• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

یہودیوں اورصہیونیوں میں بہت بڑا فرق ہے

Updated: November 13, 2023, 11:38 PM IST | Hasan Kamal | Mumbai

غزہ میں اسرائیل کی بہیمانہ سرگرمیوں نے ساری دنیا کو لرزا دیا ہے۔ دُنیا کے تمام ممالک میں نتن بنجامین یاہو کی صہیونی متعصبانہ کارروائیوں نے اس کی حکومت کے خلاف غصہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ غصہ عالم گیر ہوگیا ہے۔

Israel. Photo : INN
اسرائیل۔ تصویر : آئی این این

یہ ایک حقیقت ہے کہ ۱۹۴۷ء میں تشکیل پانے والی نصف فلسطین کی وہ آبادی جو اب اسرائیل کہلاتی ہے یہودیوں کی اکثریت والی ریاست ہے، اس لئے جب بھی کبھی اسرائیلوں اور فلسطین کی باقی آبادی، جس کی اکثریت مسلمانوں کی ہے، اس میں کوئی جھگڑا یا تنازع ہوتا ہے تو عام طور پر اسے یہودیت اور اسلام کا تنازع مان لیا جاتا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ حال میں غزہ میں اسرائیل کے خودسر حکمراں ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑرہے ہیں،اسے بھی یہودیوں اور اسلام کی جنگ مان لیاگیا لیکن اب دُنیا نے دیکھا کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک میں اسرائیل کے مظالم کی مخالفت کرنے والوں میں ایک بہت بڑی تعدا دیہودیوں کی بھی تھی۔ ہر چند کہ واشنگٹن میں کچھ یہودیوں نے اسرائیل کی حمایت بھی کی لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔یہ بھی نہ بھولئے کہ امریکی دانشور نوم چومسکی بھی یہودی ہیں جنہوں  نے ہمیشہ صہیونیت کی سخت مخالفت کی ہے۔
 اس بات کو آسانی سے سمجھانے کیلئے ایک مثال بھی دی جا سکتی ہے۔ ہندوستان میں ہم نے ہندوازم اور ہندوتوا دیکھا ہے۔ ہندو ازم ایک مذہبی اصول اور فلسفہ ہے جسے بہت سے ہندوستانی مانتے ہیں۔ یہ ماننے والے نہ جنگجو ہوتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے مذہب کے مخالف ہوتے ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں میں اسی کے ساتھ ہندوتوا کا لقب بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ اب ہندوتوا ایک سیاسی نعرہ ہے۔ یہ اقلیتوں  کے خلاف نازی ازم جیسی تحریک ہے۔ اس کا استعمال صرف سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے کیا جاتاہے۔ جو لوگ اس ہندوتوا کے خلاف ہوتے ہیں وہ بھی ہندو ازم کے مخالف نہیں ہوتے۔ بالکل یہی حال صہیونیوں کا ہے۔ صہیونیت مشرقی یورپ کے ان سیاسی کرتب بازوں کی دین ہے جو اصل یہودیت سے بہت دور ہیں۔ اصلی یہودی انہیں کافر مانتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا فلسطین یا یوں کہہ لیجئے کہ موجودہ اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہی وہ لوگ ہیں جو اسرائیل بننے کے بعد یورپ سے یہاں آکر آباد ہوئے  ہیں۔ بات صرف اتنی نہیں ہے، غور فرمائیے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں اور یہودیوں میں جنگ کی کوئی تاریخ بھی نہیں ملتی۔ اور غور کیا جائے تو مسلمانوں اور یہودیوں کے بیچ رسولؐ اللہ کے دور میں غزوہ خندق کے نام سے ایک معرکہ ضرور ہوا تھا لیکن اس میں بھی مدینہ کے آس پاس بسے ہوئے ایک یہودی قبیلہ نے مدینہ کے مسلمانوں پرحملہ کیا تھا، اللہ کے رسول ؐ نے خندق کے ذریعہ اس حملہ کو ناکام کر دیا تھا۔ اس کے بعد یقیناً یہودیوں میں بہت سے سازشی پیدا ہوئے، اسلامی تاریخ ان کے ناموں سے آشنا ہے لیکن کوئی جنگ نہیں ہوئی، اس کے عین برعکس جب صلاح الدین ایوبی نے یروشلم کو فتح کیا تو انہوں  نے باقاعدہ اپیل کی کہ وہ یہودی جو رومنوں کے مظالم سے گھبرا کر یہاں سے باہر چلے گئے ہیں، وہ یہاں واپس آجائیں کیونکہ یہاں ان کے آباءو اجداد کے گھر ہیں۔ اسی طرح سلطنت عثمانیہ کے وقت میں بھی فرماںروائوں نے یہودیوں کو پناہ دی۔ یہ بھی ہوا کہ اُنہوں نے اپنی یونیورسٹیوں میں انہیں (یہودیوں کو) بطور استاد مقرر کیا۔
غزہ میں اسرائیل کی بہیمانہ سرگرمیوں نے ساری دنیا کو لرزا دیا ہے۔  بنجامین نیتن یاہو کی صہیونی متعصبانہ کارروائیوں نے اس کی حکومت کے خلاف عالم گیر غصہ پیدا کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود آج تک کہیں بھی عام یہودی شہریوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے، کئی عرب ملکوں میں اب بھی یہودی شہری ہیں، عراق کی جنگ سے پہلے تو ان کی کثیر تعداد کئی عرب ملکوں میں تھی لیکن بعد میں کئی عرب ملکوں سے یہودی واپس  اسرائیل چلے گئے، پھر بھی مصر اور کئی دیگرملکوں میں یہودی اب بھی بستے ہیں۔ ایران اسرائیل کے سب سے زیادہ خلاف ہے۔اسرئیل کے حکمراں بھی بات بات پر غزہ کے حماس کیلئے ایرانی مدد کی بات کرتے ہیں لیکن ایران میں اب بھی کئی لاکھ یہودی آباد ہیں، ہم خود ایران جا کر اسے دیکھ چکے ہیں۔ یہ یہودی ایران میں قالین سازی کے بزنس میں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ یہودی ایران میں موٹر کے فاضل پرزوں کی تجارت  کرتے ہیں۔ یہ یہودی خاصے متمول بھی ہیں۔ غزہ کے حالات کے بعد بھی یہ یہودی ایران ہی میں ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ایران میں انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔کئی ایرانی نژاد یہودی اسرائیل میں بھی ہیں،اسرائیل کا ایک صدر ایرانی نژاد تھا۔ ایران میں اس نظم و ضبط کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل کے حاکم صہیونی ہیں لیکن عام یہودی صہیونی نہیں ہیں۔ یہی نہیں اسرائیل میں بھی اس وقت کئی لاکھ عرب مسلمان موجود ہیں، مسلمان اسرائیل کی سیاست میں بھی حصہ لیتے ہیں، ان کی کوئی اپنی پارٹی تو نہیں ہے، لیکن یہ مسلمان اسرائیل کی بائیں بازو کی پارٹی کیلئے ووٹ کرتے ہیں، ان پارٹیوں میں اسرائیل کی کمیونسٹ پارٹی بھی ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ وہاں بھی لوگ سمجھ رہے ہیں کہ صہیونی اور یہودی کو ایک ساتھ سمجھنا کنفیوژن کا باعث ہوگا۔ اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم زبردست صہیونی ہیں۔ان کے پاس آکسفورڈ کی ڈگری بھی ہے لیکن تعلیم بھی انہیں صہیونیت سے دور نہیں رکھ سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ حال ہی میں ان کا ایک بھتیجا بھی اس لڑائی میں مارا گیا ہے لیکن یہ ذاتی غم بھی انہیں عرب نفرتوں سے دور نہیں رکھ سکا۔
یہ سچ ہے کہ ترکی اور ایران میںزبردست مظاہرے ہوئے ہیں لیکن ان ممالک میں عوامی مظاہرے ہمیشہ کا معمول رہے ہیں، یہ بھی سچ ہے کہ عرب ممالک میں عوامی مظاہروں کا کوئی چلن نہیں ہے لیکن ہم عرب بہاریہ (بہارِ عرب، عرب اسپرنگ) کے معاملہ میں ایک بار دیکھ چکے ہیں کہ عرب عوام بھی اپنے حقوق کیلئے روز بروز آگاہ ہوتے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا نے انہیں بھی دنیا کے اور عوام کی طرح نڈر اور بے خوف بنا دیا ہے، یہ بھی درست ہے کہ عرب حکمرانوں اور عرب عوام کی سوچ اور فکر میں کوئی تضاد تو نہیں، لیکن ان کے مفادات الگ الگ ہوتے ہیں،ضروری نہیں کہ عرب عوام عرب حکمرانوں کی طرح صرف اقتدار کے مسائل  کے بارے میں سوچتے ہوں، غزہ نے عرب عوام کی فکر بدل دی ہے، آج عرب عوام فلسطین کے معاملہ میں عرب شیخوں اور شاہوں کی فکر سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ ہمیںیقین اور مکمل یقین ہے کہ عرب دُنیا میں بھی ایک انقلاب آئیگا۔ انہیں احساس ہوگاکہ عوام کی سوچ کے خلاف ہوکر کوئی حکمراں اقتدار میں نہیں رہ سکتا۔ غزہ کے مجاہدین نے مسلمانوں کے سوچنے کے انداز میں بھی بڑا فرق پیدا کیا ہے۔ رفتہ رفتہ مسلمان اپنی شاہانہ سوچوں سے باہر نکل رہے ہیں، انہیں علم ہو رہا ہے کہ یہ ساری زمین اللہ کی ہے، لیکن اللہ نے اسے چلانے کا کام بنی نوع انسان کو دیا ہے اور انہیں بتایاہے کہ راست بازی اور گمراہی میں کیا فرق ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK