چچا چھکن نے آن لائن مشاعرے میں شرکت کی

Updated: August 10, 2020, 10:02 AM IST | Rehan Kausar

لاک ڈاؤن کے بعد جب دھیرے دھیرے ان لاک کیا جانے لگا تو تیسرے اَن لاک کے دوران چچا چھکن آج پہلی مرتبہ بازار گئے لیکن کوئی خریداری کئے بغیر واپس آ گئے

Chacha Chakkan
چچا چھکن کےکارناموں کو بنیاد بنا کر ملک کے طول و عرض میں متعدد ڈرامے کھیلے گئے ہیں

لاک ڈاؤن کے بعد جب دھیرے دھیرے ان لاک کیا جانے لگا تو تیسرے اَن لاک کے دوران چچا چھکن آج پہلی مرتبہ بازار گئے لیکن کوئی خریداری کئے بغیر واپس آ گئے۔ چچی نے پوچھا، ”کیوں کیا ہوا یہ تھیلا خالی کیوں ہے؟‘‘’’مجھے سمجھ کیا رکھا ہے اس مرزا نے؟‘‘ چچا نے تھیلا چچی کو سونپ کر خود سوال کردیا۔ چچی نے تھیلا پھینک دیا اور سوال داغا،’’اجی میں کیا پوچھ رہی ہوں، آپ  کیا بول رہے ہیں؟‘‘ ’’ہم بھی بتا دیں گے کہ ہم کیا چیز ہیں۔ بڑا شاعر بنتا ہے۔۔۔! ہمیں بتا رہا تھا کہ اب تک دس آن لائن مشاعرے پڑھ چکا ہے۔‘‘ چچا نے آسمان کی طرف گھورتے ہوئے کہا مگر پھر بُرا سا منہ بنایا، چچی اُن کی جانب لپکیں: ”اف!! اب کیا بتاؤں، میں نے اسی روز منع کیا تھا کہ مت چڑھو کمزور چھت پر تھالی اور تالی بجانے! مگر میری سنتا کون ہے؟ ایسی احمقانہ حرکت کرو گے تو منہ کے بل ہی گرو گے! اور ہوا بھی ایسا ہی! اس کے بعد موم بتی جلانے گئے اور اپنی لنگی ہی جلا بیٹھے۔ یا اللہ تجویز رکھنے والے کو کوسوں یا عمل کرنے والوں کو؟‘‘
 ’’ارے بیگم ہوگئیں وہ باتیں پرانی، مٹی ڈالو ان پر اب، فی الحال تو ہمیں اس مرزا کو مزا چکھانا ہے، بہت بڑا شاعر بنتا ہے۔‘‘ چچا نے صوفے پر بیٹھ کر چچی کو اطمینان دلایا۔”اب کون سی مصیبت کو دعوت دے آئے ہیں اس لاک ڈاؤن میں؟ لوگ  اس کورونا اور لاک ڈاؤن سے پریشان ہیں اور میں تمہاری ان حرکتوں سے۔ اوپر سے پان کھاتے وقت پتا نہیں ماسک کیوں لگاتے ہیں؟ اور لگاتے ہیں تو پان کی پیک .......اُف! یا اللہ اب تک چھپن ماسک خراب کر چکے ہیں آپ! پتہ ہے آپ کو؟ “ چچی کا ماتھا ٹھنکا جارہا تھا۔
 ’’اجی بیگم کچھ نہیں، کچھ نہیں! ہم نے کسی کو کسی قسم کی کوئی دعوت نہیں دی ہے۔ ہم تو بین الاقوامی آن لائن مشاعرے میں شرکت کرنے والے ہیں۔‘‘ چچا چھکن نے فاتحانہ انداز میں جواب دیا اور نئی گلوری منہ میں رکھنے کے بعد گویا ہوئے ”للو، بنو، بندو اور گھر کے تمام لوگوں سے کہہ دو آج رات ہم آن لائن مشاعرے کی زینت ہونگے۔ دوستوں اور رشتےداروں کو بھی مطلع کر دیا جائے۔‘‘
 چچی چپ نہیں رہیں، بولیں: ’’وہ سب تو ٹھیک ہے مگر تم شاعر کب سے ہو گئے؟ مشاعرے میں پڑھو گے کیا اورمدعو  کس نے کیا گوبر میں تیر مارنے کے لیے؟‘‘
 ’’لاحول ولاقوۃ! بیگم کیا بکواس کرتی ہو؟ ارے وہ آصف چائے والا ہے نا! وہ یہ مشاعرہ آن لائن کروا رہا ہے۔ اور ہمارے والد محترم کی غزلیں کب کام آئیں گی؟ اس میں سے ایک غزل نکال لی ہے کورونا والی، دیکھنا مشاعرہ نہ لوٹ لیا تو چھکن میرا نام نہیں۔‘‘چچا نے اگالدان میں سر جھکا کر وضاحت فرمائی۔
 ’’میں تو ان چائے والوں سے پریشان ہو گئی ہوں! یا اللہ یہ چائے والا منواں کب سے شاعر ہوگیا؟ کیا کورونا وائرس سے لوگ شاعر بھی بنتے جاتے ہیں؟ اور تمہارے والد محترم نے کب کورونا پر غزل لکھی تھی جی؟‘‘چچی نے جھنجھلا کر پوچھ لیا۔
  ’’بیگم! میری پیاری بیگم! تم نے اب تک میری صلاحیتوں کو جانا کہاں ہے؟ ابا حضور کی ایک غزل جس کی ردیف مرونا تھی اسے میں نے کرونا کر دیا ہے، وہی پڑھوں گا۔‘‘’’تمہیں جو کرنا ہے کرو، مرنا ہے مرو! میں تو چلی باورچی خانے میں۔‘‘ 
 اتنا کہہ کر چچی نے باورچی خانے کا رخ کیا اور چچا نے للو کو آواز لگائی۔ شادی کی پرانی شیروانی اور کالی ٹوپی لگا کر ایک مخصوص انداز میں فوٹو کھنچوائی اور آصف چائے والے کو وہاٹس ایپ کر دی۔ تھوڑی دیر بعد ایک بینر بن کر واپس بندو کے موبائل پر آیا۔ اس بینر میں تقریباً چالیس آڑے ترچھے چہروں کے ساتھ ایک چچا کا بھی چہرا تھا ۔ چچا نے موبائل میں جتنے بھی کانٹیکٹ اور گروپ تھے سب کو وہ بینر فارورڈ کردیا۔ مرزا کو چار بار وہ بینر بھیجا گیا۔ لیکن مرزا کے وہاٹس ایپ کی ایک ڈنڈی  دو نہ ہوئی، ان کا نیلا ہونا تو دور کی بات تھی۔ دھیرے دھیرے کورونا وبا کی طرح ان کا بینر شہر کے مختلف وہاٹس ایپ نمبروں اور گروپ میں پھیلتا گیا۔ ٹھیک نو بجے سے یہ بین الاقوامی مشاعرہ شروع ہونے والا تھا جس میں محلے کے تمام بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر شریک ہونے والے تھے۔رات کا کھانا جلدی کھا کر چچا نے نئے کپڑے پہنے اور دبئی سے منگوایا گیا عطر لگایا اور شادی کی پرانی شیروانی زیب تن کرلی۔ گھر کے تمام لوگوں کو اچھی طرح تاکید فرمائی گئی تھی کہ مشاعرے کے دوران کوئی ان کے کمرے میں نہ آئے اور سبھی موبائل سائلنٹ پر رکھ دیئے جائیں۔  اس اہتمام کے بعد  چچا نے بنو کا موبائل لے کر اس کا کیمرا آن کیا۔ 
 بنو کی سازش اور چچا کا گمان تھا کہ آن لائن مشاعرے میں جس طرح سب الگ الگ رہ کر ایک ساتھ شرکت کرتے ہیں شاید موبائل میں بھی وہ الگ الگ اور صرف خود کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔ نو بجتے ہی چچا نے ردیف اور قافیہ بدل بدل کر غزل پڑھنی شروع کی تو محویت کا وہ عالم تھا کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، کسی کا خیال نہ رہا۔ ادھر آصف چائے والے نے چچا اور گھر کے تمام ممبران کو فون کیا کہ چچا زوم ایپ پر آئیں اور مشاعرہ شروع ہو لیکن چچا موبائل کیمرے کے سامنے ہی اپنے سارے جوہر دکھاتے اور اپنے سارے ارمان پورے کرتے رہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK