جمہوریت اور جمہوریہ میں فرق ہے صاحبو

Updated: January 10, 2021, 6:34 AM IST | Aakar Patel

اس فرق کو سمجھا نہیں گیا تو وہی ہوگا جو اَ ب تک ہوتا آیا ہے یعنی ملک کے عوام حقیقی جمہوریت کی بہاروں سے محروم ہی رہیں گے۔ تب اُنہیں وہی آدھی ادھوری جمہوریت میسر آئے گی جس پر وہ کبھی مسرور ملیں گے تو کبھی مغموم۔

Indian Democracy
بھارتی جمہوریت

اِس ماہ ہم یوم جمہوریہ منائیں گے جو کہ یوم آزادی سے مختلف ہوتا ہے۔ ان دو یوم کے درمیان جو فرق ہے اُسے نہ تو پوری طرح سمجھا گیا ہے نہ ہی اس کی ستائش کی گئی ہے۔ یوم آزادی یعنی ۱۵؍ اگست کو ہم اُس دن کی سالگرہ مناتے ہیں جب ہم انگریزوں کی حکمرانی کو روکنے اور دفع کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس گلوخلاصی کو ہم آزادی قرار دیتے ہیں۔ یوم جمہوریہ جو ۲۶؍ جنوری کو منایا جاتا ہے، وہ دن ہے جب ہم نے اُن قوانین کو نافذ کیا جو ہمیں ایک خود مختار اور آزاد ملک میں تبدیل کرتے ہیں۔ غور طلب ہے کہ ہم یوم جمہوریہ کو اپنی فوجی طاقت کے جشن کے طور پر مناتے ہیں چنانچہ مسلح جوان اور اُن کی مشینیں ایک خاص انداز میں مارچ یا پریڈ کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں ہمیں اُن لوگوں سے پوچھنا چاہئے، جو اپنے علاقوں میں فوج کو تعینات دیکھتے ہیں (مثلاً شمال مشرقی ریاستیں یا کشمیر)، کہ وہ مسلح جوانوں اوراُن کی مشینوں کی پریڈ کو کس طرح دیکھتے ہیں یا جشن منانے کا یہ طریقہ اُن کے نزدیک کیسا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جمہوریہ جمہوریت سے زیادہ بامعنی ہوتا ہے۔ یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ جمہوریت وہ نظام حکمرانی ہے جس میں اکثریتی (ووٹوں) کے ذریعہ منتخب کئے ہوئے عوامی نمائندے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں۔ ووٹوں کے ذریعہ عوامی نمائندوں کا انتخاب کسی بھی جمہوریہ کے متعدد اُمور کا ایک پہلو ہوتا ہے۔ دوسرے دو پہلو بنیادی حقوق (جن کی ضمانت آئین دیتا ہے) اور شخصی آزادی ہیں۔ یہ دونوں پہلو بھی ازحد اہم ہیں جن کے بغیر آپ خود کو جمہوریت تو کہلا سکتے ہیں مگر جمہوریہ نہیں۔ بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کئی اہم باتوں کو محیط ہے۔ ان میں آزادیٔ اظہار کا حق، پُرامن طور پر کسی جگہ جمع ہونے کا حق (رائٹ ٹو اسمبلی)، اپنے عقیدہ اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق، تنظیموں اور اداروں کے قیام کا حق، پیشے کے انتخاب اور اسے جاری رکھنے کا حق اور زندگی اور آزادی کا حق شامل ہیں۔ آپ ایک ایسا ملک بھی ہوسکتے ہیں جس میں شہریوں کو ووٹ دینے کا حق تو ہے اسی لئے انتخابات بھی ہوتے ہیں مگر جہاں مذکورہ حقوق اور آزادی بامعنی طور پر میسر نہیں۔ایسے ملک میں جمہوریت تو ہوگی مگر وہ جمہوریہ کہلانے کا حقدار نہیں ہو گا۔ حقوق عوام کے پاس نہیں ہوں گے بلکہ حکومت کے پاس یا اُن لوگوں کے پاس ہوں گے جو حکومت چلاتے ہیں۔ اسے مثال کے ذریعہ اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو پُرامن طور پر کسی ایک جگہ جمع ہونے کا حق تو ہے جو کہ بنیادی حق ہے مگر آپ سے پوچھا جائے کہ کیا آپ کو یہ حق حاصل ہے تو آپ کا کیا جواب ہوگا؟ سچ پوچھئے تو عوام کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ اُنہیں پولیس کو درخواست دینی ہوگی اور پُرامن مزاحمت یا احتجاج کیلئے باقاعدہ اجازت لینی ہوگی۔ انتظامیہ اجازت دے بھی سکتا ہے، درخواست کو مسترد بھی کرسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی جواب نہ دے۔ اسی طرح مذہبی آزادی کا حق بھی نہیں پایا جاتا جیسا کہ اُترپردیش اور مدھیہ پردیش میں بننے والے نئے قانون سے ظاہر ہے۔ رہا سوال آزادیٔ اظہار کا تو اس پر بھی غداری، ازالہ ٔ حیثیت عرفی (ڈیفامیشن) اور توہین (کنٹمپٹ) جیسے قوانین کے نفاذ کا پہرہ بٹھایا جارہا ہے۔  
 حقیقت یہ ہے کہ مذکوہ بالا آزادی اور حقوق میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو آج اپنی اصل شکل میں موجود ہو۔ اس سیاق و سباق میں یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ ہمارا ملک جمہوری ملک ہے مگر کیا یہ جمہوریہ بھی ہے؟ سچ یہ ہے کہ یہ تمام حقوق عوام کو حاصل نہیں ہیں۔ یہ حکومت اور اس کے کارپردازوں کے اختیار میں ہیں۔
 یہ صورتحال بتدریج پیدا ہوئی ہے۔ دستور نے مذکورہ بالا تمام حقوق بلا تفریق اور بلا قدغن تمام ہندوستانی شہریو ںکو عطا کئے ہیں۔ ابتدائی دور میں یہ حقوق تمام شہریوں کو حاصل بھی رہے جیسا کہ دیگر جمہوریاؤںمثلاً امریکہ میں حاصل ہیں مگر وقت کے ساتھ ترامیم کے ذریعہ ان حقوق کا دائرہ تنگ کیا جانے لگا اور نوبت ایں جا رسید کہ اب ایسا لگتا ہے جیسے یہ حقوق شہریوں کو حاصل ہی نہیں ہیں۔
 حقوق ہونے کے باوجود نہیں ہیں، یہ صورتحال کیونکر پیدا ہوئی اس کے بارے میں لوگ جانتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دستور میں حواشی لکھے گئے، انہیں حصہ ۳ (بنیادی حقوق) میں ترامیم کے طور پر شامل کیا گیا۔ رائٹ ٹو فریڈم آف اسپیچ جیسا تھا ویسا نہیں رکھا گیا بلکہ اس کے ساتھ حاشیہ (فٹ نوٹ) لکھا گیا کہ ’’کوئی بھی چیز حکومت کو مناسب تحدیدات (روک ٹوک) سے نہیں روک سکتی اگر آزادیٔ اظہار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملک کی سلامتی، بیرونی ملکوں سے دوستانہ تعلقات، عوامی نظم، شائستگی، اخلاقیات، عدالت کی توہین، ازالۂ حیثیت عرفی اور کسی جرم پر اُبھارنے جیسی کوئی بات کہی جائے۔ ان تحدیدات یعنی جزوی پابندیوں کا مقصد اپنی جگہ درست ہے مگر یہ کون طے کرے گا کہ کب جزوی پابندی لگ سکتی ہے اور کب نہیں لگ سکتی؟ ان پابندیوں کا مطالبہ عوام نے کیا ہو ایسا نہیں ہے۔ یہ اس لئے لگائی گئیں کیونکہ حکومت نے عوام کو اتنی زیادہ آزادی نہ دینے کا فیصلہ کیا۔
  دیگر حقوق کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جو حواشی لکھے گئے اور جس طرح دستور کی شقوں کی تشریح کی گئی، اُن سے عوام کو دیئے گئے حقوق کی ساری کشش ماند پڑگئی۔ 
 حق زندگی اور حق شخصی آزادی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ آج ہم آپ دیکھتے ہیں کہ حکومت اُس شخص کو بھی گرفتار کرسکتی ہے جس کا کوئی جرم یا گناہ نہ ہو، جیسے حفظ ماتقدم کے طور پر ہونے والی گرفتاری۔ اس کی گنجائش آرٹیکل ۲۱؍ اور ۲۲؍ کے فٹ نوٹ کے ذریعہ پیدا کی گئی۔ اب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ حکومت کے ذریعہ دستور میں دی گئی آزادی اور حقوق کے متاثر کئے جانے اور انگریز  کے جبر میں کتنا فرق باقی رہ گیا ہے؟
 سوال یہ ہے کہ اس سلسلے میں کیا کیا جانا چاہئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حکومت کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ عوام کی متاثر شدہ آزادی اور حقوق کی تلافی کا اہتمام کرے۔ یہ کس طرح ممکن ہے؟ وہ اس طرح کہ یوم جمہوریہ پر ملک کے عوام عہد کریں کہ آئین کے اُن تمام حصوں پر اصرار کریں گے، انہی پر جمے رہیں گے جو اَب بھی مکمل طور پر اُن کے حق میں ہیں یعنی جنہیں حکومت فٹ نوٹس  کے ذریعہ متاثر نہیں کرسکی ہے۔ ان پر اصرار کے ذریعہ ہم اپنی وہ آزادی اور حقوق واپس لے سکتے ہیں جن پر حکومت قابض ہوگئی ہے۔ اگر مستقبل میں ایسا ہوا تو یقیناً یوم جمہوریہ منانے کا لطف کچھ اور ہوگا۔ اس کی معنویت کچھ اورہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK