ترکی کے تباہ کن زلزلے کی تصویریں اور ویڈیوز آپ نے بھی دیکھے ہونگے۔
EPAPER
Updated: February 08, 2023, 10:36 AM IST | Mumbai
ترکی کے تباہ کن زلزلے کی تصویریں اور ویڈیوز آپ نے بھی دیکھے ہونگے۔
ترکی کے تباہ کن زلزلے کی تصویریں اور ویڈیوز آپ نے بھی دیکھے ہونگے۔ یقیناً آپ کی بھی روح کانپی ہوگی۔ یہ آسمانی آفت تھی جو ترکی اور شام پر ٹوٹی۔ ا س میں شک نہیں کہ زلزلے اگر زیادہ شدت کے ہوں تو اپنے پیچھے تباہی و تاراجی کے ایسے ہی عبرت ناک مناظر چھوڑ جاتے ہیں مگر انسان ہے کہ انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود کچھ سیکھتا نہیں ہے۔ دہل جاتا ہے مگر سیکھتا نہیں ہے۔ ترکی کے صدر اردگان نے ایک ہی دن میں وقفے وقفے سے آنے والے تین زلزلوں کی تفصیل بتانے کے ساتھ ساتھ تاریخ کے اوراق اُلٹتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ اُن کے ملک میں ۱۹۳۹ء کا زلزلہ اتنا قیامت خیز تھا کہ اس نے ۳۳؍ ہزار افراد کی جان لی تھی۔ جب جانی نقصان اس قدر تھا تو مالی اور شہری سہولتوں کا نقصان کس قدر رہا ہوگا اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ اس کی وجہ سے کئی سال تک ترکی کی معیشت متاثر رہی ہوگی اور عوامی زندگی پر افلاس کے سائے دراز رہے ہوں گے۔ پیر کا زلزلہ بھی کچھ کم قیامت خیز نہیں تھا۔ آن واحد میں عمارتوں کے منہدم ہونے کے مناظر سے کلیجہ منہ کو آگیا۔ کتنے ہنستے کھیلتے خاندان اُجڑ گئے اور کتنوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا اس کا حقیقی علم تو کئی ماہ گزر جانے کے باوجود نہیں ہوسکے گا۔ سوچئے تو اس بات پر بھی دل رونے لگتا ہے کہ ملبے میں کئی بچے، بزرگ، خواتین اب بھی دبے ہوں گے۔ انہیں جب نکالا جائیگا تب اُن کی سانسیں چل رہی ہوں گی یا ڈوب چکی ہوں گی کوئی نہیں جانتا۔ اِن حالات میںکچھ لوگ معجزاتی طور پر بچ جاتے ہیں تو کچھ ملبے کے نیچے آخری ہچکی لے کر راہی ٔ ملک عدم ہوجاتے ہیں۔ جو بچ جاتے ہیں اُن میں چند ہی خوش قسمت ہوتے ہیں جن کی باقی ماندہ زندگی بخیر و عافیت یعنی کسی معذوری کے بغیر گزرتی ہے۔ترکی کے صدر اردگان کے سامنے اس وقت بہت بڑا چیلنج ہے۔ متاثرین کے علاج معالجہ اور اُن کی بازآبادکاری کا چیلنج۔ اُمید کی جاتی ہے کہ وہ اس کسوٹی پر پورا اُتریں گے۔ یہ ایک آفت سے نمٹنے کی منصبی ذمہ داری ہی نہیں، آزمائشی وقت میں خدمت کا بہترین موقع بھی ہے۔
دُنیا چاہے جتنی مادّہ پرست ہوچکی ہو مگر بعض سانحات اتنے ڈراؤنے ہوتے ہیں کہ ہر خاص و عام انسانیت کی بہی خواہی کیلئے بیقرار ہوجاتا ہے۔ کل تک جن ملکوں نے مدد بھیجی یا مدد کی پیشکش کی اُن کی مجموعی تعداد ۴۵؍ ہے۔ یہ جذبۂ خیر ہی ہے جس نے کم و بیش چار درجن ملکوں کو مدد کرنے یا مدد کے بارے میں سوچنے پر آمادہ کیا۔ ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ فوری طور پر مدد کیلئے آگے بڑھ جانا اور بات ہے، طویل مدت میں ضرورتوں کی تکمیل کیلئے تیار رہنا دوسری بات۔ اکثر ممالک مدد بھیج کر سمجھتے ہیں کہ فرض پورا ہوگیا جبکہ متاثرین کو سنبھلنے میں خاصا وقت لگتا ہے۔ اُن کی ضرورتیں بھی متنوع ہوتی ہیں چنانچہ مدد کرنے یا اس کی پیشکش کرنے والے ملکوں کو کم از کم دو سال انقرہ کے رابطے میں رہتے ہوئے ہر طرح کی ضرورت پورا کرنے کیلئے کمربستہ رہنا چاہئے۔
اِس وقت پوری دُنیا معاشی طور پر فکرمند ہے، ایسے میں بازآبادکاری اور انفراسٹرکچر کی بحالی بھی اہم معرکہ ہے مگر سب مل کر ہاتھ بٹائیں تو مشکل مشکل نہیں رہے گی۔ اس موقع پر یہ بھی سوچا جانا چاہئے کہ الگ الگ ملکوں کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی طرح عالمی سطح کا ایک میکانزم ہو، تاکہ جب بھی ایسی ضرورت پیش آئے وہ تیار رہے۔ اگر یہ نہیں تو جو عالمی تنظیمیں پہلے سے سرگرم ہیں اُنہیں سب مل کر وسائل فراہم کریں۔ ایسی اِمداد سے باہمی تنازع کے حل میں بھی سہولت ہوتی ہے۔