جب تک ادیب بے ساختگی اور آزادی سے نہیں لکھتا، ادبی تخلیق ناممکن ہے

Updated: February 28, 2021, 6:26 PM IST | Mumtaz Sheri

جس چیز کے بنانے میں انسانی شعور کو دخل ہو وہ چیز صرف اپنی خاطر باقی نہیں رہتی، اس کا کچھ نہ کچھ مصرف ضرور نکل آتا ہے۔ اس لئے ادب برائے ادب کا فقرہ بہت ہی گمراہ کن ہے ۔ ادب زندگی کے لئے ہوتا ہے اور اپنے سماجی پہلو کے بغیر زندگی کا تصور نامکمل ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

جس چیز کے بنانے میں انسانی شعور کو دخل ہو وہ چیز صرف اپنی خاطر باقی نہیں رہتی، اس کا کچھ نہ کچھ مصرف ضرور نکل آتا ہے۔ اس لئے ادب برائے ادب کا فقرہ بہت ہی گمراہ کن ہے ۔ ادب زندگی کے لئے ہوتا ہے اور اپنے سماجی پہلو کے بغیر زندگی کا تصور نامکمل ہے۔ سماج افراد کا مجموعہ ہے۔ جب کبھی سماج کی بہتری کا خیال ہمارے ذہن میں ٓاتا ہے لامحالہ فرد کی بہتری کا خیال بھی ساتھ ہی ابھرتا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ افراد کی حالت گری ہوئی رہے اور سماج بہتر کہلائے۔ سماج کو بہتر بنانے کی جدوجہد فرد کی آزاد نشوونما اور ترقی ہی کیلئے ہوتی ہے۔ اس میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ فرد کی آزادی  ایک انصاف پرو ر معاشرے کی تشکیل کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتی بلکہ وجود ہی میں نہیں آسکتی۔ کوئی ایسا ادیب نہیں ہوگا جو اپنے معاشرے کی بہتری کی خواہاں نہ ہو اور اس مقصد کیلئے اپنے طریقے سے عمل پیرا نہ ہو۔ لیکن یہ یاد رہے کہ ادب کا کام دھڑے بندی اور افتراپردازی نہیں، ادیب کا کام لکھنا ہے ۔ یہی اس کی سب سے بڑی ریاضت ہے۔لیکن ذہنی آزادی کے بغیر یہ کام سرانجام نہیں پا سکتا۔ مصیبت تو یہ ہے کہ ایک خاص قسم کے احتساب کے حق میں  اور ذہنی آزادی کے خلاف جو دلیلیں پیش کی جاتی ہیں ان میں سرے سے یہ سمجھا ہی نہیں جاتا کہ ادب کیا ہے اور کیسے پیدا ہوتا ہے؟ وہ ادیب کو ایک طرف یا تو صرف تفریح نگار سمجھتے ہیں یا دوسری طرف محض پرچارک، جو کسی سیاسی پارٹی کی ہر آن بدلتی ہوئی پالیسی کے مطابق اپنی تحریریں بدل سکے۔
 ’’جبر‘‘ ادب پیدا نہیں کرسکتا۔ جب تک ادیب بے ساختگی سے اور آزادی سے نہیں لکھتا، ادبی تخلیق ناممکن ہے۔ ادبی تخلیق کو ذہنی ایمانداری سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ’’تخیل‘‘ قید میں بارآور نہیں ہوسکتا۔ جب ذہنی آزادی فنا ہوجاتی ہے تو ادب مر جاتا ہے۔ اب جہاں ذہنی آزادی کی بات آئی، تنگ نظری میں فوراً یہ تصور کرلیا جائے گا کہ اینگلو امریکن بلاک کے پلڑے میں وزن ڈالا جارہا ہے۔ اس لئے میں یہاں واضح کردوں کہ یہاں ادب کی بات ہو رہی ہے ، خواہ وہ پرولتاری ادب کے علمبردار ہوں یا   وہ جو ادب کو ایک خاص ڈگر پر چلانا چاہتے ہوں کہ ان کی ضابطہ پرستی سے ادب محض سیاست یا کسی خاص نظریے (آئیڈیالوجی) یا اس سے بھی تنگ حدود میں ایک پارٹی لائن کا محکوم بن کر رہ جائے۔ ادیب کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر سیاسی قوانین نافذ کرنا سیاسی مقصد کے لئے اس کی تخلیق کا گلا گھونٹنا ہے۔
 جو ادیب ادب کو بالکل سیاست سے ہم آہنگ کرنے کے اصول کو مانتا ہے اور اپنی تحریروں میں اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہے اسے گویا سیاسی پروگراموں سے زندگی کو لینا پڑتا ہے۔ پہلے سیاست کو دیکھنا پڑتا ہے ، زندگی  کو بعد میں۔ادب کا تعلق زندگی سے ہے۔ سیاست زندگی کا صرف ایک جزو ہے۔ زندگی کے ایک شعبے کی حیثیت سے ادب میں سیاست کا بھی گزر ضروری ہے۔ یہاں ادب کو سیاسی نہ بنانے سے میرا مطلب صرف یہ ہے کہ ادب محض کسی آئیڈیالوجی کا آئینہ یا کسی سیاسی پارٹی کا آلۂ کار بن کر نہ رہ جائے۔ یہ بھی نہیں کہ ادب کا سیاست سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔
 یہ عجیب و غریب اور احمقانہ سی بات ہوگی  اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس موجودہ دور میں، جب دنیا تہ و بالا ہورہی ہے، ادب کسی گوشے میں چھپ کر پناہ لے سکے گا۔ آج ادب گوشۂ فراغت میں پناہ نہیں لے سکتا۔ اہم معاشرتی اور سیاسی مسئلوں سے گریز ناممکن ہے۔ ایک ادیب کے لئے سماجی اور سیاسی شعور لازمی ہے۔ موجودہ دور میں ایک بڑا اہم مسئلہ ادیب کے سامنے یہ ہے کہ اس کا اپنے معاشرے سے کیا رشتہ ہے؟ خصوصیت سے ان تحریکات سے اس کا کیا رشتہ ہے جو موجودہ نظام کو بدلنا چاہتی ہیں؟ ادیب کاسماجی اور سیاسی شعور اس وقت بیدار ہے اس کے  باوجود وہ ایک ادیب اور ایک دانشور کی حیثیت سے اپنے آپ کو سیاست میں اس طرح  ضم نہیں کرسکتا جیسے کہ خالص سیاسی پارٹیوں کے ممبر کرسکتے ہیں۔ فنکار کی آزادیٔ اظہار کی خواہش اور سیاسی پارٹیوں کا محکوم بنادینے والا جبر اور احتساب…ٹریجڈی اسی تضاد کی ہے۔
 فنونِ لطیفہ کی ہر صنف میں فنی کارناموں کی تخلیق کرنے والے عموماً غیرمعمولی قابلیت کے افراد ہی ہوتے ہیں  ۔ ان کی تخلیقات پر اپنے معاشرتی اور سیاسی ماحول کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ پھر بھی یہ ایک انفرادی ذہن کی پیداوار ہوتی ہے اور اصل تخلیق ایک فرد کے ذہن میں نازک، نفسیاتی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آپ ایک ادیب کو قید میں ڈال دیجئے، جسمانی طور پر قید ہونے پر بھی وہ لکھ سکے گا (بلکہ کئی ادیبوں اور بڑے آدمیوں نے کتابیں نظربندی  کے دوران  میں لکھی ہیں) لیکن اس کی فکر پر پہرہ بٹھا دیجئے، اس کے ذہن کو ایک بیرونی احتساب کے ماتحت کردیجئے اور اسے مقررہ حدبندیوں میں جکڑ دیجئے  کہ ’’یہ لکھنا چاہئے، اس طرح لکھنا چاہئے، یوں لکھنا چاہئے‘‘ تو وہ یا تو ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکے گا یا مجبوراً ہدایت کے مطابق لکھے گا بھی تو بے روح چیزیں لکھے گا ، کسی جاندار فنی کارنامے کی تخلیق نہیں کرسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ Totalitarian   (مطلق العنان)ملکوں میں اور جہاں ڈکٹیٹر اور حکومتیں فنکار اور ادیب کو ایک سیاسی سنسر شپ کے ماتحت رکھنا چاہتی ہیں ، فن پنپ نہیں سکتا یا اس میں انحطاط اور پستی آجاتی ہے۔
 نپولین نے اپنے  دورِ حکومت میں فرانس میں سرکاری ادب نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے لکھا: ’’میرا ارادہ فن اور ادب کی راہ ایسے موضوعات کی طرف موڑنا ہے جو ان پچھلے پندرہ برسوں (یعنی اپنے دور) کے واقعات کی یادگار ہمیشہ کے لئے قائم رکھ سکیں۔‘‘ اور اس دور میں بہت پست درجے کے اوپرا بنے۔ ادب کا بھی یہی حال تھا کیونکہ ادیب اور فنکار کو کچھ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا اور اسے احکام کے مطابق کام کرنا پڑتا تھا۔ ایک ہی سال بعد نپولین نے خود اعتراف کیا کہ اس کے سرکاری اوپرا  نے ادب اور فن کے معیار کو نیچےگرادیا ہے۔ آخر نپولین اچھا ادبی ذوق رکھتا تھا، وہ خود ہی اپنے اس آفیشیل ادب کو تحقیر کی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔ سینٹ ہیلینا میں اپنے آخری  دنوں میں اس نے پھر راسین کی طرف رجوع کیا، ہومر کی طرف متوجہ ہوا لیکن اس ادب کی ایک چیز بھی نہیں پڑھی جو اس کے اپنے عہد کی یادگار قائم رکھنے کے لئے اس نے خود ہی لکھوایا تھا۔ ادب کے متعلق اس رویے کی ناکامی کی اس سے زیادہ واضح مثال اور کیا ہوسکتی ہے؟
 ہٹلر نے ادب اور فن کے لئے ایک قومی معیار بنایا اور اس Dogma  (عقیدہ) کی تبلیغ کی کہ  ’’ادب کی جڑیں قوم میں پیوست ہوتی ہیں ، آرٹ ، تہذیب و تمدن کا زیور نہیں، آرٹ قومیت کا امتحان اور ثبوت ہے۔ فنکار کو کسی زمانے یا وقت کی یادگار قائم نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنی قوم کی یادگار ۔ ہم ایسے فنکاروں کو ڈھونڈ نکالیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں گے جو جرمن ریاست پر جرمن نسل کی کلچری مہر ثبت کریں گے۔‘‘ ہٹلر نے سارے ملک میں ادیبوں اور ہر قسم کے فنکاروں کی نگرانی کرنے کیلئے ایک منظم جماعت قائم کردی تاکہ اس پر نظر رکھے کہ سارے فنکار اسی قومی معیار کے مدنظر انہی اصولوں کے مطابق  تخلیق کریں۔ اس نگرانی میں گسٹاپو کی بھی مدد لی جاتی تھی۔ اس رویے اور اس سلوک کا نتیجہ جتنا تباہ کن ہوسکتا تھا، ہوا۔ نازی فن اگر سستا، بھونڈا پروپیگنڈا نہ بن گیا تو پھیکا، بے جان اور مردہ ضرور رہا۔نازی فن کی طرح اطالوی  ’’فسطائی‘‘ فن کی بھی وہی حالت تھی۔ Totalitarianریاستوں میں سارے عناصر پر ایک مرکزی تسلط ہوتا ہے، یہاں تک کہ جمالیاتی قدریں اور فن اور ادب بھی اسی تسلط اور سرکاری محاسبے میں جکڑے جاتے ہیں۔ 
 پیرس میں یونیسکو کے افتتاحی اجلاس میں ژاں پال سارتر نے ایک مضمون پڑھا تھا: ’’ادیب کی ذمہ داری۔‘‘ اس میں وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ایک ادیب اور ایک سیاسی کارکن کا تقابلی مطالعہ کریںتو معلوم ہوگا کہ دونوں کے سامنے ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے لیکن سیاسی کارکن اکثر اپنے مقصد کے حصول کے لئے تشدد کے سوا اور کوئی ذریعہ اختیار نہیں کرتا۔ ادیب اس سے یقیناً ایک بلند سطح پر ہے کہ وہ آزادی اور انسانیت کی حکومت کا آدرش اپنے سامنے رکھے بھی تو اسے تشدد سے کام لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تشدد کا تو وہ سرے سے منکر ہے۔ جھوٹ، افترا، حقیقت کا مسخ کرنا یا اسے دبا دینا تشدد کی صورتیں ہیں۔ جہاں تشدد لفظوں کا ذریعہ اختیار کرتا ہے یہ ادب کی سطح نہیں بلکہ پروپیگنڈا اور اشتہاربازی کی پست سطح ہے۔  ایک ایسے دور میں، جب آزادی کو ہر گھڑی ہر طرف سے خطرہ ہے، اس کے توسیع ِ اثر کے لئے ایک ادیب جب تک کمربستہ نہیں ہوتا وہ ادب بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ لیکن ماحول کو بدلنے کے شدید جذبے کے بغیر یونہی تخلیقی آزادی چاہنا صرف حسن سے لطف اندوز ہونے کی آزادی چاہنے کے مترادف ہے، یعنی یہ ’’فن برائے فن‘‘ کی  حمایت ہے اور کوئی بھی ’’فن برائے فن‘‘ کا حامی نہیں ہوسکتا، اور اس طرح ادیب کی سماجی ذمے داری دوچند  بڑھ جاتی ہے لیکن جب تک اس کی انفرادیت کو ابھرنے کا موقع نہ ملے، ادیب کو سماجی ذمہ داری کا احساس ہو بھی نہیں سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فنکار کی علاحدہ شخصیت اور اس کی سماجی ہستی ایک ساتھ ہوجائیں۔ اس وقت ادیب محض سیاست کی پیداوار نہیں ہوں گے اور سیاسی مصلحت سازی  سے ہٹ کر انسانیت کیلئے ایک بلند آدرش قائم کرسکیں گے۔n 
(’’معیار تنقید‘‘ (۱۹۶۳ء)میں شامل طویل مضمون ’’سیاست، ادیب  اور ذہنی آزادی‘‘ کا ایک باب)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK