ملک کی معروف قابلِ تجدید توانائی کمپنی ٹاٹا پاور رینیوایبل انرجی لمیٹڈ (ٹی پی آر ای ایل) نے راجستھان کے بیکانیر واقع کلاسر میں اپنے۵ء۱۹۰؍ میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے میں تجارتی پیداوار شروع کردی ہے۔
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 9:08 PM IST | Jaipur
ملک کی معروف قابلِ تجدید توانائی کمپنی ٹاٹا پاور رینیوایبل انرجی لمیٹڈ (ٹی پی آر ای ایل) نے راجستھان کے بیکانیر واقع کلاسر میں اپنے۵ء۱۹۰؍ میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے میں تجارتی پیداوار شروع کردی ہے۔
ملک کی معروف قابلِ تجدید توانائی کمپنی ٹاٹا پاور رینیوایبل انرجی لمیٹڈ (ٹی پی آر ای ایل) نے راجستھان کے بیکانیر واقع کلاسر میں اپنے۵ء۱۹۰؍ میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے میں تجارتی پیداوار شروع کردی ہے۔ٹاٹا پاور کی ذیلی کمپنی ٹی پی آر ای ایل نے پیر کو جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ یہ منصوبہ ۴۶۰؍ میگاواٹ کے فرم اینڈ ڈسپیچیبل رینیوایبل انرجی (ایف ڈی آر ای) منصوبے کا حصہ ہے۔ ایس جی وی این ایف ڈی آر ای کے پہلے مرحلے کے تحت تیار کیا گیا یہ ۵ء۱۹۰؍ میگاواٹ کا منصوبہ ایچ پی پی سی، اے ایس ای ڈی سی ایل اور این پی سی ایل کی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بجلی فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:شری رام اور انیرودھ نے کینکن کنٹری اوپن کا ڈبلز خطاب جیت لیا
ٹاٹا پاور نے اس منصوبے کو ملک کے صاف توانائی کے سفر میں ایک اور اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کی پیداوار کو جدید توانائی ذخیرہ کرنے اور گرڈ سپورٹ ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس سے قابلِ اعتماد اور قابلِ تجدید توانائی کی ضرورت کے مطابق بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
منصوبے میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم ( بی ای ایس ایس)، ہارمونک فلٹر بینک اور اسٹیٹک وی اے آڑ جنریٹر جیسی کئی جدید ٹیکنالوجیز کامیابی سے استعمال کی گئی ہیں۔ منصوبے کے لیے سوئچ یارڈ کی تعمیر صرف تین ماہ میں مکمل کی گئی، جبکہ ہارمونک فلٹر بینک بھی ایک ماہ میں تیار کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:اجے دیوگن کی ’’دِریشیم ۳‘‘ کا نیا نام’’دِریشیم: دی کنکلوژن‘‘
اس منصوبے کے آغاز کے ساتھ ٹی پی آر ای ایل کی مجموعی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت بڑھ کر۴ء۱۲؍ گیگاواٹ ہوگئی ہے۔ اس میں تقریباً ۹ء۶؍گیگاواٹ صلاحیت فی الحال فعال ہے، جس میں ۶ء۵؍ گیگاواٹ شمسی توانائی اور۳ء۱؍ گیگاواٹ ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی صلاحیت شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ۵ء۵؍ گیگاواٹ صلاحیت کے منصوبے مختلف مراحل میں زیرِ تکمیل ہیں، جن میں اگلے دو برس کے دوران مرحلہ وار بجلی کی پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔