• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کچھ اُن کے بارے میں بھی سوچئےجو الیکشن جیت کر بھی ہار جائیں گے؟

Updated: December 05, 2023, 1:03 PM IST | Abhay Kumar Dubey | Mumbai

مدھیہ پردیش میں ایسے لیڈر کی مثال شیوراج سنگھ چوہان ہیں جبکہ راجستھان میں وسندھرا سندھیا اور سچن پائلٹ ہیں تو چھتیس گڑھ میں ٹی ایس سنگھ دیو اور رمن سنگھ کا نام لیا جاسکتا ہے۔

Shivraj Singh Chauhan himself does not know what will happen to him after the party wins or loses. Photo: INN
شیوراج سنگھ چوہان خودنہیں جانتے کہ پارٹی کے جیتنے یا ہارنے کے بعد ان کا کیا ہوگا ؟۔ تصویر : آئی این این

ہندی بیلٹ کی تینوں ریاستوں کے اسمبلی انتخابات نے ہمارے سامنے ایسے کئی ایسے لیڈر پیش کئے ہیں ، جو اپنی پارٹی کی قیادت سے خود کو مظلوم محسوس کر رہے ہیں ۔ اگرچہ ان لیڈروں کو اپنے اوپر ہونے والے’ ظلم و ستم‘ کا علم ہے لیکن ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے،اسلئے خود انہیں ہی اپنی وفاداری ثابت کرنی پڑتی ہے اور اس کیلئے انہیں بار بار بیانات دینے پڑتے ہیں۔
 اپنی مایوسی کے اظہار کیلئے انہیں ایسی زبان اور مواقع کا استعمال کرنا پڑتا ہے، جس میں ان کے باغیانہ لہجے اور ارادوں کا پتہ نہ چل سکے۔ مدھیہ پردیش میں ایسے لیڈر کی کلاسیکی مثال شیوراج سنگھ چوہان ہیں ۔ چھتیس گڑھ میں اس قبیل کے لیڈروں کو ٹی ایس سنگھ دیو اور رمن سنگھ کی شکل میں دیکھاجا سکتا ہے۔ راجستھان میں بھی ایسے لیڈروں کی کمی نہیں ۔وہاں پر سیاسی گلیاروں کے دونوں طرف ایسے لوگ موجود ہیں ۔ان میں واضح طور پر سچن پائلٹ اور وسندھرا راجے سندھیا کا نام لیا جاسکتا ہے۔
 ۲۰۱۸ء سے پہلے اور اس کے بعد کے کچھ دنوں تک پائلٹ نہ صرف راجستھان بلکہ کانگریس کی قومی سیاست میں بھی تیزی سے ابھرتے ہوئے ستارے تھے۔ یہ مانا جاتا تھا کہ ہائی کمان ان کی پشت پر ہے اور وہ راجستھان کا مستقبل ہیں ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کی صدارت ہی میں کانگریس پارٹی بی جے پی سے اقتدار چھیننے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن اُس وقت کے حالات کچھ ایسے تھے کہ اشوک گہلوت کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ مل گیا۔ پانچ سال تک، سچن پارٹی کے اندر گوریلا جنگ کرتے رہے، جو وہ انتخابات کے دوران نہیں لڑ سکے۔پورے انتخابی عمل کے دوران انہیں گہلوت کے ساتھ اتحاد کا ڈراما کرنا پڑا۔
یہاں پر یہ سوال غور طلب ہے کہ اس بات کا شدید احساس ہونے کے بعد کہ ان کے حقوق چھینے گئے ہیں ، انہوں نے انتخابات میں اپنا کردار کیسے اداکیا ہوگا؟ اور کس طرح سے اپنے حامیوں کواس بات کا احساس دلایا ہوگا؟ اسی سے جڑا ایک سوال یہ بھی ہے کہ راجستھان کی گرجر برادری (جس کا لیڈر پائلٹ سمجھا جاتا ہے) نے اپنی ووٹنگ ترجیحات کا تعین کیسے کیا ہو گا؟
پچھلی بار گرجر اکثریتی سیٹوں پر بی جے پی کا صفایا ہوگیا تھا کیونکہ اس طبقے کو ایسا لگ رہاتھا کہ ان کا لیڈر ہی ریاست کا وزیراعلیٰ بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بی جے پی نے پائلٹ بمقابلہ گہلوت کا مسئلہ شدت سے اٹھا یا۔ اس نے شاید یہی سوچ کر یہ طریقہ اختیار کیا کہ اس طرح وہ بہت زیادہ گرجر ووٹ حاصل کر لے گی۔
اگر بی جے پی اپنے ارادے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو کیا اس نوجوان لیڈر کا کریئر متاثر نہیں ہو گا؟ اگر وہ ایک بار پھر اپنی پارٹی کیلئے گرجر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا وہ چوتھی بار گہلوت کو وزیر اعلیٰ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے؟ ان کی جیت صرف ایک ہی طریقے سے ہو سکتی ہے کہ کانگریس جیتے بھی اور گہلوت وزیر اعلیٰ نہ بنیں... لیکن گہلوت کا انتخابات پر اتنا زبردست اثر ہے کہ اگر کانگریس جیت جاتی ہے تو ان کی جادوگری پائلٹ کو ایک بار پھر اقتدار سے دور کردے گی۔
وسندھرا راجے سندھیا  اپنی طرف سے یہ دکھانے کی پوری کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے اور پارٹی کے اعلیٰ لیڈران کے درمیان سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے، لیکن وہ جانتی ہیں کہ اگر بی جے پی جیت جاتی ہے تو انہیں وزیر اعلیٰ نہیں بنایا جائے گا۔ جاٹ، گرجر اور راجپوت برادریوں سے تعلق رکھنے اور خواتین ووٹروں میں مقبول ہونے کے باوجود وہ خود کو حاشئے پر پاتی ہیں۔ ایک طرح سے وہ بی جے پی کی سچن پائلٹ بن گئی ہیں، جنہیں پارٹی کو جیتتے ہوئے دکھانا  تھا، لیکن وزیر اعلیٰ کے عہدے کی امید نہیں کرنی تھی۔
 وسندھرا کا مسئلہ یہ ہے کہ کریڈٹ لینے میں ان کا کسی علاقائی لیڈر سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ راجستھان کی جیت کا سہرا صرف ایک شخص کو ملنے والا ہے اور وہ ہے وزیر اعظم مودی۔ حکومتیں بدلنے کی راجستھانی روایت کو پلٹتے ہوئے اس بار کانگریس جیت جاتی ہے تو اس ہار کی ذمہ داری کون لے گا؟ اس نقطہ نظر سے سچن پائلٹ اور وسندھرا راجے کی اپنی اپنی پارٹیوں میں ایک طرف کنواں اور دوسری طرف کھائی ہے۔
مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کا بھی یہی حال ہے۔ اگر ان کی پارٹی ہار جاتی ہے تو یہ کہا جائے گا کہ پارٹی کو ان کے خلاف اینٹی انکم بینسی کی وجہ سے نقصان ہوا اور اگر وہ جیت جاتی ہے تو کیا وہ کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنتے دیکھ کر بے چین نہیں ہوں گے؟ ہاں، اس معاملے میں ٹی ایس سنگھ دیو نے کچھ فیصلہ کن بیان دیا ہے کہ اگرکانگریس جیت جاتی ہے اور وہ وزیراعلیٰ نہیں بن پاتے ہیں تو وہ الیکشن لڑنا چھوڑ دیں گے یعنی سیاست سے باہر ہو جائیں گے۔
ظاہر ہے سچن پائلٹ، شیوراج سنگھ چوہان اور وسندھرا راجے سندھیا فی الحال ایسا سوچنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ شاید ان کے دل میں آج بھی یہ امید ہے کہ آنے والے پانچ برسوں میں وہ اس کھوئی  ہوئی بازی کو اپنے حق میں کر سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK