ٹرمپ کا انتخابی کھیل

Updated: June 25, 2020, 11:57 AM IST | Editorial

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ۲۰۱۶ء کا صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد ہی سے ۲۰۲۰ء کے الیکشن کی تیاری میں مصروف ہوگئے تھے۔ اُن کے فیصلوں اور اقدامات کی فہرست سامنے رکھی جائے تو اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔

Donald Trump - Pic : INN
ڈونالڈ ٹرمپ ۔ تصویر : آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ۲۰۱۶ء کا صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد ہی سے ۲۰۲۰ء کے الیکشن کی تیاری میں مصروف ہوگئے تھے۔ اُن کے فیصلوں اور اقدامات کی فہرست سامنے رکھی جائے تو اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اس فہرست میں امریکہ کی خود غرضانہ پالیسیوں کو امتیاز حاصل ہے جس کا ایک حصہ امیگریشن سے متعلق فیصلے ہیں۔ اِس خود غرضی پر عصبیت کا رنگ چڑھا تو وہ دو دھاری تلوار ہوگئی چنانچہ جب اُنہیں بیرونی ملکوں کے لوگوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی سوجھی تو متعدد مسلم ملکوں کا انتخاب کیا گیا اور وہاں سے آنے والوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی۔ امیگریشن ہی سے متعلق فیصلوں میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بنانا بھی شامل تھا جو متعصبانہ تو تھا ہی جارحانہ بھی تھا۔ٹرمپ کو تارکین وطن اتنے ہی بُرے لگتے ہیں جتنے سیاہ فام۔ اپنے ملک کے اِن شہریوں سے اُنہیں کوئی ہمدردی نہیں، اسی لئے جب جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف احتجاج نے زور پکڑا تو اُنہوں نے ریاستی گورنروں کو ڈانٹ پلائی اور زیادہ طاقت کے استعمال پر اُکسایا۔ 
 یہ سب جاری تھا کہ اب ایک نئے فرمان کا اجراء ہوا ہے جس کے تحت ’’ایچ وَن بی ویزا ‘‘پر عائد پابندی میں توسیع کردی گئی ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جبکہ کورونا کی عالمی وباء کی وجہ سے مختلف ملکوں کو ایک دوسرے کے تعاون کی شدید ضرورت ہے۔ ’’ایچ وَن بی ویزا ‘‘کے ذریعہ جو غیر ملکی پروفیشنل امریکہ میں روزگار پاتے ہیں وہ امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے بعد ہی اپنا فائدہ کرتے ہیں۔ اُنہیں امریکیوں سے ملازمتیں چھیننے والا نہیں سمجھا جاسکتا مگر چونکہ انتخابی سبقت حاصل کرنے کیلئے ٹرمپ کو ایسے حربوں کی ’’ضرورت‘‘ ہے اس لئے وہ اپنے ہی ملک کی کمپنیوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں چنانچہ جو پالیسی اپنائی ہے وہ دیگر ملکوں کے مفادات پر بعد میں ضرب لگاتی ہے پہلے امریکی مفادات کو مجروح کرتی ہے۔
 اس سلسلے میں اب تک جن کمپنیوں اور اداروں نے ٹرمپیائی فیصلے کی مذمت کی ہے اُن میں امریکی چیمبر آف کامرس، گوگل اور ٹیسلاجیسے بارسوخ ادارے شامل ہیں۔ ٹیسلا کے ایلن مسک نے تو یہ تک کہا کہ اعلیٰ ہنرمند لوگوں کو روکنے کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کا ایلن مسک، اسپیس ایکس اور ٹیسلا کسی اور ملک میں  قائم کرنے پر مجبور ہوگا۔ ایک معاصر انگریزی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں آئی این سی میگزین کے ایک مضمون کا حوالہ دیا جو ۲۰۱۸ء میں شائع ہوا تھا اور جس میں بیرونی ملکوں کے پروفیشنلس کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’’امریکہ کی اسٹارٹ اَپ اکنامی کے ہیرو وہ نہیں ہیں جو امریکہ میں پیدا ہوئے۔‘‘ (بلکہ بیرونی ملکوں کے شہری ہیں)۔ گوگل کے ہند نژاد امریکی سی ای او سندر پچائی نے بھی تارکین وطن کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی پروفیشنلس کی وجہ سے ہی امریکی معاشی ترقی میں چار چاند لگے ہیںاور یہ ملک ٹیکنالوجی میں گوبل لیڈر بن سکا ہے۔ 
  ’’ایچ وَن بی ویزا ‘‘پر امریکہ میں داخلہ او رملازمت پانے والوں میں چونکہ ہندوستانی زیادہ ہیں اس لئے ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ فرمان اُن تمام ہندوستانیوں کیلئے افسوسناک ہے جو سابقہ فرمان کی مدت ختم ہونے کے منتظر تھے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ہندوستانی معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے والا یہ قدم اُسی امریکی صدر  نے اُٹھایاہے جس کیلئے فروری میں ہندوستان میں سرخ قالین ہی نہیں، آنکھیں بچھا دی گئی تھیں اور جوش جنوں میں کورونا کے خطرہ کو بھی کچھ عرصہ کیلئے بھلا دیا گیا تھا جبکہ اُن کے دورہ سے کم و بیش تین ہفتے قبل ڈبلیو ایچ او، کووڈ۔۱۹؍ کو عالمی وباء قرار دے چکا تھا۔ ایسی ہوتی ہے ہمارے دوست ٹرمپ کی دوستی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK