ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سازش کے تحت نائن الیون جیسے دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے اور اس کا الزام ایران پر ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 10:01 PM IST | Tehran
ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سازش کے تحت نائن الیون جیسے دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے اور اس کا الزام ایران پر ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ایران کے ایک اعلیٰ سیکوریٹی عہدیدار نے اتوار کو ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایک مبینہ سازش کے تحت بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملہ کر کے اس کا الزام ایران پر ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے یہ انتباہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا۔ اپنے پوسٹ میں علی لاریجانی نے کہا کہ ’’میں نے سنا ہے کہ ایپسٹین نیٹ ورک کے باقی ارکان نائن الیون جیسے واقعے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اس کا الزام ایران پر ڈالنے کی سازش تیار کی گئی ہے۔‘‘
تاہم، انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی واضح ثبوت یا تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی انتہائی بڑھ چکی ہے۔ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں تقریباً ۱۲۰۰؍ افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ سیکوریٹی اہلکار بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلامو فوبیا مخالف عالمی دن پر او آئی سی کا انتباہ: مسلم مخالف نفرت میں اضافہ
اپنے بیان میں لاریجانی نے واضح کرنے کی کوشش کی کہ ایران کا امریکی عوام کے خلاف کسی دہشت گردانہ کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے لکھا: ’’ایران بنیادی طور پر اس طرح کے دہشت گردانہ منصوبوں کی مخالفت کرتا ہے اور ہماری امریکی عوام کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ تہران پر دہشت گردی کے الزامات لگانے کی کسی بھی کوشش کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہو سکتا ہے۔
لاریجانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنی فوجی کارروائیوں کو دفاعی ردعمل قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے حق کے تحت اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ایران جارحیت کے ذمہ دار عناصر کو سزا دینے کے لیے سخت اور مضبوط جواب دے گا۔‘‘ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ۲۸؍ فروری کے حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں مسجد اقصیٰ کی بندش: عرب لیگ کی اسرائیل پر شدید تنقید
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں بھی بحری نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ علی لاریجانی نے اپنی پوسٹ میں بدنام امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین کے نیٹ ورک کا بھی حوالہ دیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے مطابق اس نیٹ ورک کے کون سے افراد اس مبینہ سازش میں شامل ہو سکتے ہیں یا یہ منصوبہ کیسے انجام دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی جنگ یا ’’انفارمیشن وارفیئر‘‘ کا بھی حصہ ہو سکتا ہے، جہاں مختلف فریق عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔