Inquilab Logo Happiest Places to Work

دل کی فکر کیجئے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ’تکبر‘نے گھر کر لیا ہے؟

Updated: December 12, 2025, 4:21 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

انسان کے اندر خودنمائی کا جذبہ موجود ہوتا ہے اور شیطان اس کو بڑھا دیتا ہے تاہم ہر مومن شخص کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس مرض سے خود کی حفاظت بہت ضروری ہے ورنہ اس بیج کا دل میں پڑجانا سارے نیک اعمال کو تباہ کرسکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے تو ہم تواضع کی وہ تعلیمات اختیار کریں جو اسلام نے ہمیں دی ہیں۔

When arrogance and pride develop within a person, he begins to consider everyone but himself inferior. Picture: INN
تکبر اور بڑائی کا زعم جب انسان کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ اپنے سوا ہر ایک کو کمتر جاننے لگتا ہے۔ تصویر:آئی این این

آج کےد ور میں سوشل میڈیا کے فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن جس طرح اس کے فائدے ہیں اسی طرح اس کے نقصانات بھی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے ذریعہ صارفین میں خودپسندی اور تکبر کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ ہم  اکثر دیکھتے ہیں کہ کوئی تصویر ، ویڈیو یا تحریر اَپ لوڈ کرنے کے بعد انسان کے اندر خواہش پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اس پوسٹ کو پسند کریں، اس پر اپنی مثبت رائے کا اظہار کریں، اس کی تعریف کریں اور دوسروں تک اس پوسٹ کو پہنچائیں۔  پھر اس میں ایک کبھی نہ رکنے والی خواہش بھی ہوتی ہے کہ ابتداء ً  انسان پچاس لائیک ملنے پر بھی خوش ہوتا ہے، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ وہ اس عدد میں اضافے کا خواہشمند ہوتا ہے اور نہ ملنے پر غمگین ہوتا ہے۔ اس طرح ایک غیر محسوس طریقے سے ہمارے دلوں میں کبر اور بڑے پن کی برائی جڑ پکڑتی جارہی ہے۔ خاص کر ہمارا نوجوان طبقہ تو گویا مکمل طور پر اس کی گرفت میں آچکا ہے۔ 
 یہ صرف آج کی ہی بات نہیں ہے ،تکبر اور بڑائی انسان کے دل کا وہ ناسور ہے جو ہمیشہ سے ہی اس کے اندر موجود رہا ہے۔  اس کی وجہ سے انسان نے بڑے بڑے نقصان اٹھائے ہیں۔ رسائل من القرآن کتاب کے مصنف ادھم الشرقاوی نے حضرت سفیان بن عیینہؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ:’’جو شخص انسانی خواہشات کی وجہ سے کوئی گناہ کرے تو اس کے ساتھ توخیر کا معاملہ ہوسکتا ہے، لیکن جو شخص گناہ تکبر کی وجہ سے کرے تو اس کے متعلق بہت خوف محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے کہ حضرت آدم ؑ سے جو (پھل کھانے کی ) غلطی ہوئی تھی وہ ایک خواہش کی وجہ سے تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ لیکن ابلیس نے جو غلطی کی تھی وہ تکبر کی وجہ سے کی تھی اس لئے وہ ملعون قرار پایا۔ ‘‘
تکبر دراصل ایک ناسور ہے۔ یہ وہ گھن ہے جو انسانی دل کی بھلائی اور خیر کو مکمل طور پر کھاجاتا ہےاور اس کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیتا ہے۔ عربی مصنف ابوہاشم  صالح المغامسی نے اپنی  تصنیف ’کتاب الاعلامِ القرآن‘ میں تکبر کے سلسلے میں ایک نہایت ہی سبق آموز  بات لکھی ہے کہ : ’’ اللہ عزوجل نے فرعون کو اسی چیز سے سزا دی جس کے ذریعہ اس نےتکبر کا اظہار کیا تھا۔ اس لئے کہ (قرآن کہتا ہے کہ) فرعون نے اہل مصر سے کہا تھا: ’اے میری قوم! کیا مصر کی سلطنت میرے قبضے میں نہیں ہے؟ اور (دیکھو) یہ دریا میرے نیچے بہہ رہے ہیں۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا؟‘  اس طرح اس نے خود کو مصر کے دریا کا مالک بتایا اور یہ ظاہر کیا کہ یہ دریا میرے تصرف میں ہیں۔ تب ہی  اللہ عزوجل نے اس کو اسی دریا میں غرق کردیا جن کا وہ مالک ہونے کا دعوی کرتا تھا۔‘‘
تکبر اور بڑائی کے متعلق بات کرنے کے بعد ہر مومن شخص کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس مرض سے خود کی حفاظت بہت ضروری ہے ورنہ اس بیج کا دل میں پڑجانا ہمارے سارے نیک اعمال کو تباہ کرسکتا ہے۔  اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے تو ہم تواضع کی وہ تعلیمات اختیار کریں جو اسلام نے ہمیں دی ہیں۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ’’ اور آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں وہ اور سارے فرشتے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ ذرا تکبر نہیں کرتے۔‘‘ (النحل:۴۹) احادیث میں بھی تکبر کے متعلق وعیدیں اور تواضع کے متعلق فضائل واقع ہوئے ہیں۔ نبی کریم حضرت محمدؐ نے فرمایا:’’ جو شخص اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے سربلند فرماتے ہیں۔ ‘‘
ان تعلیمات کے مطالعے اور ان پر عمل کے ساتھ ساتھ ایک اور شے جو بہت ضروری ہے، وہ ہے کسرِ نفس ۔ یعنی اپنے دل کی انا کو، اس کے تکبرکو توڑنا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو ایک یا دو مرتبہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ تاحیات اس پر کاربند رہنا چاہئے یعنی اپنے دل کے اندر چھپے اس بڑائی والے شیطان کو بار بار تعلیم دیتے رہنا چاہئے کہ بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہے، یہ اُسی کو زیبا ہے، یہ اس کی چادر ہے اس میں اگر گھسنے کی کوشش کروگے تو دنیا بھی تباہ ہوجائے اور آخرت بھی۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں ایک مرتبہ اپنی مجلس میں مرحوم حضرت مولانا عبد اللہ حسنی صاحب نے طلبا ءسے کہا تھا کہ ہفتے میں ایک مرتبہ سائیکل ضرور چلالیا کریں ، اس سے نفس کے اندر جو بڑاپن پیدا ہوجاتا ہے اس کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ یہی وہ کسرِ نفس یعنی دل کا توڑنا ہے جس کی نہ صرف ہمیں ضرورت ہے بلکہ تاحیات اس پر کاربند رہنے کی کوشش جاری رہنی چاہئے تاکہ کبر اوربڑائی ہمارے دل میں دبے پاؤں جگہ نہ بنالے۔ 
اس سلسلے میں علامہ ابن القیمؒ نے ’اغاثۃ اللھفان فی  مصاید الشیطان ‘ نامی کتاب میں مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن سلامؓ کا ایک نہایت ہی سبق آموز واقعہ تحریر کیا ہے کہ’’حضرت عبداللہ بن سلام ؓ بازار سے گزر رہے تھے اور ان کے سر پر لکڑیوں کا ایک گٹھا تھا۔ لوگوں نے کہا: آپ کو ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے  حالانکہ اللہ نے آپ کو بے نیاز کر دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں اس کے ذریعے اپنے نفس سے تکبّر کو دور کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:  وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرّہ بھر بھی تکبّر ہو۔‘‘ ایسا ہی واقعہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا بھی ملتا ہے۔ ان کے واقعہ میں یہ اضافہ ہے کہ جب لوگوں نےکہا کہ ہم آپ کے لئے یہ لکڑی کا گٹھا اٹھا لیتے ہیں تووہ روپڑے اور کہنے لگے: میں تو مسکین آدمی ہوں، اللہ تعالیٰ اگرمیرے عیب نہ چھپائے تو میں دنیا میں ذلیل ہوجاؤں۔‘‘ 
ہمارے اسلاف کایہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ  شیطان مستقل کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ایک مومن کو اس گناہ یعنی تکبر میں مبتلا کردے جس کی وجہ سے وہ دھتکارا گیا تھا۔ یہ ایسی عادت ہے جس کی طرف سے انسان کو بالکل بھی مطمئن نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیشہ جاگتے رہنا چاہئے کہ کہیں تکبر دبے پاؤں ہمارے  دل میں داخل نہ ہوجائے۔ اور اگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو انسان تکبر کر بھی کیسے سکتا ہے۔ ایک استاذ نے طلباء کو تکبر کے متعلق پڑھاتے وقت کہا تھا کہ’ انسان بھلا کیسے تکبر کرسکتا ہے جبکہ وہ ہر وقت اپنے پیٹ میں غلاظت کا ایک انبار لئے گھومتا ہے۔‘ 
تاریخ گواہ ہے کہ تکبر نام کی بیماری جس شخص کے اندر آئی ہے، وہ اس دنیا میں ذلیل اور رسوا ہوئے بغیر نہیں مرتا بلکہ تباہی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ احادیث میں ایک واقعہ ملتا ہےکہ حضرت موسیٰؑ جب بچپن میں پانی میں بہتے ہوئے، فرعون اور حضرت آسیہ کو ملے تو حضرت آسیہ نے کہا: یہ بچہ تمہاری اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ اس پر فرعون اپنے تکبر اور عناد اور سرکشی کی وجہ سے کہنے لگا: تیری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد  آپؐؐ نے ارشادفرمایا: ’’اگر فرعون بھی وہی بات کہتا جو اس کی بیوی نے کہی تھی تو اللہ عزوجل اسے بھی ہدایت دے دیتے جیسے اس کی بیوی کو ہدایت دی تھی۔ لیکن اللہ عزوجل نے اس کو اس (اقرار) سے محروم کردیا تھا۔ ‘‘
  ہر متکبرانسان کے ساتھ  یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ  اس کو دنیا وآخرت کے چین ،سکون، اطمینان، خوشی اور نیکیوں سے محروم کردیتے ہیں ۔ بڑی ہی تکلیف دہ زندگی وہ گزارتا ہے اور آخرت میں تو پھر عبرتناک سزا اس کو ملے گی ہی۔ اس لئے کبر سے بچنے اور اس کواپنے دل سے ختم کرنے کیلئے تدابیر اختیار کرنے کی مسلسل کوشش ہونی چاہئے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK