اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ حتمی نتائج کے اعلان میں وقت لگے گا۔ بعض خبروں کے مطابق حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان ۴؍ نومبر کو ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 4:52 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ حتمی نتائج کے اعلان میں وقت لگے گا۔ بعض خبروں کے مطابق حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان ۴؍ نومبر کو ہوگا۔
اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ حتمی نتائج کے اعلان میں وقت لگے گا۔ بعض خبروں کے مطابق حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان ۴؍ نومبر کو ہوگا۔ تاہم ان سطور کے لکھے جانے تک جو تصویر اُبھر رہی ہے وہ ویسی ہی ہے جیسی زمینی حالات کے پیش نظر سمجھی گئی تھی۔ کوئی بھی اتحاد حکومت بنانے کیلئے درکار ۶۱؍ نشستوں تک پہنچتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ نیتن یاہو جس اتحاد کی قیادت کررہے ہیں اُس کے بارے میں تین روز قبل ہم نے لکھا تھا کہ اسے ۴۸؍ تا ۵۰؍ سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ اپوزیشن کے اتحاد کو ۵۲؍ سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے مگر اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ نیتن یاہو کے اتحاد کو دو تین سیٹیں زیادہ ملنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود وہ حکومت سازی کیلئے درکار ۶۱؍ سیٹوں سے کافی دور رہے گا۔ یاہو کی پارٹی اور اُس کی پشت پناہ امریکی صدارت دو تین سیٹوں کے بڑھ جانے سے اتنا اتاؤلے ہورہے ہیں کہ ٹرمپ ’’یاہو کی جیت‘‘ کا سہرا اپنے سر باندھ رہے ہیں۔ اُن کا بیان منظر عام پر ہے کہ ’’مَیں نے بی بی (نیتن یاہو) کی حمایت کی تھی، انتخابی دھارا بدل گیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:اروناچل پردیش کی ایک قبائلی آبادی ’’نئیشی‘‘
اس الیکشن کو کئی وجوہات کی بناء پر یاد رکھا جائیگا مثلاً اس بار ریکارڈ پولنگ ہوئی اور ۷۷ء۷؍ فیصد شہریوں نے ووٹ دیا۔ یہ پولنگ ۲۰۲۲ء کے الیکشن سے۱ء۷؍ فیصد زیادہ ہے، یہ الیکشن ۷؍ اکتوبر ۲۳ء کے حماس کے چونکا دینے اور تل ابیب کو دہلا دینے والے حملوں کے بعد ہوا ہے، یہ الیکشن کم و بیش ۷۵؍ ہزار فلسطینیوں کے شہید اور پونے دو لاکھ کے زخمی ہونے کے بعد منعقد کیا گیا ہے، یہ الیکشن ایران سے جنگ اور اس جنگ میں ایران کے بھاری پڑنے کے بعد برپا ہوا ہے، وغیرہ، مگر ان کے ساتھ ہی ساتھ یہ الیکشن اس لئے یاد رکھا جائیگا کہ اس میں عرب پارٹیوں کی کارکردگی شاندار ہے۔ جن پارٹیوں کو ۱۳؍ سیٹیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا تھا وہ ۲۰؍ کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ اسرائیل کی لگ بھگ ۲۰؍ فیصد فلسطینی (عرب) آبادی کو مد نظر رکھیں تو یہ بڑی کامیابی ہے۔
یہ اس لئے بھی بڑی کامیابی ہے کہ سابقہ الیکشن میں عرب پارٹیوں نے ۱۰؍ سیٹیں جیتی تھیں۔ اگر حتمی نتائج میں ان پارٹیوں کو ۲۰؍ یا اس سے زیادہ نشستیں ملیں تو ان کی کارکردگی دوگنا ہوجائیگی۔ تسلیم کہ یہ چار جماعتیں (رعام یا یونائٹیڈ عرب لسٹ، حداش، تعال اور بلاد)، ترجیحات اور اُنہیں رو بہ عمل لانے کے معاملے میں مختلف سوچ رکھتی ہیں۔ یہ بھی تسلیم کہ ان میں سے کوئی اقتدار میں حصہ داری کی وکالت کرسکتی ہے اور کوئی اس سے گریز کر سکتی ہے مگر فی الحال ’’کون کس کا ساتھ دیگا‘‘ کے سوال سے اُلجھنے کا موقع نہیں ہے۔ یہ موقع ان کی، توقع سے کئی گنا بہتر کارکردگی کے جشن کا ہے۔ یہی موقع بڑی پارٹیوں اور اُن کے دو بڑے اتحاد کی ’’عرب دشمنی‘‘ کی آزمائش کا بھی ہے۔ ایک اتحاد کے قائد گادی آئزنکوٹ عرب جماعتوں سے دور رہنے کا اشارہ دے چکے ہیں جبکہ دوسرے اتحاد کے قائد نیتن یاہو نے عربوں کی حمایت سے حکومت بنانے کو ’’بے توقیری اور باعث شرم‘‘ قرار دیا تھا۔ اب دیکھنا ہے کہ کون کس طرف جھکتا ہے۔