یہ بھی کوئی معمولی چیلنج نہیں

Updated: May 14, 2022, 11:18 AM IST | Mumbai

انسانی زندگی سے پلاسٹک کی جلوہ سامانیوں کو حذف کردیا جائے تو زندگی ادھوری ادھوری سی محسوس ہوگی۔ اس لئے کہ پلاسٹک نے زندگی کے ہر شعبے میں ’’دراندازی‘‘ کی ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

انسانی زندگی سے پلاسٹک کی جلوہ سامانیوں کو حذف کردیا جائے تو زندگی ادھوری ادھوری سی محسوس ہوگی۔ اس لئے کہ پلاسٹک نے زندگی کے ہر شعبے میں ’’دراندازی‘‘ کی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران جب جب بھی انتظامیہ کی سختی کے سبب ہاٹ بازاروں سے پلاسٹک غائب ہوا، صارفین شاکی و برہم اور دکاندار فکرمند ہوئے کہ اس سے دھندا چوپٹ ہوجائے گا۔ ہفتے دو ہفتے میں سختی کا دور ختم ہوا تو سب کچھ پہلے جیسا ہوگیا۔ صارف بھی خوش اور دکاندار بھی خوش، سب کی زبان پر گویا پلاسٹک زندہ باد کا نعرہ تھا۔  ایسا ایک بار نہیں بار بار ہوا ہے۔ پلاسٹک کے خلاف عائد ہونے والی پابندی شاید اس لئے ٹھہرنہیں پاتی کہ پلاسٹک خوب ٹھہرتا ہے، ٹھہرا رہتا ہے، اسے کہیں بھی پھینک دیا جائے، ایک ہزار سال تک اپنے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔اِس وقت پلاسٹک کا کوڑا دُنیا بھر میں اس قدر ہے کہ ایک جگہ اس کا انبار ہو تو رقبہ فرانس کے رقبے کے مساوی ہوگا۔ لوگ پلاسٹک استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں اور بے فکر ہوجاتے ہیں مگر یہ شے اتنی سخت جان ہے کہ جہاں پہنچتی ہے، آس پاس کی دُنیا کو متاثر کرتی ہے خواہ پانی کی نکاسی میں حائل ہوجائے، زہریلے اثرات پھیلائے، حیوانات کو تکلیف دے یا سمندروں میں پہنچ کر آبی حیات کیلئے چیلنج بن جائے۔  پلاسٹک کی ایک ہزار سال تک باقی رہنے کی خصوصیت کے سبب یہ نہ صرف انسانی و حیوانی زندگی کیلئے بلکہ ماحولیات کیلئے بھی سراسر نقصان دہ ہے۔ پوری دُنیا کے ماہرین پلاسٹک کے ماحولیاتی نقصان کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی تشویش روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے۔ عالمی حکمرانوں کی ستائش کی جانی چاہئے جو اِن کی تشویش کو مسترد نہیں کرتے بلکہ چوٹی کانفرنس کے ذریعہ خود بھی فکرمند ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ بھلے لوگ چوٹی کانفرنس کے بعد اعلامیہ جاری کرتے ہیں اور نئے عزم کے ساتھ وطن لوَٹتے ہیں آئندہ چوٹی کانفرنس کے ’’نئے عزم‘‘ کیلئے۔  حالیہ چوٹی کانفرنس کا انعقاد مارچ ۲۰۲۲ء میں نیروبی (کینیا) میں ہوا تھا جس میں۱۲۰؍ سے زائد ملکوں کے وزراء اور نمائندوں نے تین دن کے مذاکرات کے بعد اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا کہ پلاسٹک، جس کی عادی دُنیا سالانہ تین سو ملین ٹن کا پلاسٹک سامان تیار کرتی ہے، سے نمٹنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ورنہ عالمی ماحول نہ صرف انسانوں اور حیوانوں کیلئے بلکہ دُنیا کی ہر چیز کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اس رضامندی کے بعد اب توقع کی جارہی ہے کہ ایک ایسا معاہدہ رو بہ عمل لایا جائے گا جس کے ذریعہ پلاسٹک (بالخصوص سنگل یوز پلاسٹک) کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا جائیگا۔ چوٹی کانفرنس کی ’’کامیابی‘‘ پر تبصرہ کرنے والوں نے اسے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے مگر ہمیں اس کے تاریخی ہونے پر شبہ ہے کیونکہ عام طور پر جو ممالک چوٹی کانفرنسوں پر چھائے رہتے ہیں، خود اُن کے ہاں پلاسٹک کا کوڑا سب سے زیادہ نکلتا ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ امریکہ کا ہر شہری ہر سال ۱۱۰؍ کلوپلاسٹک استعمال کرتا ہے۔ پلاسٹک سےپھیلنے والی آلودگی میں بھی چین، امریکہ، جرمنی، برازیل اور جاپان سرفہرست ہیں۔   ہندوستان اگر روایتی طرز زندگی کو بڑھاوا دے تو مسئلہ سے بڑی حد تک نمٹ سکتا ہے مگر ہمارا سماج اس مسئلہ کی سنگینی کو ہنوز سمجھ نہیں پایا ہے۔ یکم جولائی سے سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد ہوگی تو دیکھنا ہوگا کہ عوام ا س کا کتنا ساتھ دیتے ہیں !

plastic Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK