حال ہی میں ٹائمس آف انڈیا میں شائع شدہ ایک فیچرمیں مزید کئی انکشافات کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ریاست ِ گوا کے ۶۹۶؍ پرائمری اسکولوں میں سے ۳۲۰ (۴۵؍ فیصد) ایسے ہیں جہاں صرف ایک ٹیچر ہے۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 1:32 PM IST | Mumbai
حال ہی میں ٹائمس آف انڈیا میں شائع شدہ ایک فیچرمیں مزید کئی انکشافات کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ریاست ِ گوا کے ۶۹۶؍ پرائمری اسکولوں میں سے ۳۲۰ (۴۵؍ فیصد) ایسے ہیں جہاں صرف ایک ٹیچر ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے پلک جھپکتے جو حمایت حاصل کی تھی اور پھر جنتر منتر پر بالخصوص جین زی کے سپورٹ کی وجہ سے جس طرح ملک کے سیاسی ماحول میں اتھل پتھل مچی اور ’’استعفےٰ نہ دینے والے‘‘ طبقے کے ایک وزیر نے استعفےٰ دیا، وہ تاریخ بن چکا ہے۔ اب کاکروچ جنتا پارٹی باقی رہے، باقاعدہ سیاسی جماعت کے طور پر خود کو رجسٹر کروائے یا بے اثر ہوجائے، اسے عرصہ دراز تک یاد رکھا جائیگا کہ کس طرح ایک ہندوستانی نوجوان نے، جو امریکہ میں مقیم تھا، ایک آن لائن پارٹی بنائی اور اسے زمین پر اُتارنے کے لئے جنتر منتر پر دھرنے کا اعلان کیا، اس دھرنے اور احتجاج کو خلاف ِ توقع حمایت ملی، طلبہ کو اپنی شکایات منظر عام پر لانے کا موقع ملا، طلبہ اور نوجوانوں نے اپنے ظریفانہ انداز کی وجہ سے اس دھرنے اور احتجاج کو عوامی دلچسپی کا مرکز بنا دیا اور پھر اسی آن لائن پارٹی نے اسکول ٹھیک کرو مہم شروع کی جس کے تحت کئی ایسے انکشافات ہوئے جو ترقی کی بھرپور خواہش رکھنے والے ملک کو شرمندہ کرنے والے ہیں، مثلاً، بھینسوں کے طبیلے میں اسکول۔ اس کا جواز پیش کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ دیکھئے، وسائل نہ ہونے کے باوجود جہاں جگہ ملی، خواہ وہ بھینسوں کا طبیلہ تھا مگر وہاں بھی اسکول جاری کیا گیا تاکہ نونہالوں کا نقصان نہ ہو اور وہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہیں، مگر، اُس فطری سوال کے سامنے یہ جواز بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے کہ وہاں باقاعدہ اسکول کیوں نہیں تھا اور سی جے پی کے انکشاف کے بعد ہی کیوں کارروائی کی گئی۔ سی جے پی کی اس پہل اور یکے بعد دیگرے انکشافات کے بعد کئی صحافتی اداروں نے بھی اس جانب توجہ دی جس کا نتیجہ ہے کہ کئی معاصر اخبارات اور ٹی وی یا یو ٹیوب چینلوں نے افسوسناک حقائق پر سے پردہ اُٹھایا۔
حال ہی میں ٹائمس آف انڈیا میں شائع شدہ ایک فیچرمیں مزید کئی انکشافات کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ریاست ِ گوا کے ۶۹۶؍ پرائمری اسکولوں میں سے ۳۲۰ (۴۵؍ فیصد) ایسے ہیں جہاں صرف ایک ٹیچر ہے۔ دوئیا گاؤں (روہتاس، بہار) کے ایک مڈل اسکول کے صرف ایک کمرے میں چار کلاسیں چلتی ہیں اور ۲۰۰؍ طلبہ بیٹھتے ہیں۔ اسکول کے مزید دو کمرے ہیں مگر ...اُن دو کمروں میں ایک مقامی شخص، جو خود کو اسکول کی زمین کا مالک کہتا ہے، مویشیوں کا چارا ذخیرہ کرتا ہے نیز گھاس کاٹنے کی مشین اور دیگر آلات رکھتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے بل گاؤں (مانڈلہ) کے ایک ہائر سیکنڈری اسکول کو ’’پی ایم شری‘‘ کا اعزاز حاصل ہے مگر اگست ۲۰۲۵ء میں اسکول کا اپ گریڈیشن ہونے کے بعد سے گیارہویں بارہویں کے ۱۵۰؍ طلبہ کیلئے آرٹس اور سائنس کا ٹیچر نہیں ہے۔
اس فیچر میں بہار، گوا اور ایم پی کے علاوہ دیگر ریاستوں مثلاً راجستھان، چھتیس گڑھ، اُتراکھنڈ، ہریانہ، ہماچل پردیش اور پنجاب کے حالات بھی درج ہیں جو ملک بھر میں پرائمری اور سیکنڈری یا ہائر سیکنڈری اسکولوں کی ایسی مشکلات بیان کررہے ہیں جن پر سر پیٹنا باقی رہ گیا ہے۔ اگر ملک کے عوام او راہماری حکومت یہ مانتے ہیں کہ ملک کا مستقبل کلاس رومس میں لکھا جاتا ہے تو ہمیں یہ بھی ماننا چاہئے کہ ملک کے مستقبل کے تئیں ہمارا رویہ ایسا ہے کہ آئندہ نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔