امریکہ میں جمہوریت کا یہ حشر

Updated: January 13, 2021, 12:28 PM IST | Parvez Hafiz

بدھ چھ جنوری کے دن امریکی جمہوریت کی علامت کیپیٹل ہل میں جس وقت سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے مشترکہ اجلاس میں جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کی رسمی توثیق کی جارہی تھی اس وقت ٹرمپ کے ہزاروں جنونی حامیوں نے وہاں چڑھائی کردی اور کئی گھنٹوں تک تخریب کاری اور تشدد کرتے رہے جن میں پانچ جانیں تلف ہوگئیں۔

Capitalo Hill - Pic : PTI
کیپٹل ہل پر حملہ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 جو امریکہ ساری دنیا کو دن رات جمہوریت کا درس دیتا رہتاہے، جس امریکہ نے ایشیا اورافریقہ کے متعدد ممالک کو جمہوریت کا پرچم لہرانے کے بہانے تہ و بالا کر کے رکھ دیا اور جو امریکہ دنیا کی قدیم ترین جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،کسے خبر تھی کہ اسی امریکہ میں جمہوریت کے منہ پر یوں کالک مل دی جائے گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کارنامہ کسی ا ور نے نہیں خود امریکہ کے رخصت پذیر صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے انجام دیا۔
 آئینی جمہوریت کے بنیادی اصول کے مطابق ہر سیاسی حریف پر لازم ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج کو خواہ وہ اس کے حق میں ہوں یا خلاف، خندہ پیشانی سے قبول کرلے۔ ٹرمپ نے امریکی جمہوریت کے اس مروجہ روایت سے انحراف کیا۔ ان کا یہ انحراف الیکشن میں اپنی شکست تسلیم کرنے تک محدود نہیں تھا۔ یہ انحراف انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد اقتدار کی پرامن منتقلی کے دیرینہ آئینی عمل پر ایک عدیم المثال حملہ تھا۔
 بدھ چھ جنوری کے دن امریکی جمہوریت کی علامت کیپیٹل ہل میں جس وقت سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے مشترکہ اجلاس میں جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کی رسمی توثیق کی جارہی تھی اس وقت ٹرمپ کے ہزاروں جنونی حامیوں نے وہاں چڑھائی کردی اور کئی گھنٹوں تک تخریب کاری اور تشدد کرتے رہے جن میں پانچ جانیں تلف ہوگئیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دارالحکومت واشنگٹن میں بغاوت اور خانہ جنگی ہورہی ہو یا کسی بیرونی دشمن نے حملہ کردیا ہے۔
  ٹرمپ کے ناقدین کو چھوڑیں خود ان کی ریپبلیکن پارٹی کی اہم لیڈرلز چینی نے صاف کہ دیا کہ صدر نے ہی جنونی بھیڑ اکٹھا کی،بھیڑ سے خطاب کرکے اسے مشتعل کیااور صدر نے ہی یہ آگ لگائی۔سی این این نے ٹرمپ کے متشدد حامیوں کو’’گھریلو دہشت گرد‘‘ قرار دے دیا۔ واشنگٹن میں جو انتشار، لاقانونیت اور انارکی دیکھی گئی اس کی پیشن گوئی سیاسی پنڈتوں نے کئی ماہ قبل ہی کردی تھی۔ ’’دی اٹلانٹک ‘‘نے The Election That Could Break America کے عنوان سے ایک طویل مضمون ستمبرمیں شائع کیا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد امریکہ میں بہت بڑا ’’آئینی بحران ‘‘ پیدا ہوجائے گا کیونکہ ٹرمپ ہارنے کے بعد بھی ہار تسلیم نہیں کرنے والے ہیں۔ امریکی آئین کے معروف اسکالر جوشوا گیلٹزر نے تقریباً دو سال قبل یہ کہہ  دیا تھا کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہارنے کے بعد ٹرمپ خاموشی سے رخصت ہوجائیں گے۔ ’’ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اور ان کے دوست عوامی ہسٹیریا اور تشدد بھڑکائیں گے۔‘‘خود ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی مئی ۲۰۱۹ء  میں نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ٹرمپ ہارنے کے باوجود رضاکارانہ طور پر وہائٹ ہاؤس خالی نہیں کریں گے۔ قانون کے پروفیسر لارنس ڈگلس نے صدارتی انتخاب اور ان کے نتائج پر ٹرمپ کے متوقع ردعمل پر ایک مکمل کتاب لکھ ڈالی تھی جو بیسٹ سیلر ہوگئی ہے۔ کتاب کا نام ہے Will He Go?۔ ڈگلس نے حیرت انگیز بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین نومبر کے الیکشن کے بعد ٹرمپ کے ممکنہ رویے اورردعمل کی درست پیشن گوئی کردی تھی۔’’ میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہوں کہ ٹرمپ شکست تسلیم کرلیں گے۔ ایسا کرنا ان کے ڈی این اے میں ہی نہیں ہے۔‘‘ٹرمپ کی سگی بھتیجی میری ٹرمپ نے بھی امریکی عوام کو کافی پہلے خبردار کردیا تھا کہ اپنی شکست سے بوکھلاکروہ بغاوت کی آگ بھڑکا سکتے ہیں اور انہوں نے ٹھیک ایسا ہی کیا۔ ٹرمپ نے کسی کو اندھیرے میں نہیں رکھا تھا۔ انہوں نے پچھلے کئی ماہ سے اس بات کے واضح اشارے دے دیئے تھے کہ اگر انہیں شکست ہوئی تو وہ انتخابی نتائج کو تسلیم ہی نہیں کریں گے۔ یہ جمہوری نہیں آمرانہ انداز فکر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹرمپ آمرانہ، نسل پرستانہ اور طبقاتی تعصب والی ذہنیت کے مالک ہیں۔ امریکی سیاست میں ان کی حیثیت ایک Outsider کی تھی۔ وہ ایک ارب پتی بزنس مین ہیں جنہوں نے اپنی دولت کے بل بوتے پر ۲۰۱۶ء   میں ریپبلیکن پارٹی سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرلی اور بعد میں امریکی انتخابات کی پیچیدگیوں کے سہارے صدر منتخب ہوگئے حالانکہ انہیں ڈیموکریٹ امیدوار ہلری کلنٹن کے مقابلے ۲۹؍  لاکھ کم ووٹ ملے تھے۔ 
  ۲۰۱۶ء    کی انتخابی مہم میں ٹرمپ نے امریکی عوام کے دلوں میں سفید فام نسل پرستی، شدت پسند قوم پرستی اور اسلامو فوبیا کے جذبات بھڑکا ئے اور پورے ملک کو پولارائز کردیا۔ انہوں نے ۲۰۱۶ء   میں عوام کو’’ سب سے پہلے امریکہ‘‘ اور ’’ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا ہے‘‘ جیسے دلفریب نعروں سے رجھایا تھا اور اس بار بھی ان گمراہ کن نعروں کے بدولت پچھلی بار کے مقابلے میں گیارہ لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس میں انہو ں نے اپنے ملک کو مکمل طور پر تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ امریکہ کو وہ عظیم کیا خاک بناتے! ہاں اپنی کرتوتوں سے انہوں نے دنیا کی واحد سپر پاور کو ساری دنیا میں مکمل طور پر رسوا ضرور کردیااور خود بھی ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ان پر مقدمہ چلانے کی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں،ان کے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس بند کردیئے گئے ہیں اور ان کی اپنی ریپبلیکن پارٹی کے لیڈر ان کو اچھوت سمجھ رہے ہیں۔ایوان نمائندگان میں ان کے دوبارہ مواخذے کی کارروائی چل رہی ہے اور اگر ان کا مواخذہ ہو گیاتو وہ پہلے امریکی صدر ہوں گے جنہیں دوبار ذلت کا یہ طوق پہننا پڑے گا۔ مواخذے کے مسودے میں جوسنگین الزامات ان پر عائد کئے گئے ہیں وہ تاعمر ان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بنے رہیں گے۔’’صدر ٹرمپ نے امریکہ اور سرکاری اداروں کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیااور اگر وہ اپنے عہدے پر مزیدبرقرار رہے تو قومی سلامتی، جمہوریت اور آئین کیلئے مستقل خطرہ بنے رہیں گے۔ ‘‘ 
پس نوشت:اپنی تمام بدقماشیوں اور غیر ذمہ دارانہ کرتوتوں کے باوجود ٹرمپ کی اس بات کیلئے تعریف کرنی ہوگی کہ انہوں نے دوسرے امریکی صدور کی طرح کسی بیرونی ملک کے خلاف جنگ نہیں کی۔ شمالی کوریا اور ایران تک پر چڑھائی نہیں کی۔ عوامی جائزے جو بائیڈن کی فتح کی پیشن گوئیاں کرتے رہے پھر بھی کلنٹن یا بش کی طرح ٹرمپ نے اپنی انتخابی پوزیشن بہتر کرنے کیلئے کسی مسلم ملک پر بمباری نہیں کی۔ انہوں نے طالبان کیساتھ سمجھوتہ کیا اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو یقینی بنایا۔ حیرت ہے کہ کسی بیرونی ملک پر چڑھائی کرنے سے احتراز کرنے والے ٹرمپ نے جاتے جاتے اپنے ملک پر ہی حملہ کردیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK