Inquilab Logo Happiest Places to Work

عارفانہ اور متصوفانہ اشعار کی تفہیم (۶)

Updated: June 03, 2024, 12:04 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

اس ہفتے ملاحظہ کریں کلاسیکی لب و لہجے کے شاعر خواجہ میر دردؔ کی عارفانہ غزل کا خوبصورت اور دلنشیں تجزیہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے 
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے 
وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے 
آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے 
میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے 
نقش قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے 
قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے 
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے 
غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار 
اپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے 
یارب یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاں 
دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے 
گو بحث کر کے بات بٹھائی بھی کیا حصول 
دل سے اٹھا خلاف اگر تو اٹھا سکے 
اخفائے راز عشق نہ ہو آب اشک سے 
یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے 
مست شراب عشق وہ بے خود ہے جس کو حشر 
اے دردؔ چاہے لائے بہ خود پر نہ لا سکے 
تصوف کی مختلف تعریفوں میں ایک تعریف مذہب میں عشق کی کیفیت پیدا کردینا ہے۔ خانقاہ نشین اور شاعر خواجہ میردرد بھی سّرِ معرفت کے کلید بردارتھے۔ یہ پوری غزل عرفان الٰہی اوراس کے عشق میں ڈوبی ہوئی ہے جو زمان، مکان اورجہت سے پاک ہے۔ میں عربی داں نہیں اورعالم یا حافظ بھی نہیں مگر تلاوت کا عادی ہوں اس لئے مطلع پڑھتے ہی دل نے کہا کہ اس میں قرآن حکیم کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ مولانا محمد شعیب کوٹی صاحب سے استفسار کیا تو انہوں نے تائید کی کہ الاحزاب اور الحشر کے آخری رکوع میں یہ مفہوم بیان ہوا ہے، ’’ ہم نے یہ امانت آسمان وزمین اور پہاڑوں کےسامنے پیش کی تھی مگر انہوں نے یہ امانت سنبھالنے سے انکارکردیا لیکن انسان نے اس کو اپنے ذمہ لے لیا ‘‘ اور’’ ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ خدا کے خوف سے پھٹ جاتا‘‘، ایک حدیث قدسی بھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نہ زمین میں سما سکتا ہوں نہ آسمان میں ، ہاں سما سکتا ہوں تو انسان کے دل میں، غزل کے مطلع میں اسی حقیقت کی ترجمانی ہے کہ مالک وخالق کی بے کراں ذات کی سمائی کیلئے ارض وسماء کی وسعت بھی ناکافی ہے اسکی سمائی یا محل ظہور کہیں ممکن ہے تو وہ قلب مومن میں ہے۔ 
دوسرے شعر میں آئینہ حسن مطلق کا استعارہ ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جس طرح آئینے میں عکس ہوتا ہے یہ عالم بھی حسن مطلق کے عکس سے بھرا ہوا ہے مگر عکس کو اصل سمجھنا وحدۂ لاشریک کا شریک ٹھہرانے جیسا ہے جو شرک ِجلی ہے۔ 
تیسرے شعر میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ فنا کا مطلب ہستی کاختم ہوجانا نہیں بلکہ فنا فی اللہ ہوکر بقائے دوام حاصل کرنا ہے۔ فنا فی اللہ کو صوفیانے مختلف لفظوں میں بیان کیا ہے۔ اکثریت یہ مراد لیتی ہے کہ احکام خداوندی کی پابندی لاشعوری طورپر کی جانے لگے۔ 
چوتھے شعر میں ’قاصد‘ کو روایتی علامت کے طورپر استعمال کیا گیا ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ خواجہ میر درد جس دین یا طریق محمدی کے قائل تھے اس میں قاصد جبرئیل امین ہیں اور وہ جو پیغام لائے وہ قرآن حکیم ہے اور قرآن حکیم کی وہی شرح معتبر ہے جو نبی محترمؐ کے قول، فعل اور حال کے ذریعہ امت تک پہنچی ہے، ا س شرط کے ساتھ کہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی مخالفت نہ ہو رویائے صادقہ اورالہام کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ شاید اس لئے کہ پیغام بھیجنے والے کی شان یہ ہے کہ وہ جس بندے سے محبت کرتا ہے اس کو اپنی طرف راہ دیتا ہے اور اس طرح اس کا کہا اللہ کا کہا ہوجاتا ہے۔ 
پانچویں شعر میں ’ غافل‘ انسان کو کہا گیا ہے اور پھر یہ تلقین کی گئی ہے کہ عبادت کے غرور اور ظاہرداری سے باز آ، حتیٰ کہ اپنی ہستی کو بھی بھلا سکتا ہے تو بھلادے مگر اللہ کی یاد دل سے نہ نکلنے دے کہ اصل مطلوب کیفیت قلب ہے، کیفیت قلب یعنی اخلاص۔ چھٹا شعر فہم وادراک یا عقل کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ اکبر نے زیادہ بہتر انداز میں یہی بات کہی ہے کہ 
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
میں جان گیا ہوں تری پہچان یہی ہے
میر دردؔ کے نزدیک بھی عقل مجبور ہے کہ اس کی ایک حد متعین ہے۔ وہ اسیرِ تعینات ہے اس کے بعد کے یعنی ساتویں شعر میں یہ اشارہ موجود ہے کہ عقل کے برعکس عشق گرہ کشائے لامکاں ہے یعنی عشق تعینات کا قیدی نہیں ہے اور پھر مالکِ کائنات جس کو عشق کی دولت لازوال سے مالا مال کرتا ہے یاخود جس سے محبت کرتا ہے اس کے دل کو انوار وتجلیات سے بھر کر ارض وسما کی وسعتوں کو اس کے تصرف میں دے دیتا ہے جبکہ عقل حیران پریشان بھٹکتی رہتی ہے۔ 
ساتواں شعر مالک کی فتوحات کے باوجود آتشِ فراق میں اس کے جلتے رہنے کا مظہر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب آنسو نکل آیا یا آنسو نکلنے لگے تو راز عشق، راز نہیں رہا بلکہ ظاہر ہوگیا۔ آگ پانی سے بجھ جاتی ہے مگر عشق کی آگ وہ آگ نہیں ہے جو پانی سے بجھ جائے۔ 
مقطع یعنی اس آخری شعر میں جہاں شاعر نے اپنا تخلص استعمال کیا ہے ’بے خود‘ اور ’بہ خود‘ بھی استعمال کیا ہے۔ یہ صنعت تضاد ہے۔ مقصد یہ باور کرانا ہے کہ حشر میں بھی انسان ہوش میں لایاجائے گا مگر عشق حقیقی کی کیفیت کے سامنے تقاضائے حشر بھی بے معنی ہے۔ کیفیت کی یہی منزل معراجِ عشق ہے۔ خواجہ میر درد صاحب حال صوفی تھے۔ ۹؍ شعروں کی ان کی یہ غزل ان کے صاحب حال ہونے کے علاوہ شاعری میں لفـظوں کی ترتیب و تہذیب میں ان کی مہارت کا بھی ثبوت ہے۔ پوری غزل یہی پیغام دیتی ہے کہ مالک وخالق ہی معبود بھی ہے اور محبوب ومسجود ومشہود بھی۔ کائنات اس کی تخلیق ہے اور خالق اور تخلیق میں ربط ہے البتہ اس ربط کو شرکت نہیں قراردیاجاسکتا کہ یہ شرک ہے۔ میر دردؔ نے اس غزل میں دل، فنا، وحدت، دوئی، آئینہ، عشق اور آگ جیسی علامات استعمال کی ہیں جنہیں صوفیاء نے کئی معنی میں استعمال کیا ہے مگر ہر معنی میں یہ تاکید ضرور موجود ہے کہ عظمت کبریا کی جلوہ گاہ اگر کوئی ہے تو وہ ’دل‘ ہے لہٰذا اہل سلوک تزکیہ وتقویٰ سے اپنے دلوں کو صاف کرتے رہتے ہیں۔ 
کچھ لوگ دوسری راہ بھی اختیار کرتے ہیں مگر جس طرح آئینہ پاکیزہ پانی سے بھی صاف ہوجاتا ہے اور نجس پانی سے بھی مگر طہارت اور نجاست کا فرق باقی رہ جاتا ہے اسی طرح ایمان کے ساتھ تزکیہ وتقویٰ اختیار کرنا ہی تصوف کا مقصود ہے۔ اگر بالفرض اس کے علاوہ کوئی راہ ہے تو وہ تصوف یا راہ سلوک نہیں ہے۔ راہ سلوک وہی معتبر ہے جو سلوک راہ نبوت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK