Inquilab Logo Happiest Places to Work

کون روکے گا ایسی وارداتیں؟

Updated: June 27, 2026, 4:38 PM IST | Mumbai

پونے کے کیتن اگروال قتل معاملے پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کا یہ بیان کہ ’’نوجوانوں میں اتنی سفاکی کہاں سے آرہی ہے؟‘‘ محض بیان نہیں چبھتا ہوا سوال ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پونے کے کیتن اگروال قتل معاملے پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کا یہ بیان کہ ’’نوجوانوں میں اتنی سفاکی کہاں سے آرہی ہے؟‘‘ محض بیان نہیں چبھتا ہوا سوال ہے۔ سماج کے بے شمار لوگوں میں یہ تشویش ہے مگر تشویش سے ازالۂ تشویش کی راہ نہ نکلے تو کس کام کی تشویش؟ ہمارے لئے اس کا دوسرا پہلو بھی اُتنا ہی اہم ہے۔ وہ یہ کہ بار بار کی وارداتیں معمول کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔ آدمی ایسی کوئی خبر سنتا ہے تو حیران ہوتا ہے، افسوس کرتا ہے اور خاموش ہوکر اپنی توجہ کسی اور جانب مرکوز کرلیتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سماج میں ایک طرح کی بے حسی پیدا ہورہی ہے یا ہوچکی ہے۔ یاد کیجئے ایسے کتنے واقعات ہوچکے ہیں۔ انتقام لینے یا سبق سکھانے یا غصہ کی وجہ سے چھرا گھونپ دینا، گولی چلا دینا یا جیسا کہ کیتن اگروال کے ساتھ ہوا کہ پہاڑی سے دھکیل دینا، کوئی نئی بات نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گمشدہ میراث کی تلاش

پونے کی واردات کے بعد رونما ہوئی ممبئی ٹرین کی واردات جس میں ٹرین کا دروازہ بند کرنے کے معاملے پر دو مسافروں میں نوک جھونک ہوئی اور ایک نے دوسرے کے پیٹ میں چاقوسے کئی بار حملہ کیا یہاں تک کہ اس کی جان چلی گئی۔ اس سے قبل جنوری میں ایک آرٹ ٹیچر کو ملاڈ ریلوے اسٹیشن پر قتل کردیا گیا تھا۔ معاشقہ کی وجہ سے کسی کی جان لینا یا زمین جائیداد کے تنازع میں گولی چلا دینا تو عام ہے ہی، ٹیچر اور اسٹوڈنٹ کا رشتہ بھی بُری طرح سے پامال ہوا ہے۔ اگست ۲۳ء میں کاشی میرا پولیس اسٹیشن کی حدود کے پینکر پاڑا علاقے میں ایک ۱۷؍ سالہ طالب علم نے کوچنگ کلاس کے اپنے ٹیچر پر وار کیا تھا۔ ایک اور واردات یاد آتی ہے جس کا تعلق مہاراشٹر سے نہیں ہے مگر ٹیچر اور اسٹوڈنٹ کے رشتوں میں تلخی اور طالب علموں کے بے قابو ہونے کی حقیقت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ فروری ۱۲ء میں چنئی میں ایک ۱۵؍ سالہ طالب علم نے کلاس روم میں اپنی ٹیچر پر چاقو کے پے در پے وار کئے تھے۔ وہ ٹیچر اوما مہیشوری جانبر نہیں ہوسکی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: برسات اور مشکلات

سوال یہ نہیں کہ سماج کہاں جارہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ سماج جہاں پہنچ چکا ہے وہاں سے اسے کیسے واپس لایا جائے؟پولیس اسے لاء اینڈ آرڈر کے زاویئے سے دیکھتی ہے، ایف آئی آر درج کرتی ہے، تفتیش کرتی ہے، ملزم کو گرفتار کرتی ہے، اُس سے پوچھ تاچھ کرتی ہے اور اُسے عدالت میں پیش کرتی ہے جو اُسے پولیس کی تحویل میں دے دیتی ہے یا عدالتی تحویل میں۔ اس کے بعد کیس چلتا رہتا ہے۔ کوئی دوسرا واقعہ ہو تو وہ بھی انہی مراحل سے گزرتا ہے اور عدالت میں جاکر ٹھہر جاتا ہے جو سزا سناتی ہے یا ناکافی شواہد کی بنیاد پر ملزم یا ملزمین کو بری کردیتی ہے۔ اس پورے عمل میں غوروخوض کہاں ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے اور اسے روکنے کیلئے سماج میں کس طرح کی بیداری لانے کی ضرورت ہے۔جہاں تک سماج کا تعلق ہے وہ مصروف رہتا ہے، اس کے پاس کرنے کے ہزار کام ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی اپنی ترجیحات ہیں۔ سماجیات کے ماہروں اور دانشوروں میں یہ موضوع زیر بحث آتا ہے مگر آکر رہ جاتا ہے کیونکہ اول تو ان کے پاس وسائل نہیں ہیں دوئم یہ کہ بگاڑ کی رفتار سونامی جیسی تیز ہے۔ اس لئے یہ سوال بہرحال قائم رہتا ہے کہ کون روکے گا ایسی وارداتیں؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK