Inquilab Logo Happiest Places to Work

سراسر نا انصافی

Updated: June 28, 2026, 12:34 PM IST | Mumbai

اس موقع پر یہ کہنا کہ ’’بس، بہت ہوچکا‘‘ کافی نہیں، کہنا یہ چاہئے کہ پانی سر سے اوپر ہوگیا ہے۔ پیپر لیک کو فی الفور رُکنا چاہئے کہ یہ سراسر نا انصافی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

پرچہ لیک کیسے ہوتا ہے؟ کیوں ہوتا ہے؟ کیا امتحانی نظام اُن اداروں کے بس کا نہیں رہ گیا ہے جو اس کے ذمہ دار ہیں ؟ لیک کرنے والوں کے ہاتھوں تک پرچہ پہنچتا ہی کیسے ہے؟ کیا اسے صیغۂ راز میں رکھنے کا کوئی طریقہ اب تک بنایا نہیں گیا؟ کیا پیسہ کمانے کے مقصد سے پورے امتحانی نظام کو یرغمال بنانے والوں پر امتحانی اداروں کا کوئی کنٹرول نہیں ہے؟ کیا ہزاروں طلبہ کی ذہنی اذیت کوئی معنی نہیں رکھتی؟ پرچہ لیک اور امتحان کا ملتوی کیا جانا پورے ملک میں موضوع بحث ہے، جنتر منتر پر گزشتہ کئی دنوں سے ’’سی جے پی‘‘ کا دھرنا جاری ہے، یوتھ کانگریس کے کارکنان مختلف شہروں میں پُرزور مظاہرے کرچکے ہیں، درجنوں پریس کانفرنسیں منعقد کی جاچکی ہیں، سوشل میڈیا پر طلبہ، والدین اور دیگر کے تبصروں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں میں ہے، چہار جانب خلفشار ہے، انتشار ہے اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پرچہ لیک کے خلاف بڑا جلسہ کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں، اب تک ایک درجن سے زیادہ طلبہ خود کشی کرچکے ہیں اس کے باوجود کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ 
۲۱؍ جون کو نیٹ کا امتحان منعقد کرکے متعلقہ ادارے نے بغلیں بجائیں، وزیر تعلیم نے اپوزیشن کو خوف و ہراس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اس طرح یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ سب ٹھیک ہے اور جو ٹھیک نہیں تھا اسے ٹھیک کرلیا گیا ہے۔ نیٹ کی ذمہ داری این ٹی اے کی ہوتی ہے اور ٹی ای ٹی کے امتحان، جو آج منعقد کیا جانا تھا، کی ذمہ داری مہاراشٹر اسٹیٹ کونسل آف اگزامنیشن (ایم ایس سی ای) کی ہے مگر دیکھا جائے تو ملک کا پورا تعلیمی نظام جس وزارت کی نگرانی اور ماتحتی میں جاری رہتا ہے وہ وزارتِ تعلیم ہے جس کے سربراہ دھرمیندر پردھان ہیں۔ طلبہ، والدین، یونینیں، سماجی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں انہی کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اب اُن پر استعفے کا اخلاقی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ وہ یہ کہہ کر پلہ نہیں جھاڑ سکتے کہ پرچہ مہاراشٹر ٹی ای ٹی کے امتحان کا لیک ہوا ہے اور یہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 
اگر این ای ٹی پرچہ لیک کی زد پر کم و بیش ۲۳؍ لاکھ اُمیدوار آئے تھے تو مہاراشٹر ٹی ای ٹی کی زد پر کم و بیش چھ لاکھ اُمیدوار آئے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ اُمیدوار طلبہ نہیں ہیں۔ یہ اساتذہ ہیں یا ہونے والے اساتذہ ہیں۔ کیا ان کے ساتھ ایسا کھلواڑ اس لئے ہوا کہ اُن کا حوصلہ ٹوٹ جائے اور وہ دوبارہ امتحان دینے کی ہمت نہ کرسکیں یا ان کی تیاری بے اثر ہوجائے؟ 
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مستقبل قریب میں اسکولوں میں خاطر خواہ اساتذہ نہیں ہونگے جس کا براہ راست اثر اسکولی تعلیم پر ہوگا۔ اس لئے حکومت کی تفتیش کو محض چند افراد کی تلاش اور گرفتاری تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا کچھ لوگ پیسے کے لالچ میں آلۂ کار بنے اور اُن کے پشت پناہ اساتذہ کی ملازمتوں، اسکولوں کی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل کو ہدف بنا رہے ہیں تاکہ طلبہ تعلیم نہ حاصل کریں اور ڈگریاں لے کر بہتر روزگار کا مطالبہ نہ کرنے لگیں ؟
اس موقع پر یہ کہنا کہ ’’بس، بہت ہوچکا‘‘ کافی نہیں، کہنا یہ چاہئے کہ پانی سر سے اوپر ہوگیا ہے۔ پیپر لیک کو فی الفور رُکنا چاہئے کہ یہ سراسر نا انصافی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK