• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ایس ایس اے آئی کا سی جی فوڈ انڈیا کو ’’ویج بھوجیا نمکین‘‘کی پیداوار روکنے کا حکم

Updated: September 04, 2026, 9:06 PM IST | Ajmer

ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی نے کہا کہ اس نے غذائی تحفظ کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد سی جی فوڈ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

Waiwai.Photo:INN
وائی وائی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی  (ایف ایس ایس اے آئی )(FSSAI)  نے کہا کہ اس نے غذائی تحفظ کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد  سی جی فوڈ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ایف ایس ایس اے آئی نے معائنے کے دوران مبینہ طور پر غیر محفوظ طریقے سے خوراک کی پروسیسنگ، بغیر لائسنس پیداوار، پیکیجنگ پر سابقہ تاریخ درج کرنے اور صفائی ستھرائی سے متعلق خامیاں پائے جانے کے بعد کمپنی کو  ویج بھوجیا نمکین  کی پیداوار فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی ہے۔
فوڈ ریگولیٹر کے مطابق موقع سے مجموعی طور پر۳۲۱۰۷؍ کلوگرام اسٹاک ضبط کیا گیا، جس میں کھلے میں رکھا ہوا ٹوٹا پھوٹا نوڈلز بھی شامل تھا۔  ایف ایس ایس اے آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ  راجستھان کے اجمیر ضلع کے روپن گڑھ میں واقع سی جی فوڈ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ  کے یونٹ کا معائنہ مینوفیکچرنگ اور صفائی ستھرائی کے ضوابط پر عمل درآمد کی جانچ کے لیے کیا گیا تھا۔ معائنے کے دوران مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ یونٹ کے فرش سے جمع کیے گئے ٹوٹے ہوئے نوڈلز کو بغیر کسی ہیٹ ٹریٹمنٹ کے دوبارہ پروسیس کرکے بھوجیا مصنوعات میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ پیکیجنگ پر سابقہ تاریخیں بھی درج کیے جانے کا انکشاف ہوا۔

یہ بھی پڑھئے:اسمرتی مندھانا کی ریکارڈ سنچری اننگز سے ہندوستان ناک آؤٹ میں

ریگولیٹر کے مطابق معائنے میں ’وائی وائی ماما‘ اور ’وائی وائی ماما پونٹے‘  نامی بھوجیا کی مختلف اقسام کی بغیر لائسنس پیداوار بھی سامنے آئی۔ ایف ایس ایس اے آئی نے اسے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ ۲۰۰۶ کی دفعہ ۳۱(۱)  کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے کہا کہ معائنے کے دوران صفائی ستھرائی اور دستاویزی ریکارڈ سے متعلق بھی کئی خامیاں پائی گئیں۔ ان میں مناسب  پیسٹ کنٹرول ریکارڈز  کا دستیاب نہ ہونا اور خوراک کی صفائی و تحفظ سے متعلق دیگر ضوابط کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔
 فوڈ سیفٹی حکام نے مزید جانچ کے لیے متعدد ریگولیٹری نمونے بھی حاصل کیے۔ ان نمونوں میں کھلے میں موجود نوڈلز کا خام مال، دونوں ویج بھوجیا مصنوعات، فرائنگ لائن میں استعمال ہونے والا کوکنگ آئل اور  ’’وائی وائی ریڈی ٹو ایٹ نوڈلز‘ ‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میعاد ختم ہوچکی تیار مصنوعات کے  ۱۹۲۵؍ ڈبوں  کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کمپنی کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ کمپنی کو واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مناسب منظوری اور ضروری اصلاحی اقدامات مکمل کیے بغیر ویج بھوجیا نمکین مصنوعات کی پیداوار بند رکھے ۔ ریگولیٹر نے کہا کہ لیباریٹری ٹیسٹ کے نتائج اور معائنے کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات کی بنیاد پر  فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ ۲۰۰۶ء کے تحت مزید قانونی اور ضابطہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔ ایف ایس ایس اے آئی نے اسی روز کرناٹک کے بنگلورو میں واقع  برٹش لائف سائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ  کے خلاف بھی سخت کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے سَیف علی خان سے اپنے خاندانی رشتے کا انکشاف کیا

حکام کے مطابق کمپنی کے معائنے کے دوران   غلط لیبل والے اور میعاد ختم ہوچکے بچوں کے لیے تیار کردہ غذائی مصنوعات  پائی گئیں۔ ایف ایس ایس اے آئی نے بتایا کہ یہ کارروائی بچوں اور خصوصاً شیر خوار اور کم عمر بچوں کے لیے تیار کی جانے والی غذائی مصنوعات کی حفاظت اور ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔  ریگولیٹر کے مطابق بنگلورو میں فوڈ سیفٹی معائنے کے بعد برٹش لائف سائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف سخت ضابطہ جاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ بڑی مقدار میں غلط لیبل والی بچوں کی غذائی مصنوعات ضبط کی گئی ہیں اور کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK