Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۳ء کے بعد سے امریکی ڈالر کے مقابلے روسی رُوبل تیزی سے مضبوط ہورہا ہے: رپورٹ، ماہرین معاشیات حیران

Updated: May 30, 2026, 10:01 PM IST | Washington

ڈالر کے مقابلے روبل کی بہتر کارکردگی کے پیچھے ایک اہم محرک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر پابندی کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والا زبردست اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، روس کے یورالز کروڈ کی قیمت فروری میں تقریباً ۴۴ ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر اپریل میں تقریباً ۹۴ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ تیل کی بلند قیمتوں نے برآمدات سے ہونے والی روس کی غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمدنی کو نمایاں طور پر بڑھا دیا۔

Photo: X
ڈالر کے مقابلے روبل مضبوط ہو رہا ہے۔ تصویر: ایکس

حالیہ مہینوں میں روسی روبل امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھانے والی کرنسی بن کر ابھرا ہے۔ بلومبرگ (Bloomberg) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ۲۰ مارچ کو ڈالر ۸۶ روبل سے اوپر ٹریڈ کر رہا تھا لیکن اس کے بعد یہ گر کر تقریباً ۷۱ روبل تک آ گیا ہے۔ یہ ۲۰۲۳ء کے موسم بہار کے بعد سے روسی کرنسی کی سب سے مضبوط ترین سطح ہے۔ اس نے بہت سے ماہرینِ اقتصادیات کو حیران کر دیا ہے جو روبل پر مسلسل دباؤ کی توقع کر رہے تھے۔

اس پیش رفت کے پیچھے ایک اہم محرک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر پابندی کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والا زبردست اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، روس کے یورالز کروڈ کی قیمت فروری میں تقریباً ۴۴ ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر اپریل میں تقریباً ۹۴ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ تیل کی بلند قیمتوں نے برآمدات سے ہونے والی روس کی غیر ملکی زرِ مبادلہ (فارین کرنسی) کی آمدنی کو نمایاں طور پر بڑھا دیا۔ تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا کہ برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی عام طور پر تقریباً چھ ہفتوں کی تاخیر سے ملکی مارکیٹ میں داخل ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ مضبوطی تیل کی قیمتوں میں پچھلے اضافے کے دوران پیدا ہونے والی آمدنی کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہانگ کانگ، سوئزرلینڈ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا کراس بارڈر ویلتھ ہب بن گیا: بی سی جی رپورٹ

روسی وزارتِ خزانہ نے بھی اس رجحان میں اہم کردار ادا کیا۔ مارچ میں، وزارت نے بجٹ اصول کے تحت غیر ملکی کرنسی کے آپریشنز کو یکم جولائی تک معطل کر دیا تھا۔ اگرچہ مئی میں دوبارہ خریداری شروع ہوئی، لیکن اس کا حجم تقریباً ۲ء۱ بلین روبل یومیہ تک محدود رہا، جس نے کرنسی کی قدر میں اضافہ جاری رکھنے کا موقع دیا۔

ماہرینِ اقتصادیات نے روبل کو سہارا دینے والے ساختی عوامل کو بھی اجاگر کیا۔ شرحِ سود کے بلند ہونے سے قرضوں کی فراہمی اور درآمدات میں کمی آئی ہے، جبکہ کچھ شعبوں میں لین دین کا تقریباً ۶۰ فیصد حصہ اب روبل کی صورت میں طے پا رہا ہے۔

مضبوط کرنسی نے درآمد کنندگان، خوردہ فروشوں اور صارفین کو فائدہ پہنچایا ہے کیونکہ اس سے درآمدی سامان سستا ہوگیا ہے اور افراطِ زر (مہنگائی) کی رفتار کو سست کرنے میں مدد ملی ہے۔ اپریل میں روس میں مہنگائی کی شرح ۷ء۵ فیصد رہی۔ روسی صارفین کیلئے اب غیر ملکی مصنوعات، ادویات، گاڑیوں کے پرزے اور بیرونِ ملک سفر زیادہ سستا ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی بہت مہنگا ثابت ہو رہا ہے ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ انسان سستے ہیں

ٹور آپریٹرز نے مانگ میں زبردست اضافے کی اطلاع دی ہے، بیرونِ ملک چھٹیاں گزارنے کی بکنگز میں ۳۰ سے ۹۰ فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روسی سیاحوں کیلئے ترکی اب بھی سب سے مقبول منزل بنا ہوا ہے، بکنگز میں اس کا حصہ 3۸ فیصد سے بڑھ کر ۴۳ فیصد ہوگیا ہے۔

تاہم، تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ مضبوط روبل چیلنجز بھی پیدا کرتا ہے۔ جب برآمدی آمدنی کو ایک مضبوط ملکی کرنسی میں تبدیل کیا جاتا ہے، تو روس کے بجٹ اور برآمد کنندگان کی کمائی کم ہو جاتی ہے۔ تخمینوں سے پتا چلتا ہے کہ کرنسی کی قدر میں اس اضافے کی وجہ سے وفاقی بجٹ کو ماہانہ ۱۰۰ سے ۱۵۰ بلین روبل کا نقصان ہو رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ موجودہ رجحان وقت کے ساتھ کمزور پڑ جائے گا۔ سینارا انویسٹمنٹ بینک (Sinara Investment Bank) کی پیش گوئیوں کے مطابق، ۲۰۲۶ء میں اوسط شرحِ مبادلہ ۸۱ روبل فی ڈالر اور ۲۰۲۷ء میں ۸۵ روبل فی ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ حکام روبل کی ضرورت سے زیادہ مضبوطی کو روکنے کیلئے غیر ملکی کرنسی کی خریداری میں اضافہ کریں گے یا کرنسی کی پابندیوں میں نرمی لائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK