• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ کا سرکاری اسکولوں میں داخلے پر پابندی کے خلاف عرضی پر سماعت سے انکار

Updated: September 03, 2026, 9:58 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے سی جے پی مہم کے دوران سرکاری اسکولوں میں داخلے پر پابندیوں کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا، درخواست میں کہا گیا تھا کہ راجستھان اور اتر پردیش کی بی جے پی حکومتیں عوامی مفاد میں کی جانے والی دستاویزات میں مداخلت کر رہی ہیں۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپرریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے جمعرات کو اس عوامی مفاد کی درخواست کو سماعت کے قابل نہیں پایا، جس میں اتر پردیش اور راجستھان کی حکومتوں کے ان احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا جن کے تحت بیرونی افراد، صحافیوں، یوٹیوبر اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلہ محدود کر دیا گیا تھا۔دونوں ریاستوں کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومتوں نے اسکولوں کے اندر فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، انٹرویوز، آڈیو ریکارڈنگ اور لائیو سٹریمنگ کے لیے بھی اجازت نامہ لازمی قرار دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: BCI کو قانون کے طلباء کے خلاف کارروائی کا کوئی حق نہیں

 واضح رہے کہ یہ احکامات سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی کی سیاسی مہم کے ملک گیر سلسلے کے تناظر میں جاری کیے گئے تھے۔ یہ مہم کئی ریاستوں میں اپنے رضاکاروں کے ذریعے اسکولوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کر رہی ہے۔راجستھان حکومت نے یہ حکم۱۶؍ اگست کو جاری کیا تھا جبکہ اتر پردیش میں ایودھیا کے بنیادی تعلیمی افسر نے۱۹؍ اگست کو ایسا ہی حکم جاری کیا۔لائیولاء کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ اتر پردیش کے دیگر اضلاع بشمول اعظم گڑھ، بلیا، بستی، بلرام پور، شاملی اور آگرہ کے حکام نے بھی اس کی پیروی کی۔ بعد ازاں درخواست گزار نے استدلال کیا کہ یہ پابندیاں آئین کے آرٹیکل۱۴؍،۱۹؍ اور۲۱؍ کے تحت ضمانت دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ تینوں آرٹیکل مساوات، آزادی اور زندگی اور ذاتی آزادی کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ اظہار رائے اور بیان کی آزادی میں جائز صحافت اور عوامی اداروں سے متعلق معلومات کی اشاعت شامل ہے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری کو بھی تسلیم کیا گیا کہ وہ بچوں کی رازداری، وقار اور سلامتی کا تحفظ کرے۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ قابل شناخت بچوں کی ریکارڈنگ اور سرکاری اسکول کی حالت کی دستاویزات میں فرق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی میں سماجوادی اور بی جےپی میں ’اے آئی‘ جنگ

مزید برآں درخواست میں کہا گیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے عائد پابندیاں خود بخود کلاس روم، عمارتوں، بیت الخلاء، پینے کے پانی کی سہولیات، بجلی، مڈ ڈے میل اور دیگر اسکولی انفراسٹرکچر کی عوامی مفاد میں دستاویزات کو روک نہیں سکتیں۔اس نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ راجستھان اور اتر پردیش کے احکامات کو اس حد تک کالعدم قرار دے کہ عوامی مفاد میں دستاویزات کا کوئی بھی ضابطہ معقولیت، ضرورت اور متناسبیت کے معیار پر پورا اترے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK