Inquilab Logo Happiest Places to Work

طیب اردگان کی ایران جنگ کے تعلق سے ڈونالڈ ٹرمپ سے گفتگو

Updated: May 22, 2026, 11:43 AM IST | Washington

ترک صدر کا تنازع کو گفتگو کے ذریعے حل کرنے پر زور، جنگ بندی میں کی گئی توسیع کا خیر مقدم کیا۔

Tayyip Erdogan is considered a friend of Iran. (File photo)
طیب اردگان کو ایران کا دوست سمجھا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)

ترک ایوانِ صدر نے کہا ہے کہ صدر رجب طیب اردگان  نے بدھ کے روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کو حل کرنا ممکن ہے۔ترکی نیٹو کا رکن اور ایران کا ہمسایہ ملک ہے، واشنگٹن، تہران اور ثالث ملک پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔انقرہ نے مسلسل اس تنازع کے خاتمے کی اپیل کی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈو نالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو مزید حملے کئے جا سکتے ہیں۔ترک ایوانِ صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران صدر اردگان  نے اس بات کو مثبت پیش رفت قرار دیا کہ ہمارے خطے میں جاری تنازع میں جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں موجودہ اختلافات کو معقول طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پرٹرمپ اور یاہو میں ٹھن گئی

انہوں نے مزید کہا کہ صدر اردگان نے شام میں استحکام کی بحالی کو خطے کیلئے ایک اہم کامیابی قرار دیا اور لبنان کی صورتحال مزید خراب ہونے سے روکنے کیلئے اقدامات پر زور دیا، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ ترک ایوانِ صدر کے مطابق اردوان نے ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں، جو جولائی میں انقرہ میں منعقد ہوگا، ترکی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ یہ اجلاس ہر لحاظ سے کامیاب ہو۔بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کا حکم دینے ہی والے تھے مگر انہیں سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک نے روک دیا۔ ان ممالک کا کہنا تھا کہ ان کی ایران کے ساتھ گفتگو جاری ہے اور وہ مفاہمت کی کوئی راہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترکی خود ایران کے قریبی دوست ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے ایسی صورت میں ٹرمپ اور اردگان کی گفتگو کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ جبکہ اسرائیل کے اس دوران کوئی بھی رد عمل سامنے نہیں آ رہا ہے جس کی ایما پر امریکہ نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا تھا اور اسے خود فوجی اعتبار سے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK