یہ پیغام ابھی دور تلک جانا ہے

Updated: May 30, 2023, 9:23 AM IST | Hasan Kamal | Mumbai

کر ناٹک کے عوام کو اس نئی حکومت پر بہت یقین ہے، وجہ یہ ہے کہ اس نئی حکومت کو بنانے میں عوام کی بڑی تعداد نے سیاسی بیداری کا ثبوت دیا ہے۔ اس سال کے اخیر تک مدھیہ پر دیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی چنائو ہونے ہیں۔ کرناٹک کے عوام کی سیاسی بیداری کا پیغام ان ریاستوں میں بھی پہنچناہوگا ۔

Karnataka
کرناٹک

کرناٹک کی نئی حکومت کے لئے چنے جانے والے عوامی نمائندگان کی رسم حلف برداری ،ایک نئی کابینہ کے قیام کا اعلان اور دوسری چند اور چیزوں کے علاوہ جو اور باتیں ہوئیں، وہ ایک طرح سے وہی کچھ تھا جو ایک جمہوری ملک میں انتخابات کے بعد ہوا ہی کرتا ہے۔ لیکن کچھ اور باتیں بھی دیکھنے میں آئیںجو عام طور سے نہیں دیلھی جاتیں۔ہم یہاں ان باتوں کا ذکر نہیں کریں گے کہ جو نئی کابینہ بنائی گئی ہے اس میں ریاست میں رہنے والے ہر فکر، ہر مذہب اور ہر برادری کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو یقیناً ایک دلچسپ بات ہے، حالانکہ یہ بھی ایک ضروری پہلو تھا۔ہمارا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ کابینہ نے اپنی پہلی ہی میٹنگ میں ان پانچ وعدوں کو پورا کرنے کا اعلان بھی کر دیا ، جو منشور میں کیا اور انتخابی مہمات میں بھی بار بار کہی گئی تھیں۔ دو سو یونٹ مفت بجلی کی فراہمی، رسوئی گیس کی قیمتوں میں کمی،تین ہزار کی سبسڈی اور بسوں میں عورتوں کو مفت سفر کرنے کی ترغیب وغیرہ وغیرہ۔ہم اسے اس لئے نئی بات کہتے ہیں کہ اس کے بعد صرف کرناٹک میں نہیں ہر ریاست اور ہر شہر میں یہ خبر عام ہو سکتی ہے، کہ چنائو اب اسی ایجنڈے پر ہوا کریں گے اور ہونے ہی چاہئیںجن کا تعلق عوام کی روز مرہ زندگی کے تقاضوں سے ہو۔ الیکشن اب پندہ لاکھ روپے ہر کھاتے میں آجائیں گے اور ہر سال دو کروڑ روزگارجیسے ایجنڈے پر نہیں ہونے چاہئیں جو الیکشن کے فوراََ بعد محض جملے ہی جملے معلوم ہونے لگتے ہیں۔یہ دونوں نعرے آج نو سال بعد صرف ایک نمائشی ٹھینگے کے سوا کچھ نہیں لگتے۔
 کر ناٹک کے عوام کو اس نئی حکومت پر بہت یقین ہے، وجہ یہ ہے کہ اس نئی حکومت کو بنانے میں عوام کی بڑی تعداد نےسیاسی بیداری کا ثبوت بھی دیا ہے۔ اس سال کے اخیر تک مدھیہ پر دیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی چنائو ہونے ہیں۔ کرناٹک کے عوام کی سیاسی بیداری کا پیغام ان ریاستوں میں بھی پہنچناہوگا ۔کچھ باتیں ایسی بھی ہوئی ہیں جو ہندوستان کی سیاست کے معمول میں تبدیلی چاہنے والوں کو بہت پسند نہیں آئیںگی۔ مثال کے طور پر حکومت کی رسم حلف برداری میں شامل ہونے کے لئے تمل ناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اسٹالن، راجستھان کے چیف منسٹر اشوک گہلوت اور چھتیس گڑھ کے منسٹربھوپیش بگھیل کے علاوہ فاروق عبداللہ ، محبوبہ مفتی اور یقیناً نتیش کمار اور تیجسوی یادو جیسے اہم اپوزیشن لیڈر بھی موجود تھے۔ ایسا لگتا  تھا کہ ہندوستان کی ساری اپوزیشن لیڈر شپ ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئی ہے۔ جو لوگ بی جے پی کے خلاف تمام اپوزیشن کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ مہاراشٹر کے ادھوٹھاکرے کی موجودگی بھی بہت امید افزا تھی لیکن ان میں ممتا بنرجی اور اکھلیش یادو کا نہ ہو نا یقیناًدل گرفتگی کا باعث تھا۔
 سیاست میں تبدیلی چاہنے والوں کو ان لیڈروں کا نہ ہونا بہت گراں لگا ہے ۔جو لوگ یہ دیکھ رہے تھے کہ نتیش کمار جیسے لوگ کس طرح جی توڑ کے اپوزیشن کو متحد کرنا چاہتے تھے، انہیں ان لیڈروں کی عدم دلچسپی بہت کھل رہی تھی ۔ہم نے بھی پچھلے ہفتہ کے مضمون میں ممتا بنر جی اور اکھلیش یادو کے ان بیانات کا ذکر کیا تھا جن میں دونوں نے کہا تھا کہ اس بار انہیں جہاں کہیں بھی لگا کہ کانگریس زیاد ہ مضبوط ہے،وہاں اس کی مدد کی جائے گی۔اس کے باوجود ان کا اس اتحاد سے گریزاں ہونا ٹھیک نہیں تھا۔وہ کیوں نہیں آئے؟ ابھی اس کے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں ہے۔ لیکن ہماراخیال ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ کریں انہیں کسی نہ کسی مقام پر چند باتوں کا اندازہ ضرور ہوگا۔مثال کے طور پر ممتا بنرجی کو ہی لے لیجئے۔ آج نہیں توکل ان کو معلوم ہوگا کہ مغربی بنگال میں جب بھی انتخابی مقابلے ہوں گے تو انہیں چننا ہوگا کہ ان کی سیاست اور ان کے اقتدا کے لئے کانگریس زیاد ہ خطرناک ہے یا بی جے پی۔ جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے یہ سچ ہے کہ اس کے پاس فی الوقت بنگال میں کوئی بہت با اثر لیڈر شپ نہیں ہے۔لیکن کمیونسٹ پارٹی اپنی تمام تر زبوں حالی کے باوجود ریاست میں ایک با اثر لیڈر شپ رکھتی ہے ۔ حالانکہ وہ بھی اپنے ہاتھوںسے سیاسی اقتدار کھو چکی ہے۔لیکن جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے اس کے پاس دھن دولت بھی بہت ہے اور مرکز میں اس کی حکومت بھی ہے ۔کیونکہ وہ بنگال میں ممتا کو چیلنج بھی کرچکی ہے اوراس نے وہاں ممتا کو آٹے دال کا بھاؤ بھی بتادیا۔ وہاں کی سیاست کے پیش نظر ہمارا خیال ہے کہ ممتا کا یہ فیصلہ بی جے پی کے حق میں نہیں ہوگا۔ کچھ ایسا ہی حال اکھلیش یادو کا بھی ہے۔ ان میں ملائم سنگھ کی سیاسی زرگری کا شائبہ تو نہیں ہے لیکن انہیں بھی یہ سوچنا پڑے گا کہ یوپی میں ان کے لئے کانگریس زیادہ خطرناک ہے یا بی جے پی ۔ 
 کرناٹک کے الیکشن نے ایک پیغام یہ بھی دیا ہے اور اسے بھی ہر ریاست اور ہر صوبہ میں جانا ہے۔ یہاں جب دھرم اور مذہب کی باتیں کی گئیں توکانگریسیوں نے گرم ہندوتوا اور نرم ہندوتوا کی بحث نہیں چھیڑی۔ انہوں نے سیدھی سادی بات کی۔انہوں نے کہا کہ یہ عوامی رائے کا انتخاب ہے ،یہ گرم اور نرم ہندوتوا اور حجاب و حلال کی باتیں اپنے گھر رکھئے، اس وقت تو عوام کو یہ بتائیے کہ آپ نے پانچ سال اس صوبے پر راج کیا ہے ۔ یہ بتائیے کہ ان پانچ سال میں عوام کو آپ نےکیا کچھ دیا ہے اورپانچ سال پہلے آپ نے جو وعدے کئے تھے ان میں سے کتنے پورے کئے اور نہیں کئے تو کیوں نہیں کئے۔ یہی وہ سوالات ہیں جو ہر جگہ عوام کوبر سر اقتدار پارٹی سے کرنا چاہئے۔یہی وہ سوال تھے جو بی جے پی اور مودی جی سے عوام نے کیا۔ اس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔یہ سوالات اب کہیں ان پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ یہ سوالات اس سے ہرجگہ پوچھے جائیں گے کیونکہ مدھیہ پر دیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ ہر جگہ بی جے پی کا راج رہ چکا ہے۔یہ ان سوالوں کی شدت ہی تھی کہ مودی جی کو الیکشن کے بعد ہندوستان سے دور جانا پڑا۔یہی وجہ ہے کہ مودی جی نے آج تک نہیں بتایا کہ کرناٹک میںبی جے پی کی ہار کی وجہ کیا تھی۔ چلئے ہم کو نہ بتائیے کم از کم بی جے پی کے ان کارکنوں کو ہی بتا دیجئے جو ہندوستان سے لے کر آسٹریلیا تک آپ کے جلسوں میں آپ کے نام کے نعرے لگاتے ہیں۔ ان بیچاروں کو تو یہ جاننے کا حق بھی ہے۔اور ہاں مودی جی کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ جب آپ باہر تھے تو منی پور میں انسانوں کو شوٹ آئوٹ کے ذریعے مارا جا رہا تھا۔ ان مرنے والوں میں ہندو، عیسائی اورآدیواسی بھی تھے۔ ان سب کے جسموں سے بہتے ہوئے خون کے قطرے آپ کابالکل اسی طرح انتظار کر رہے ہیں، جس طرح ملک کا ہر وہ چوراہا انتظار کر رہا ہے جہاں نوٹ بندی کے پچاس دن کے بعد کہا تھا کہ ہم نے کچھ غلطی کی ہے تو عوام جو بھی فیصلہ کریں گے ہم اسے بھگتیں گے۔ n

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK