• Sun, 07 December, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کردار سازی کیلئے آپؐ کی تین حیثیتوں یعنی معلم، داعی اور مربی کو ملحوظ رکھئے

Updated: December 05, 2025, 3:46 PM IST | Dr. Muhammad Yousuf Farooqi | Mumbai

رسول پاک ؐ کی حیات مبارکہ کا اہم ترین نکتہ تھا کردار سازی۔ معاشرہ کی تعمیر و تشکیل، فرد کی اصلاح و تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لئے آپؐ نے معاشرے کی اصلاح کا کام افراد کی بہتر تربیت کے ذریعے انجام دیا۔

Consider it a blessing to be present at the door of the Great Teacher (PBUH) and gain from here the pearls of morality that he was sent to fulfill. Photo: INN
معلم اعظمؐ کے در پر حاضری کو خوش نصیبی سمجھیں اور یہاں سے اخلاقیات کے وہ موتی حاصل کریں جن کی تکمیل کے لئے آپؐ مبعوث کئے گئے۔ تصویر:آئی این این
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد انسانوں کی ہدایت و رہنمائی تھا۔ چونکہ آپؐ کی رسالت اور آپؐ کا پیام قیامت تک کے لوگوں کے لئے ہے اس لئے آپؐ نے تعلیم و تربیت کے لئے ایسا طریق کار اختیار فرمایا جو تعمیر شخصیت اور کردار سازی کے لئے ہر دور میں ضروری ہے۔
معاشرے کی تعمیر و تشکیل، فرد کی اصلاح و تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لئے آپؐ نے معاشرے کی اصلاح کا کام افراد کی بہتر تربیت کے ذریعے انجام دیا۔ آپؐ کے نظم تربیت اور کردار سازی کے اسلوب کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپؐ کی تین حیثیتوں : معلم، داعی اور مربی، کو ملحوظ رکھا جائے۔ آپؐ کو ان تینوں حیثیتوں میں کمال حاصل تھا۔
معلم اعظم ﷺ کے منہج تربیت کا غور سے مطالعہ کریں تو تین عناصر بہت نمایاں نظر آتے ہیں، ایمان باللہ، اخلاق حسنہ اور عمل صالح کی تلقین۔ ان میں سرفہرست ذہنی اور فکری اصلاح کا عنصر ہے۔ آپؐ نے فکر اور قلب و دماغ کی اصلاح کا کام عقیدے کی تعلیم و تربیت سے فرمایا ۔ اس لئے کہ افکار و تصورات، انسانی رویوں اور اخلاقی اقدار کا دارومدار عقائد کی صحیح تعلیم و تربیت پر موقوف ہے۔
 ایمان باللہ: نبی کریم ؐ نے اپنی دعوت، تعلیم اور تربیت تینوں کا آغاز توحید کی تعلیم سے فرمایا : ’’اے لوگو! کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور خدا نہیں ہے، اسی میں تمہاری کامیابی ہے۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل، ج۵)
مکتب رسالتؐ کا پہلا درس، پہلی دعوت اور تربیت کا پہلا قدم توحید کا سبق تھا جسے آپؐ نے لوگوں کے دل و دماغ میں راسخ فرمایا۔ انسانی فکر کو شرک، بت پرستی اور توہم پرستی  سے آزاد کراکے صرف ذات ِ وحدہٗ لاشریک سے وابستہ کیا۔ عبد و معبود کے درمیان ایک لازوال رشتہ قائم فرمایا کہ بندہ اپنے خالق حقیقی کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائے، نہ ذات میں نہ ان صفات میں جو اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اور نہ ہی اس ذات کے لئے مخصوص حقوق میں۔ ان تینوں میں سے کسی ایک میں بھی شرک، ظلم عظیم ہے : ’’یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ (لقمان:۱۳) قرآن کریم نے شرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے : ’’بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر  جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔‘‘ (النساء:۴۸)
توحید ، رسالت اور آخرت، یہ وہ تین بنیادی عقائد ہیں جنہیں تسلیم کرلینے سے انسان کی زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ اپنی ذات اور کائنات کے بارے میں اس کا نقطہ ٔ نگاہ یکسر تبدیل ہوجاتا ہے۔ انہیں عقائد کی تعلیم سے عبدیت کا شعور اجاگر ہوتا ہے۔ منصب خلافت و امامت کا آغاز بھی ایمان کے انہی تقاضوں کو پورا کرنے پر ہوتا ہے۔
قرآن حکیم میں زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق کثرت سے احکام و اصول بیان ہوئے ہیں۔ بیان احکام کے اسلوب پر غور کریں تو صاف پتا چلتا ہے کہ جملہ احکام پر عمل کی اصل قوت کا سرچشمہ ایمان ہے۔ اسی لئے قرآن کریم جب عبادات و معاملات سے متعلق احکام کو بیان کرتا ہےتو بار بار عقیدہ اور ایمان کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ البقرہ میں تحویل قبلہ کے حکم کے ساتھ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ علیم بذات الصدور ہے ۔ وہ سینوں میں چھپے ہوئے رازوں کو بھی جانتا ہے، یا اللہ تعالیٰ  کی صفت قدرت کا اظہار، کہ اسے ہر چیز پر ہر وقت قدرت حاصل ہے۔ (البقرہ:۱۴۸)  جہاد کا ذکر آیا تو غزوۂ بدرپر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل ایمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسا کرنا چاہئے۔ (آل عمران: ۱۲۲) سورہ النساء میں معاشرتی زندگی کے متعلق احکام کا بیان ہے۔ ایک جگہ خواتین، ازواج، یتیموں اور وصیت وغیرہ کے احکام بیان کرکے عقیدے کی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ : ’’اوراللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور اللہ کا کارساز ہونا کافی ہے، اے لوگو! اگر وہ چاہے تو تمہیں نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) دوسروں کو لے آئے، اور اللہ اس پر بڑی قدرت والا ہے، جو کوئی دنیا کا انعام چاہتا ہے تو اللہ کے پاس دنیا و آخرت (دونوں) کاانعام ہے، اور اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ (النساء:۱۳۲؍ تا۱۳۴) قرآن کریم کا ہر جگہ یہی انداز ہے کہ احکام کے بیان کے ساتھ عقیدے کا حوالہ ضرور دیا گیا ہے۔ گویا احکام پر عمل درآمد کے لئے عقیدہ بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔
عقائد پر ایمان کا حقیقی مرکز قلب ہے۔ اسی لئے قلب کے تزکیے اور تربیت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں کہ ’’انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ تندرست اور صحیح ہے تو سارا جسم تندرست رہتا ہے ، اور جب وہ بگڑ جائے تو جسم کا سارا نظام بگڑ جاتا ہے۔ غور سے سن لو کہ گوشت کا وہ ٹکڑا قلب ہے۔‘‘ (بخاری، الجامع الصحیح) قلب کی اس مرکزی حیثیت ہی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے تربیت و اصلاح کی طرف خاص توجہ فرمائی ۔ اسی لئے قرآن حکیم نےتزکیہ  ٔ نفس کو منصب نبوت کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ قرار دیا ہے۔
لفظ ’’تزکیہ‘‘ میں دو مفہوم پائے جاتے ہیں۔ ایک ، پاک و صاف کرنا اور دوسرے، نشوونما دینا۔ تزکیہ قلب کے پہلے مرحلے میں قلب و دماغ کو ہر قسم کے بُرے عناصر سے پاک و صاف کرنا ضروری ہے۔ مثلاً غلط تصورات، توہم پرستی ، حسد، کینہ، بغض، تکبر، شر و فتنہ اور کفر کی تمام آلودگیوں سے پاک و صاف کرنا وغیرہ۔ قرآن حکیم میں اس کیلئے ’’تطہیر‘‘ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے، مثلاً ایک جگہ فرمایا گیا : ’’آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں۔‘‘  (التوبہ:   ۱۰۳)
دوسرے مرحلے میں ایمان و یقین، عزم و استقامت ، اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اخلاص و محبت پیدا کرنا ہے۔ انہی اوصاف سے قلب کی نشوونما شروع ہوتی ہے۔ ان اوصاف کی تکمیل کے ساتھ مرد مومن تیسرے مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے جو ’’مقام احسان‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ وہ بلند تر مقام ہے جہاں سے عبدیت و انسانیت میں درجہ کمال کا آغاز ہوتا ہے۔
تزکیہ نفس سے قلب انسانی میں طاقتور ضمیر اور معاصی و منکرات کے خلاف بھرپور قوت مدافعت  پیدا ہوتی ہے۔ اسی سے نیتوں کی اصلاح ہوتی ہے اور قلب مومن نور الٰہی سے منور ہوجاتا ہے۔
معصیت اور انکار کے ارتکاب سے قلب پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے ’’مومن جب کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے سبب اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑ جاتا ہے ۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے اور اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتا ہے تو قلب سے وہ داغ مٹ جاتا ہے اور دل صاف شفاف ہوجاتا ہے ۔ لیکن اگر گناہوں میں اضافہ ہوتا رہے تو نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ گناہوں کی سیاہی سارے قلب پر پھیل جاتی ہے۔‘‘ اسی کو قرآن کریم ’’زین‘‘ کہتا ہے ۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے : ’’ ہرگز نہیں بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر ان اَعمالِ (بد) کا زنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کمایا کرتے تھے ۔‘‘ (سورہ المطففین:۱۴)
مذکورہ حدیث مبارکہ اور آیت  میں جرائم کی تاثیر بتائی گئی ہے کہ اگر انسان مسلسل برائی کا ارتکاب کرتا رہے تو اس کی بدبختی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ جرم و معصیت کا احساس کم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوجاتا ہے، دل مسخ ہوجاتا ہے اور زنگ آلود ہوکر اس درجے کو پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہوجاتی ہے۔ اسی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے  اس طرح تعبیر کیا ہے: ’’ان کے دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے۔‘‘(سورہ البقرہ:۷)
  رسولؐ اللہ کا اسلوب تربیت ایسا تھا کہ عقیدہ و ایمان کی تعلیم کے ذریعے قلوب سے سیاہ داغ اور زنگ کے آثار کھرچ کھرچ کر صاف کردیئے جائیں اور ایمان کی حرارت پیدا کرکے قلوب کو ایسی زندگی عطا کی جائے جو انسان کو مسلسل ملکیت اور روحانیت کی طرف گامزن رکھے۔ عقیدہ  سے پیدا ہونے والی یہی قوت انسان کو عمل صالح پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کے اندر نفس امارہ مرجھا کر نفس لوامہ کی صورت میں نئی زندگی پاتا ہے اور پھر ایمان و عمل صالح کے ذریعے نفس مطمئنہ کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب قلب انسانی کی چشمہ ٔ ایمان سے آبیاری ہوتی ہے تو قلبی ایمان سراسر عمل کے قالب میں ڈھل جاتا ہے ۔ اس طرح ایمان اور عمل میں مکمل طور پر ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ 
اخلاق حسنہ: کردار سازی میں دوسرا بنیادی عنصر فضائل اخلاق ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اخلاق حسنہ ایمان ہی کا حصہ ہیں جنہیں ایمان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ آپؐ  سے بہت سی ایسی روایات موجود ہیں جو حسن خلق کو ایمان کا جز قرار دیتی ہیں۔ ایمان کے لازمی اثرات انسان کی ظاہری زندگی پر بھی ہوتے ہیں اور باطنی زندگی پر بھی۔ باطنی زندگی پر ایمان کے اثرات تزکیۂ قلب کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور ظاہری زندگی پر مکارم اخلاق کی صورت میں۔ آپؐ کے فرائض میں تربیت اخلاق بھی ایک فریضہ تھا۔ آپؐ کا ارشاد ہے ’’میں تو بھیجا ہی اسلئے گیا ہوں تاکہ مکارم اخلاق کی تکمیل کردوں۔‘‘  ایمان و اخلاق کا باہمی تعلق ان احادیث سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے: ’’جس شخص میں امانتداری نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں ، اور جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘ (مسند امام احمد بن حنبل) اسی طرح فرمایا ’’وہ شخص تو مومن نہیں جو خود تو شکم سیر ہوکر کھائے اور اس کا قریبی بھوکا رہے۔‘‘ (مشکوٰۃ)
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐ  نے تین بار ارشاد فرمایا: ’’ا للہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہو سکتا‘‘،صحابہؓ نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! وہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس کی برائیوں سے اس کا   پڑوسی محفوظ نہ رہے۔‘‘ (بخاری)
اس قسم کی بہت سی احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ایمان اور اخلاق حسنہ لازم و ملزوم ہیں۔ 
 
 رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓکو اخلاقیات کی تعلیم و تربیت کے ساتھ اخلاقی اصول و ضوابط کا ایک جامع نظام بھی عطا فرمایا۔ یہاں ان چند اخلاقی اصولوں کو بیان کیا جا رہا ہے جن پر اخلاقی نظام کا مدار ہے۔ کچھ اخلاقی اصول ایسے ہیں کہ جب ان پر عمل کیا جائے تو دیگر اخلاقی فضائل خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان میں پانچ اخلاقی اصول وہ ہیں جو عبادات خمسہ قلبیہ  کہلاتے ہیں۔
(۱) اخلاص: اخلاص ان اصولوں میں سرفہرست ہے جو انسانی فکر و نظر کی اصلاح کرتے ہیں۔ اخلاص نیت کو درست کر کے قلب و دماغ میں پاکیزہ، مثبت اور تعمیری خیالات و تصورات کو پروان چڑھاتا ہے۔ یہ ایسی صفت ہے جس کے ذریعے ایک طرف تعلق مع اللہ صحیح بنیاد پر قائم ہوتا ہے تو دوسری طرف انسانوں کا باہمی تعلق بھی ہر قسم کی آلودگی ، غرض اور نمود و ریا سے پاک و صاف ہوتا ہے۔
(۲) تقویٰ: عبادات خمسہ قلبیہ میں دوسرا اصول تقویٰ ہے۔ تقویٰ ایک باطنی کیفیت کا نام ہے جو قلب ِمومن میں اللہ تعالیٰ کی شدید محبت اور دل و دماغ میں اس کی عظمت و کبریائی کے شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ تقویٰ خوف کی اس کیفیت کا نام بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ غلبہ ٔ شوق و محبت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، اور جس کے سبب قلب مومن میں یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے کوئی ایسا عمل صادر نہ ہو جائے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن جائے۔ قرآن حکیم تقویٰ کی صفت کو زندگی کا بہترین زاد راہ قرار دیتا ہے: ’’بیشک سب سے بہترزادِ راہ تقویٰ ہے۔‘‘  (البقرہ:۱۹۷)
(۳) شکر:  تیسرا اصول شکر ہے۔ یہ بھی عبادات خمسہ قلبیہ میں سے ایک اہم عبادت ہے۔ شکر کا مفہوم یہ ہے کہ بندۂ مومن کو دل کی گہرائی سے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا احساس ہو جو اسے قدم قدم پر حاصل ہیں۔  اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتیں بہت کثرت کے ساتھ ہر فرد کو حاصل ہیں، اور اس طرح حاصل ہیں کہ ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو  (تو) پورا شمار نہ کر سکو گے۔‘‘ (ابراہیم:۳۴)۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی صحیح عظمت اور حصولِ نعمت کے شعور سے جو امتنان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے وہی شکر کہلاتی ہے۔ یہ  شکر ہی کا احساس ہے کہ اہل ایمان بے اختیار اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ر یز ہوتے ہیں اور اپنے اس عمل میں فرحت و مسرت کی خاص کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ نبی کریم  ؐ  نے صحابہ کرامؓ میں جذبۂ شکر کو خوب اچھی طرح اجاگر فرمایا تھا اور ان کی تربیت اس طرح فرمائی کہ وہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندے بن گئے تھے اور دوسری طرف انسانوں کے ساتھ بھی ان کا رویہ متشکرانہ تھا۔ اسے آپؐ کی اس تعلیم میں دیکھئے کہ آپؐ  نے فرمایا ’’جو انسانوں کا شکرگزار نہیں، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوسکتا۔‘‘  (مسند امام احمد بن حنبل)
(۴) صبر: چوتھا اصول صبر ہے۔ یہ صفت بہت سے کریمانہ اخلاق کی اساس ہے۔ صبر وہ باطنی قوت ہے جو انسان میں تحمل و بردباری، ضبط نفس اور ثابت قدمی پیدا کرتی ہے۔ امام غزالیؒ نے صبر کے مفہوم پر بہت لطیف بحث کی ہے۔ ان کے نزدیک صبر کبھی نفسانی خواہشات کے خلاف ڈٹ جانے اور ان کا مقابلہ کرنے کا نام ہے اور کبھی مصائب کے مقابلے میں قوت برداشت کا نام ہے۔ کبھی دولت مندی اور خوش حالی کی صورت میں اس کا اظہار بردباری، تحمل اور ضبط نفس کی صورت میں ہوتا ہے۔
(۵) توکل: پانچواں اصول توکل ہے۔ قلبی عبادات میں اس صفت کا بہت بنیادی کردار ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ توکل پر عمل کرنا آسان نہیں ،یہ اللہ تعالی کے بہت مقرب بندوں کی صفت ہے۔ یہ صفت اس لئے مشکل ہے کہ اس کائنات کے امور میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے عمل دخل کو مانیں تو یہ توحید کے خلاف ہے، اور اگر تمام اسباب کو ختم کر دیں تو یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ لہٰذا ظاہری اسباب پر یا کسی ایک سبب پر بھی تو کل نہ کر بیٹھے بلکہ ان تمام اسباب کے پیچھے جو مسبب الاسباب ہستی ہے صرف اس پر نظر رہنی چاہئے اور اسی ہستی پر توکل کرنا چاہئے۔ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اعلیٰ مقاصد کے لئے بھرپور جد و جہد کریں اور پھر اس کے نتائج اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں: ’’جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ (اللہ) اسے کافی ہے۔‘‘ (الطلاق:۳)
دیگر چار اخلاقی اصول وہ ہیں جو انسان کے ظاہر کی اصلاح کر کے تمام معاملات میں حسن و نکھار پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایسی صفات ہیں جو باطن کی بھی اصلاح کرتی ہیں اور ظاہر کی بھی۔
صدق: صدق کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی فکر اور ارادے اور قول و فعل میں سچا ہو۔ اس کے عقیدے اور عمل میں کوئی تضاد نہ ہو۔  امام غزالیؒ نے صدق کی چھ قسمیں بیان کی ہیں: (۱) نیت و ارادے میں صداقت  (۲) قول میں صداقت  (۳) عزم میں صداقت  (۴)عزم کو پورا کرنے میں صداقت (۵) عمل میں صداقت اور (۶) دین داری کے مقامات میں صداقت۔
امانت : یہ اخلاقی صفت انسانوں کے درمیان باہمی معاملات میں بہت اہم اور بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ باہمی لین دین، عہد و پیمان  اور فرائض و ذمہ داری میں مکمل طور پر دیانت داری اور امانت داری کا ثبوت دیں۔ امانت کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ اس میں وہ تمام عہد و پیمان شامل ہیں جو بندہ اپنے رب سے کرتا ہے۔ اسی طرح وہ عہد و پیمان اور معاہدات بھی شامل ہیں جو انسانوں میں باہمی رضامندی سے طے پاتے ہیں۔ اس لحاظ سے دین و شریعت بھی امانت ہے اور بقول امام ابن تیمیہؒ ، تمام انتظامی سیاسی اور معاشرتی عہدے اور ملازمتیں بھی امانت میں داخل ہیں۔ لہٰذا وہ تمام فرائض و ذمہ داریاں جو عہدوں کو قبول کرنے سے عائد ہوتی ہیں ` سب امانت ہیں۔ امانت ہی وہ اخلاقی قدر ہے جو اہل ایمان میں وہ شعور اور احساس پیدا کرتی ہے جس کی بنا پر انسان اپنے تمام فرائض اور ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی حیات ِ مبارکہ میں صدق و امانت کا مظاہرہ حقوق اللہ میں بھی نظر آتا ہے اور حقوق العباد میں بھی۔ مکہ مکرمہ میں قبل از نبوت جب آپؐ نے تجارت میں حصہ لینا شروع کیا تو اہل مکہ نے ان دو نمایاں صفات کی بنا پر آپؐ کو ’’ الصادق‘‘ اور ’’الامین‘‘ کے القاب سے نوازا۔ آپؐ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آپؐ کی تعلیم بھی تھی کہ اجتماعی زندگی میں صدق و امانت کا غلبہ ہو۔
ایثار: یہ بھی صدق و امانت کی طرح جامع الصفات ہے۔ ہمدردی اور سخاوت مل کر جب اعلیٰ درجے کو پہنچ جائیں تو ایثار کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ یہ قربانی کا وہ جذبہ ہے جو انسان دوسروں کی خاطر پیش کرتا ہے اور اس میں فرحت و خوشی محسوس کرتا ہے۔ قرآن کریم نے انصار کی تعریف کرتے ہوئے ان کی صفت ِایثار کو اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’اور یہ اپنے سینوں میں اُس (مال) کی نسبت کوئی طلب نہیں پاتے جو اُن (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے اور اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو۔‘‘  
(سورہ الحشر:۹)
تواضع : یہ وہ صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کی معرفت اور اپنی معرفت یا معرفت ِنفس سے پیدا ہوتی ہے۔ اس سے ایک طرف اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اس کی عظیم الشان قدرت و جلال کا علم ہوتا ہے تو دوسری طرف اپنی کمزوریوں کوتاہیوں خامیوں اور نقائص کا۔ اس کے نتیجے میں انسان انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے ساتھ ہی اللہ تعالی کی مخلوق کے ساتھ رواداری، نیکی،  رحم دلی اور نیاز مندی کے ساتھ پیش آتا ہے۔
تواضع کی صفت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تکبر و غرور کے تمام مظاہر سے اپنے آپ کو پاک صاف کر لیا جائے۔ تکبر نام ہے حق کو ٹھکرانے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا جب کہ تواضع نام ہے حق کو قبول کرنے اور لوگوں کے ساتھ انکساری اور رحم دلی کے ساتھ پیش آنے کا۔  اسی چیز کا حکم قرآن حکیم میں دیا گیا ہے: ’’اور اہلِ ایمان (کی دل جوئی) کے لئے اپنے  بازو جھکائے رکھئے۔‘‘ (الحجر:۸۸)  تواضع اللہ تعالیٰ کے مقرب اور خاص بندوں کی صفت ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ ؓکو نصیحت کرتے ہوئے رسولؐ اللہ  نے فرمایا: ’’اے عائشہؓ ! تواضع اختیار کرو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تواضع کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ ( کنز العمال ج ۳ )
رسولؐ اللہ کی حیات ِ طیبہ ان اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ تھی۔ یہی اوصاف آپؐ نے صحابہ ؓ کرام میں پیدا فرمائے اور یہی وہ اخلاقی اقدار ہیں جن کے بغیر ایک مہذب اور صالح معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔
عمل صالح 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نظم کردار سازی میں تیسرا بنیادی عنصر عمل صالح ہے۔ آپؐ نے خود اپنی زندگی کو وحی ٔ الٰہی کے مطابق سراپا عمل میں ڈھال کر لوگوں کے لئے بہترین نمونہ پیش فرمایا اور ساتھ ہی صحابہ کرامؓ کی انفرادی اور اجتماعی طور پر تربیت فرما کر انہیں عمل صالح کی شاہراہ پر گامزن فرمایا۔
شریعت نے عمل صالح کے معاملے میں انسان کو تاریکی میں نہیں چھوڑا کہ وہ خود اپنی عقل و حواس سے فیصلہ کرے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ عمل صالح کیا ہے تاکہ اسے اختیار کرے اور عمل فاسد کیا ہے کہ اس سے اجتناب کرے۔ قرآن وسنت میں خیر و شر، صلاح و فساد ، سعادت و شقاوت اور معروف و منکر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کے اصول و قواعد کا تعین بھی کیا گیا ہے اور ہر شعبۂ زندگی میں نہ صرف عمل صالح کی وضاحت کر دی گئی ہے بلکہ اس کی عملی تحلیل کی جھلک بھی اسوۂ رسول ﷺ میں دکھا دی ہے۔
قرآن کریم میں بہت کثرت کے ساتھ عمل صالح کا ذکر کیا گیا ہے اور صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہی عمل قبول ہو گا جو صالح ہو گا۔ قرآن کریم کے اسلوب ِ بیان کا غور سے مطالعہ کریں تو یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ قبول ایمان کے بعد عمل صالح ہی مطلوب ہے۔   فرد اور معاشرہ دونوں کے لئے عمل صالح ناگزیر اور لازمی  ہے۔ اچھے اعمال کے بغیر اچھے معاشرہ  کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ اعمال صالحہ کے لئے صالح تعلیم و تربیت بھی ضروری ہے جب کہ تعلیم و تربیت کا ہر فرد محتاج ہے۔ اگر لوگوں میں خیر کا جذبہ بیدار نہ کیا جائے اور شر و فساد کی برائی دل و ومانی میں نہ بٹھائی جائے اور تعلیم و تربیت کے وہ طریقے نہ اپنائے جائیں جو اصلاح و تربیت کیلئے ضروری ہیں تو برائی اور فساد کے پھیلنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔  رسولؐ اللہ نے اپنے تربیتی نظام میں لوگوں کی نفسیات اور ان کی صلاحیت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا۔  تربیت کے سلسلے میں آپؐ کی ہدایات میں سے ایک بنیادی ہدایت دُعا کی تلقین ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK