آزمائش میں موقع ہے

Updated: May 23, 2020, 4:40 AM IST | Editorial | Mumbai

وقت اتنا تیزی سے گزرنے لگا ہے کہ دن شروع ہوتا ہے،دن ختم ہوجاتا ہے، ہفتہ شروع ہوتا ہے ہفتہ مکمل ہوجاتا ہے، مہینے کا آغاز ہوتا ہے اور مہینہ انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ رجب اور شعبان میں ہم سب یہ کہہ رہے تھے کہ رمضان آرہا ہے، رمضان آرہا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 وقت اتنا تیزی سے گزرنے لگا ہے کہ دن شروع ہوتا ہے،دن ختم ہوجاتا ہے، ہفتہ شروع ہوتا ہے ہفتہ مکمل ہوجاتا ہے، مہینے کا آغاز ہوتا ہے اور مہینہ انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ رجب اور شعبان میں ہم سب یہ کہہ رہے تھے کہ رمضان آرہا ہے، رمضان آرہا ہے۔ رمضان المبارک اپنی تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر بھی ہوا اور اَب رخصت پزیر بھی ہے۔ ماہ و سال کی اس تیز رفتاری سے انسان کو جو درس ملتا ہے وہ یہی ہے کہ جووقت میسر ہے اُس کا بہتر سے بہتر استعمال ہو کہ یہی اصل شرطِ زندگی ہے۔ موجودہ دور میں وقت گنوانے کے ہزار طریقے، بہانے اور ذرائع ہیں ۔ ہر شخص ان کے پیچھے دوڑ رہا ہے مگر وقت بچانے اور اس کو بہتر مدوں  میں صرف کرنے کی فکر کم کم ہی دکھائی دیتی ہے جبکہ یہ ایسی نعمت ہے جو دونوں جہانوں کی کامیابی سے سرفراز کرسکتی ہے۔ دُنیا کا کوئی انسان ایسا نہیں جو کامیاب نہ ہونا چاہتا ہو مگر ہر انسان نے کامیابی کی الگ تعریف اور اس کو جانچنے کے الگ پیمانے مقرر کررکھے ہیں ۔ چونکہ یہ غلط سمتوں کا سفر ہے اس لئے نام نہاد کامیابی کے پیچھے دوڑنے والا انسان کسی بھی زاویئے سے آسودہ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ جتنا دوڑتا ہے اُتنا پریشان ہوتا ہے اور جتنا پریشان ہوتا ہے اُتنا دوڑتا ہے اس کے باوجود کامیابی اُس سے کوسوں دور رہتی ہے۔ 
 آپ ایسے کئی لوگوں کو جانتے ہوں گے جنہوں نے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش میں جو تھا وہ بھی گنوا دیا۔ اب کف افسوس ملنے کے علاوہ اُن کے سامنے کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ یہ رہا کامیابی کا معاملہ۔ خوشی کی تلاش کا بھی ایسا ہی سفر ہے جو کامیابی کی دوڑ دھوپ کا حصہ ہے۔ یہاں بھی مسئلہ وہی ہے کہ انسان نے خوشی کے اپنے پیمانے مقرر کرلئے ہیں ۔ وہ اُن چیزوں سے خوش نہیں ہوتا جن سے اُس کے آباء و اجداد خوش ہوتے تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ خوشی کے یہ پیمانے بھی تیزی سے بدل رہے ہیں ۔اب انسان اپنے بچوں کو دیکھتا ہے کہ جن چیزوں سے وہ خوش ہوتا ہے اُن چیزوں سے اُن کا دل نہیں بہلتا اور وہ اُن میں خوشی محسوس نہیں کرتے ہیں ۔ اُنہوں نے اپنی خوشیوں کو کچھ اور چیزوں سے وابستہ کرلیا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دورِ جدید کا انسان اپنی غلط ترجیحات کی وجہ سے کامیابی کا سفر سمجھ کر ناکامی کا تعاقب اور خوشیوں کی تلاش میں اپنے لئے رنج و محن کا سامان کرتا ہے۔ اس پس منظر میں آئیے موجودہ حالات کا جائزہ لیتے چلیں :
 کورونا وائرس کی لائی ہوئی تباہی سب کے سامنے ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ گھروں میں مقید ہیں ۔ ایسے میں جتنی خبریں موصول ہوتی ہیں وہ سب افسردہ کرنے والی ہیں ۔ اگر انسان کامیابی اور خوشی کے صحیح پیمانوں کو سامنے رکھے تو ہر خبر سے افسردگی کشید کرنے کے بجائے سکون و اطمینان کشید کرنے کے قابل بن جائے۔ ایسا ہو تو افسردہ کرنے والی ہر خبر اُسے موقع فراہم کرے گی کہ وہ (۱) دُعا کرے (۲) اپنے وسائل اور اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر دوسروں کو فیض پہنچائے (۳) پریشان حالوں کو تسلی دے (۴) جنہوں نے کسی اپنے کو کھویا ہے اُن کی دلدہی کرے، اُن کی ڈھارس بندھائے (۵) جو لوگ معاشی طور پر بے حد کمزور ہیں اُن تک اشیائے خورد و نوش پہنچانے کی فکر کرے (۶) جو افراد، ادارے اور تنظیمیں تندہی کے ساتھ غریبوں اور ناداروں کی مدد کررہی ہیں اُن کی مدد کرے، اور (۶) ہر زاویئے سے سوچے کہ ان حوصلہ شکن حالات میں وہ سماج اور معاشرہ کیلئے کس طرح مفید اور کارآمد بن سکتا ہے۔ ان تدابیر پر غور نہیں کیا گیا تو جو وقت ہے وہ گزر جائیگا۔ وہ ٹھہرنے والا نہیں ہےمگر دے کر کیا جائیگا؟ 
  کسی اور کو جانے دیجئے، کل جب ہم خود اپنا جائزہ لینگے کہ کورونا کی آزمائش کے دور میں ہم نے کیا کیا تھا تو کیا یہ اچھی بات ہوگی کہ شرمندگی ہاتھ لگے؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK