے اگر مسلمان گوشت جمع کریں گے تو ان کوتکلیف ہو گی۔
 اسی طرح قربانی کے جانور کی کھال کا بہترین مصرف غربا اور مساکین کے علاوہ مدارس اسلامیہ کے طلبہ ہیں کہ چرم قربانی ہی کے ذریعہ بہت سے مدرسوں کی بھر پور امداد ہو جایا کرتی تھی اور وہ اپنی ضرورتیں پوری کر لیتے تھے لیکن موجودہ دور میں قربانی کی کھالوں کی قیمت سڑے پھلوں کے برابر ہے،اسلئے مدارس کو صرف قربانی کی کھالوں پر نہ چھوڑیں بلکہ الگ سے ان کی اعانت کریں ۔ 
  اسلام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ دولت امیروں کے درمیان گردش نہ کرنے لگے، زکوٰۃ کے سلسلے میں قرآن مجید کے اندر اس کا واضح حکم موجود ہے۔ قربانی بھی اس مقصد کی تکمیل کیلئے ایک ذریعہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ فرد سے معاشرے تک قربانی کے بے شمار فضائل و مناقب اور فوائد ہیں ۔ ضرورت ہے کہ فوائد کا صحیح ادراک ہو اور ان کو مزید بہتر بنانے کیلئے ہماری جانب سے شعوری کوشش کی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK